یو اے ای کے وزیر خارجہ کی بشارالاسد سے ملاقات، عرب ممالک کا شام سے مذاکرات کا عندیہ

بیروت: متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے دمشق میں شام کے صدر بشارالاسد سے ملاقات کی، جو اسد اور امریکا کی اتحادی عرب ریاست کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد رواں دہائی میں شام کا دورہ کرنے والے سب سے سینئر اماراتی عہدیدار ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے اس دورے پر تنقید کی ہے ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس ملاقات کی رپورٹس اور اس سے ملنے والے اشارے پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکی انتظامیہ بشارالاسد سے تعلقات بحال کرنے کے اقدامات کی کوششوں کے لیے کسی قسم کی حمایت کا اظہار نہیں کرے گی، جو ایک سفاک آمر ہیں‘۔ نیڈ پرائس نے ان کا بطور صدر ذکر نہیں کیا۔

شامی ایوان صدر کے ایک بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اماراتی حکام کے ایک وفد کی قیادت کی جس نے شامی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ شرکا نے اس تعاون کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر تبادلہ خیال کیا تاکہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی شراکت داری کو مضبوط کیا جاسکے۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ نے کہا کہ شیخ عبداللہ نے بشارالاسد کے ساتھ اپنی ملاقات میں ’شام کی سلامتی، استحکام اور اتحاد پر متحدہ عرب امارات کی گہری دلچسپی‘ پر زور دیا۔ انہوں نے شام کے بحران کے خاتمے، ملک میں استحکام اور برادر شامی عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت پر بھی زور دیا۔

اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ متحدہ عرب امارات پلوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے، تعلقات کو فروغ دے رہا ہے اور جو کچھ منقطع ہوگیا ہے اسے بحال کرنے کی کوشش جاری ہے۔ بشارالاسد کی اتحادی حزب اللہ کے زیر انتظام لبنان کے ’المنار ٹی وی‘ کے صحافی نے بتایا کہ دمشق کے ہوائی اڈے سے شہر تک سڑک پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کچھ عرب ریاستوں کی جانب سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں میں سب سے آگے رہا ہے اور رواں برس کے آغاز میں شام کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس نے 3 سال قبل دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولا تھا۔ امریکا کے اتحادی اردن اور مصر نے بھی تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں جب سے بشارالاسد نے روسی اور ایرانی مدد سے شام کے بیشتر علاقوں میں باغیوں کو شکست دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں