یورپی اراکین پارلیمنٹ کا بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کی انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر اظہار تشویش

برسلز۔: یورپی پارلیمنٹ کے 16 اراکین نے بھارت کے غیر قانونی زیرتسلط جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر یورپی کمیشن کو خط لکھا ہے اور کمیشن پراس معاملے پر اپنی آواز بلند کرنے پر زوردیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لیین اور نائب صدر جوزف بوریل کے نام خط میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کو ’’المی انسانی حقوق ، بنیادی آزادیوں اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام “ کے چیمپئن کی حیثیت سے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے جن سے کشمیری عوام بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ خط میں کہاگیا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے تمام بھارتی اور پاکستانی شراکت داروں کے تعاون سے عالمی برادری کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے وعدے کوپوراکرنے اورجموں وکشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا چاہیے ۔

یورپی اراکین پارلیمنٹ نے پاکستانی اور بھارتی قانون سازوں کے ساتھ ساتھ کشمیری رہنماوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ خطے میں امن و مذاکرات کےلئے سازگار ماحول کے قیام کیلئے ان پر زوردیاجاسکے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ کشمیریوں کواپنے مستقبل کے تعین کا حق دیا جانا چاہیے ۔ یورپی قانون سازوں نے خط میں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لیین اور نائب صدر جوزف بوریل پرزوردیا کہ وہ بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کی خلاف ورزیوں پراپنی شدید تشویش سے آگاہ کریں اور خطے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا سخت نوٹس لیں، بھارت ، پاکستان اور کشمیری قیادت کے درمیان مذاکرات کے ذریعے خطے میں ا من و استحکام کےلئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اہم مقصد کےلئے یورپی کمیشن کی صدر ان کا بھرپور ساتھ دیں گی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں