ہڑپہ: وادئ سندھ تہذیب کا عروس البلاد

بچپن میں درسی کتابوں میں پڑھا تھا کہ ہڑپہ اور موہن جو دڑو وادئ سندھ کی تہذیب کے اہم مراکز ہیں۔ اب چونکہ ٹریکننگ کے علاوہ آثارِ قدیمہ اور تاریخ سے شغف آج بھی ہے اس لیے جب بورے والا ٹریکرز میٹ اَپ سے واپسی ہو رہی تھی تو سوچا کیوں نہ تھوڑی زحمت اٹھا کر ‘ہڑپہ’ کے آثار کی سیر بھی کرلی جائے۔ ویسے بھی سوات سے ‘ہڑپہ’ آنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ سو ہم چل دیے۔
یہ سیر حقیقتاً سیر حاصل رہی، اور اس دوران جو کچھ پلّے پڑا، جو مواد ہاتھ آیا ذیل میں اس کا نچوڑ پیشِ خدمت ہے: اس کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں کئی روایات ملتی ہیں۔ کیوریٹر ہڑپہ میوزیم محمد حسن کی کتاب ‘آثارِ ہڑپہ’ میں اس قدیم مقام سے متعلق خاصی معلومات موجود ہیں۔ ہم نے بھی اس بلاگ کے لیے اس تصنیف سے خوب مدد حاصل کی۔ محمد حسن کے مطابق، ایم ویلر قدیم کتاب رِگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کا پرانا نام ‘ہری یوپیا’ تھا (سنسکرت میں اس کا مطلب ہے قربانی کے سنہری ستوں والا شہر) جو بگڑ کر ‘ہڑپہ’ بن گیا۔ آج کل یہی نام مشہور ہے۔ ایک قریبی دربار کے مجاور کے مطابق یہ شہر 3 دفعہ تباہ ہوا اور ہر دفعہ اس کا نام بدلا گیا۔ پہلے یہ ‘ہری روپا’ پکارا جاتا تھا، پھر ‘ہرپالی’ کہا جانے لگا اور آخر میں ‘ہرپال’ سے ‘ہرپابنا’ پکارا گیا جس کے بعد لوگوں نے اسے ‘ہڑپہ’ کہنا شروع کردیا۔ مصنف نے اس تاریخی مقام کے نام سے متعلق ایک بڑی دلچسپ بات لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ ہڑپہ پنجابی زبان کے لفظ ‘ہڑپ’ سے نکلا ہے جس کے معنی ‘کھا جانا’ یا ‘نگل جانا’ کے ہیں۔ چونکہ اس شہر پر تباہی آئی اور سارے کا سارا شہر تباہ ہوگیا تو مقامی لوگوں نے اسے ‘ہڑپ’ (غرق شدہ شہر) کہنا شروع کردیا، جو بعد میں ہڑپہ بن گیا۔ پھر پنجابی زبان کے لفظوں کی ترکیب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ یہاں ہڑ (سیلاب) بہت زیادہ آتے تھے (‘ہڑ’ پنجابی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سیلاب کے ہیں) تو مقامی لوگوں نے اس جگہ کو ‘ہڑپہ’ (پا کے معنی ڈھلنا کے ہیں) کہنا شروع کردیا۔ قدیم آثار کی دریافت کسی خزینے کو پانے سے کم نہیں ہوتی۔ یوں سمجھیے کہ یہ وہ اثاث ہیں جو قوموں میں جذبہ تفاخر پیدا کرتے ہیں۔ ہڑپہ کے کھنڈرات کو دیکھ کر ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ آخر اس مقام کو کس نے اور کب دریافت کیا تھا؟

محمد حسن اس معاملے میں ہماری رہنمائی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ‘ہڑپہ کے کھنڈرات کا ذکر سب سے پہلے ہمیں ایک انگریز سیاح میسن کے 1856ء کے سفرنامے میں ملتا ہے۔ دوسری بار 1833ء میں ان خاموش ٹیلوں کی روداد ایک مشہور سیاح مسٹر برنس نے اپنی کتاب ‘بخارا کا سفر’ میں لکھی لیکن 1856ء میں اس کا واضح ذکر ایک مشہور جغرافیہ دان اور ماہرِ آثارِ قدیمہ جنرل الیگزینڈر کننگھم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کیا، مگر حکومتِ وقت نے کننگھم کی رپورٹ پر تقریباً 50 سال تک کوئی توجہ نہیں دی‘۔

1856ء سے 1920ء تک یہاں کے آثار کو بڑی بے دردی سے نقصان پہنچایا گیا۔ غیر قانونی کھدائیوں میں ہاتھ آنے والی قدیم اینٹوں سے آس پاس کے لوگوں نے اپنی کچی پکی عمارتیں تعمیر کیں۔ ‘لاہور سے خانیوال تک ریلوے لائن بچھاتے وقت ٹھیکیداروں نے ہڑپہ کے ٹیلے کھود کر ہزاروں قیمتی اینٹیں نکال لیں اور ملبے سے لائن بچھانے کا کام لیا۔’ آثار کو اچھا خاصا نقصان پہنچنے کے بعد 1920ء میں اس وقت کی حکومت کو ہوش آیا اور اس نے سائٹ کو اپنی تحویل میں لے کر باقاعدہ طور پر کھدائی کا کام شروع کروایا۔ اب ہڑپہ سے ملنے والے آثار کو باقاعدہ طور پر سائنسی طریقے سے ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔

آثارِ قدیمہ کے اندر ایک چھوٹا سا عجائب گھر بھی تعمیر کردیا گیا ہے جس میں مختلف نوادرات کو بڑے بڑے شوکیسوں میں رکھا گیا ہے۔ آثارِ قدیمہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے گویا دلچسپی کا سامان ہیں۔ سطحِ سمندر سے 590 فٹ بلندی پر واقع ہڑپہ کے کھنڈرات کا کُل رقبہ 175 ایکڑ پر محیط ہے۔ پنجاب کے درالحکومت لاہور سے ہڑپہ 190 کلومیٹر دُور ہے۔ اسی طرح ساہیوال سے یہاں پہنچنے کے لیے محض 27 کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ہڑپہ کے کھنڈرات ہڑپہ کے ریلوے اسٹیشن سے 6 کلومیٹر شمال میں واقع شاہراہِ شیر شاہ سوری پر واقع ہیں۔

محمد حسن کے مطابق ہڑپہ کے آثار کو 3 مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:

ابتدائی دور 3500 قبلِ مسیح تا 2700 قبلِ مسیح
ترقی یافتہ دور 2600 قبلِ مسیح تا 1900 قبلِ مسیح
آخری دور 1800 قبلِ مسیح تا 1500 قبلِ مسیح

ہڑپہ میوزیم کے گائیڈ شاہد نے ہمیں پتے کی کئی باتیں بتائیں، جن میں ہڑپہ کے قبرستانوں کے بارے میں قابلِ قدر معلومات کا حصول ممکن ہوا۔ شاہد کے مطابق ہڑپہ کے آثار میں 2 بڑے قبرستان بھی ہیں جن سے ملنے والے نوادرات کو میوزیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ محمد حسن کے مطابق تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ہڑپہ کے آباد کار اپنے مُردوں کو 3 طریقوں سے دفناتے تھے۔

مکمل تدفین: جس میں عام قبر بنا کر اس میں مُردے کو دفن کیا جاتا تھا جس طرح آج کل مسلمان دفن کرتے ہیں۔

جزوی تدفین: جس میں مُردے کو باہر جنگل میں چھوڑ دیا جاتا، جب جانور اور پرندے اس کا گوشت نوچ لیتے، تو ہڈیوں کو مٹی کے پختہ برتن میں رکھ کر دفن کردیا جاتا تھا۔

خاکستری مدفن: لاشوں کو جلا کر ان کی راکھ کسی برتن میں رکھ کر دفن کردیتے تھے۔ ان میں انسانی ہڈیاں بہت کم ملی ہیں۔

شاہد نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ہڑپہ میں مُردوں کو دفنانے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے استعمال کی اشیا اور سامانِ آرائش و زیبائش کو بھی دفنایا جاتا تھا۔

ڑپہ آثار کی تفصیل کافی طویل ہے، جس پر مباحثہ ایک مکمل کتاب کا متقاضی ہے۔ یہاں تحریر کی تنگ دامنی کے پیشِ نظر صرف ان کے نام اور مختصراً وضاحت درج کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تفصیل درج کرنے میں ہڑپہ میوزیم کے کیوریٹر محمد حسن کے کتابچے ‘آثارِ ہڑپہ’ اور اُنہی کے لکھے ہوئے ایک مقالے ‘ہڑپہ، وادیِ سندھ تہذیب کا عروس البلاد’ سے مدد لی گئی ہے:

علاقہ آر 37: یہ ہڑپہ تہذیب کا قبرستان تھا اور عہدِ قدیم میں ہڑپائی باشندوں کی تدفین کے لیے مختص تھا۔

علاقہ ایچ: یہ ان لوگوں کا قبرستان تھا، جو سندھ کی تہذیب کے آخری دور (1900 قبلِ مسیح) کے بعد یہاں رہتے تھے۔

ٹیلہ اے بی: اس ٹیلے کی کھدائی سے یہاں کے لوگوں کے طرزِ تعمیر کا پتا چلا تھا۔

فصیلِ شہر پناہ: اس فصیل سے اس دور کے باسیوں کے دفاعی نقطۂ نظر کا پتا چلتا ہے۔ اس طرح یہ فصیل شہر کو دریا کے تھپیڑوں سے بچانے میں معاون تھی۔

مزارِ نو گزہ: یہ ایک بزرگ کا مزار ہے جس کی لمبائی 9 گز سے زیادہ ہے۔ بزرگ کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ کوئی انہیں صحابی کہتا ہے اور کوئی محمد بن قاسم کے زمانے میں تبلیغ کے لیے آیا ہوا اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ۔

قدیمی مسجد: یہ مغل دور کی مسجد کے آثار ہیں جسے 1526ء تا 1707ء کے درمیانی عرصے میں تعمیر کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں