ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے، کرپٹ نظام کی پیداوار اپوزیشن جماعتیں تبدیلی کی مخالف ہیں ، ہم تبدیلی لے کر آئیں گے، آزادانہ، صاف اور شفاف الیکشن جمہوریت کی بنیاد ہیں، وزیراعظم عمران خان کا اراکین پارلیمان سے خطاب

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ مافیاز کے ساتھ ہے، کرپٹ نظام کی پیداوار اپوزیشن جماعتیں تبدیلی کی مخالف ہیں لیکن ہم تبدیلی لے کر آئیں گے، آزادانہ صاف اور شفاف الیکشن جمہوریت کی بنیاد ہیں، پاکستان کی گزشتہ 50 سالہ تاریخ میں ہر الیکشن متنازعہ ہوئے، الیکٹرانگ ووٹنگ مشین سے دھاندلی کے الزامات کا خاتمہ ہو گا، الیکشن کمیشن اور اپوزیشن کی طرف سے ای وی ایم کی مخالفت بلاجواز ہے، مافیاز سے لڑے بغیر کوئی قوم ترقی کے سفر پر گامزن نہیں ہو سکتی، ارکان پارلیمان تبدیلی کا ساتھ دیں، پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی منزل حاصل کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اراکین پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ اپنی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے سیاست میں آنے کا مقصد پاکستان کو مثالی فلاحی ریاست بنانا تھا، قائداعظم کا خواب تھا کہ پاکستان ایک عظیم ملک اور دنیا کیلئے مثال بنے، حضور اکرم ﷺ ۖنے پہلی فلاحی ریاست قائم کی اور اسلامی معاشرے اور ریاست کے اصول اور خدوخال وضع کئے، حضور اکرم ۖ ﷺ پوری دنیا کے انسانوں کیلئے رحمت بن کر آئے اور دنیا کو وہ رہنماء اصول دیئے جن پر عمل کرکے کوئی بھی قوم ترقی اور کامیابی کی منزل حاصل کر سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومیں اخلاقیات کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں، جو قومیں اخلاقی بلندی پر ہوتی ہیں انہیں ایٹم بم مار کر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، جرمنی اور جاپان نے تباہی کا شکار ہونے کے باوجود ترقی کی کیونکہ ان کی اخلاقیات بلند تھیں جبکہ بیروت جسے پیرس آف مڈل ایسٹ کہا جاتا تھا، آج کرپشن کی وجہ سے ناکام ریاست ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 1970ء کے بعد تمام انتخابات متنازعہ ہوئے کیونکہ ہارنے والے اپنی شکست تسلیم نہیں کرتے تھے، ہم پارلیمان کے حالیہ سیشن میں جو بل لے کر آئے ہیں اس کا مقصد عام انتخابات کو صاف و شفاف بنانا ہے، اصلاحات کرنا حکومت کا کام ہے، 50 سال میں صاف شفاف انتخابات کیلئے کسی نے کوشش ہی نہیں کی، ہم نے 2013 کے الیکشن میں دھاندلی ثابت کرنے کیلئے صرف چار حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا جسے تسلیم نہیں کیا گیا جس کے خلاف ہم نے 126 دن دھرنا دیا، چار حلقوں سے ہماری حکومت نہیں بن جانی تھی، ہمارا مقصد یہ تھا کہ آئندہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں سابقہ حکومت کا تشکیل دیا گیا الیکشن کمیشن تھا مگر انہوں نے ہی دھاندلی کا الزام بھی لگایا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن میں کیا ہوتا ہے سب کو پتہ ہے، پیسے لینے کی ویڈیوز دکھائی گئیں مگر کچھ نہیں ہوا، الیکشن کمیشن نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا، اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہماری اخلاقیات کہاں پہنچ گئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تصدیق شدہ ووٹ کی بات ہوئی تو ساری اپوزیشن نے مخالفت کی، ہم چاہتے ہیں کہ سینٹ میں اوپن بیلیٹنگ ہو، خفیہ رائے شماری میں پیسہ چلتا ہے اس لئے اپوزیشن اس کی حمایت کرتی ہے، ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کیلئے کام کر رہے ہیں تاکہ انتخابات شفاف ہوں، انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد رزلٹ کے عمل کے دوران دھاندلی ہوتی ہے، ڈبل سٹیمپ کرکے ہرایا جاتا ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے دھاندلی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو بار بار انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے تجاویز دینے کی دعوت دی لیکن ڈیڑھ سال سے اپوزیشن نے انتخابی شفافیت کے حوالہ سے کوئی تجویز نہیں دی، اس کے برعکس اپوزیشن اور الیکشن کمیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بلاجواز مخالفت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم یہ بل اپنے لئے نہیں لا رہے بلکہ سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے لا رہے ہیں کیونکہ اس سے انتخابی تنازعات ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے ہمیشہ اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انصاف کرنے کی اخلاقی قوت نہ رکھنے والی قوم کبھی عظیم نہیں بن سکتی، اخلاقی قوت کے بغیر طاقتور مافیاز کو قانون کے ماتحت نہیں لا سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کرپٹ سسٹم کی پیداوار اپوزیشن جماعتیں تبدیلی نہیں آنے دینا چاہتیں لیکن ہم تبدیلی لا کر رہیں گے، ارکان پارلیمان اس معاملہ پر حکومت کا ساتھ دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مافیاز ایسا سسٹم نہیں چاہتے جس سے ان کا پیسہ نہ چل سکے اس لئے ارکان پارلیمان صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے قانون سازی کی حمایت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں