کیا پاکستان کے ٹین بلین ٹری سونامی منصوبہ سے کوئی فرق پڑسکتا ہے

پشاور کے اطراف موجود 20 میل طویل جھاڑیاں اس وقت ویرانے کا منظر پیش کررہی ہیں تاہم محکمہ جنگلات پرامید ہے کہ یہاں جلد جنگلات لگادئیے جائیں گے۔ برطانوی جریدے ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات کے افسر عثمان خان نے بتایا ہے کہ فائرنگ رینج کی پرانی جگہ کا رقبہ 5000 ایکڑ ہے اور یہ سیمنٹ پلانٹ کے نزدیک موجود ہے۔ اس جگہ کو کارآمد بناتے ہوئے یہاں درخت اگائے جائیں گےاور اگلے 10 سے 15 برس میں یہاں سرسبز جنگل ہوگا۔ پشاور میں موجود یہ مقام ملکی سطح پردرخت لگانے کے پروگرام کا حصہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نئے جنگلات لگانے اور پرانے جنگلات کی بحالی کے عزم کا بارہا اظہار کیا گیا۔

نمبروں کا اعدادوشمار اور جاذب نظر نام نے برطانوی حکومت کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کروالی۔ برطانیہ نے اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کی حالیہ کانفرنس کی سربراہی کی۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اقوام متحدہ میں رواں سال ستمبر میں بتایا تھا کہ وہ اس منصوبے سے بہت متاثر ہوئے اور دنیا کے دیگر ممالک کو دعوت دی کہ پاکستان کے ان منصوبے کو مثال کے طور پر اپنائیں ۔ انھوں نے کہا کہ گلاسکو میں موسمیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں درخت لگانے کے یہ میگا منصوبے ایجنڈے کا حصہ ہونے چاہئے۔ برطانیہ بھی اس عزم کا اظہار کرچکا ہے کہ کاربن کے اخراج کی شرح کم کرنے کےلیے درخت اگانے کا اپنا منصوبہ شروع کرے گا۔ ان منصوبوں کے حق میں موجود ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے منصوبوں سے نایاب جانوروں کے افزائش سمیت زمین کا کٹاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ مقامی افراد کو ذریعہ معاش میسر ہوگا اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی خطرناک شرح کا قابو کرنے میں مدد ملے گی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے منصوبوں کےلیے احتیاط نہیں برتی گئی تو یہ قابل ذکر فوائد نہیں دے سکتے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان منصوبوں سے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچے اور موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے اصل ہدف سے دوری ہوجائے۔ درخت اگانے کا صبر آزما مرحلہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شرح کم کرنے میں اس لئے بھی دشوار ہوسکتا ہے کیوں کہ درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ٹیلی گراف کو ریڈنگ یونی ورسٹی کے پروفیسر مارٹن لیوکیک نے بتایا کہ درخت لگانے کے یہ منصوبے کئی عشروں پہلے شروع کئے گئے اور اکثر ناکامی سے دوچارہوئے۔ ان منصوبوں سے پیچیدہ مسائل کا آسان حل تلاش کیا گیا جو کہ ممکن نہ ہوا۔ ایک اور ماہر ڈاکٹر ہارڈوک نے بتایا کہ اہم بات یہ ہے کہ نئے جنگل لگانےسے بہتر یہ ہے کہ پرانے جنگلات کو محفوظ بنایا جائے۔ پہلے سے موجود جنگلات میں جنگلی حیات موجود ہوتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ذخیرہ کرنے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ نئے جنگلات لگانے کے نتائج آنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

ایمپریل کالج کےڈاکٹر ڈیوڈ سلوسن نے بتایا کہ اکثرنئے درختوں کی بڑی تعداد ختم ہوجائے گی اور اس لئے ضروری یہ ہے کہ درختوں کو قدرتی انداز میں اگانا چاہئے۔ پاکستان میں موجود اس منصوبے کے کرتا دھرتا نے اعتراف کیا ہے کہ بہت چیلنجزدرپیش ہیں تاہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ اس منصوبے کا آغاز خیبرپختونخوا میں 1 ارب درخت لگانے کے منصوبے سے کیا گیا جس کےبعد اس کا دائرہ ملک بھر میں وسیع کرتے ہوئے اس کی تعداد بڑھائی گئی۔ صوبائی محکمہ جنگلات کے ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر محمد ابراہیم نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت آدھے سے زیادہ درخت اگائے نہیں جائیں گے مگر پہلے سے موجودہ جنگلات کا تحفظ کیا جائے گا۔ گاؤں دیہات میں جاکر علاقہ مکینوں کو جنگلات کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا اور مقامی افراد میں سب منتخب لوگوں کو ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ درختوں کا کٹاؤ روکنا یقینی بنائیں۔

اس کے علاوہ مویشیوں کو سبزہ چرنے اور گھانس اگانے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔اس سے بیجوں کو آبیاری میں مدد ملے گی اور جنگلات مزید سرسبز ہوسکیں گے۔ نئے جنگلات پہلے سے موجود درختوں کے اطراف لگائے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں