کیا وینٹی لیٹرز کے بغیر اسپتال چل سکتے ہیں: چیف جسٹس

رسائی نیوزلاہور: سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سرکاری اسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی کمی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد عدالت میں پیش ہوئیں تو اسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی کمی پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا کہ وینٹی لیٹر کی خریداری سے متعلق سمری وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے پاس پڑی ہے۔ چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کتنی سمریاں وزیراعلی کے پاس التوا میں ہیں، وینٹی لیٹرز کو مزاق سمجھا ہوا ہے، ہم وزیراعلی کو سمری سمیت بلا لیتے ہیں اور یہیں بیٹھا کر سمری منظور کرواتے ہیں۔یاسمین راشد نے جواب دیا کہ پچھلی حکومت کے وزیر نے سمری پر دستخط نہیں کیے اور موجودہ وزیر پیپرا رولز کے تحت دستخط نہیں کرسکتی۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرانا وزیر کہتا کہ وہ پرانی تاریخ میں دستخط نہیں کرے گا، کیا وینٹی لیٹرز کے بغیر اسپتال چل سکتے ہیں، یہ بد قسمتی ہے کہ امیر کو وینٹی لیٹر لگانے کے لیے غریب کا اتار دیا جاتا ہے، نجی اسپتال آئی سی یو کے بیڈ کا 23 ہزار اور وینٹی لیٹرز کا 5000 لیتے ہیں، حالانکہ یہ مفت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔یاسمین راشد نے کہا کہ 10 دن میں سمری منظور کرالیں گے۔ سپریم کورٹ نے 279 وینٹی لیٹرز منگوانے کے لیے پنجاب حکومت کو 4 ماہ کا وقت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں