کیا عدالت نیب آرڈیننس ردی کی ٹوکری میں پھینکے گی یا؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نیب ترمیمی آرڈیننس کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کیے جانے کے بعد قانونی ماہرین بھی اسے آئین سے متصادم قرار دے رہے ہیں کیونکہ انکے خیال آرڈیننس فرد واحد کے گرد گھومتا ہے اور اس میں صدر کے منصب کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ لہازا قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر کسی خفیہ ہاتھ کا دباو نہ آیا تو سپریم کورٹ اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔

نیب ترمیمی آرڈیننس بارے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد متنازعہ نیب چیئرمین کو بھونڈے طریقے سے توسیع دینا تھا اور بظاہر کپتان حکومت نے یہ مقصد حاصل کر لیا ہے لیکن اب بول سپریم کورٹ کی کورٹ میں جانے والی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے اس صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ چیئرمین نیب ایک انتظامی عہدہ ہے اور آئین کے تحت اس پر تعیناتی کے لیے وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کرنا ہوتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے جایا جاتا اور وہاں اس کا کوئی حل نکالا جاتا۔

اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کا یہ اصولی موقف ہے کے قانون میں چیئرمین نیب کے عہدے میں توسیع کی کوئی شق موجود نہیں ہے اور صدارتی آرڈیننس صرف ایک شخص کی ذات کے گرد گھوم رہا ہے جس کی ملکی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا اپوزیشن والے سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں حکومت کمزور وکٹ پر ہے اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے پر یا تو حکومت کو آرڈیننس واپس لینا پڑے گا یا عدالت اسے خود ہی غیر آئینی قرار دے دی گئی کیونکہ سپریم کورٹ اپنے ایک فیصلے میں کہہ چکی ہے کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی میں وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان بامقصد مشاورت ضروری ہے۔

خیال رہے کہ صدر عارف علوی کی طرف سے نیب آرڈیننس 1999 میں کچھ ترامیم کر کے ایک ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے جس کو نیب آرڈیننس ترمیمی ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا ہے۔ اس آرڈیننس کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے نہ صرف مسترد کر دیا ہے بلکہ اد پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک ریکوزیشن بھی جمع کروا دی ہے جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد ارکان اسمبلی کے دستخط موجود ہیں۔ صدارتی ترمیمی آرڈیننس جاری ہونے سے پہلے نیب آرڈیننس میں لکھا ہوا تھا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی کے لیے لیڈر آف دی ہاؤس یعنی وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں لیڈر آف دی اپوزیشن کے درمیان ’بامقصد مذاکرات‘ کے بعد ہی چیئرمین نیب تعینات ہوگا۔ اس معاملے میں فریقین کی طرف سے دیے گئے تین تین ناموں پر غور ہوگا جس میں سے کسی ایک پر اتفاق کرنا ضروری ہے۔

اب نیب کے ترمیمی آرڈیننس میں یہ شق تبدیلی کی گئی ہے اور اسمیں صدر کو شامل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب صدر مملکت وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے ساتھ نیب کے چیئرمین کے لیے مختلف ناموں پر غور کریں گے۔ اگر دونوں کے درمیان کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہوا تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جائے گا جو اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ خیال رہے کہ اس سے پہلے ماضی میں جتنے بھی چیئرمین نیب مقرر ہوئے ہیں ان میں صدر کا کردار صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے کی حد تک محدود تھا جبکہ اس ترمیمی آرڈیننس میں صدر کو نہ صرف مشاورت میں کردار دیا گیا ہے بلکہ پارلیمانی کمیٹی کا کردار بھی پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں جسٹس ریٹائرڈ دیدار حسین شاہ کو چیئرمین نیب مقرر کیا گیا تھا جس پر تب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان یہ معاملہ سپریم کورٹ لے گئے تھے۔ عدالت نے اپوزیشن لیڈر نے کی درخواست منطور کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسٹس دیدار حسین شاہ کی بطور چیئرمین نیب تقرری میں قائد حزب اختلاف سے ’بامقصد مشاورت‘ نہیں کی گئی لہذا اسے غیرآئینی قرار دیا جاتا ہے۔

حالیہ ترمیمی آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک نیب کے نئے چیئرمین کا تقرر نہیں ہو جاتا تب تک موجودہ چیئرمین اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔ اصل نیب آرڈیننس میں چیئرمین نیب کے پاس لامحدود اختیارات ہوتے تھے جس میں گرفتاری سے لے کر کسی کے خلاف انکوائری شروع کرنے اور ریفرنس دائر کرنے کے اختیارات بھی شامل تھے لیکن ترمیمی آرڈیننس میں ان اختیارات کو محدود کر دیا گیا ہے۔ اب یہ اختیار پراسکیوٹر جنرل کو دے دیا گیا ہے جس کے تحت اگر پراسیکیوٹر جنرل یہ سمجھتا ہے کہ کسی کے خلاف شروع کی گئی انکوائری یا دائر کیا گیا ریفرنس غلط ہے تو وہ اسے ختم کر سکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے اس اقدام کے لیے چیئرمین نیب کی اجازت لینا ضروری تھی۔ اس کے علاوہ اگر کسی کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا ہو تو اس کو واپس لینے کے لیے متعلقہ عدالت کے جج کی اجازت لینا ضروری تھی۔ اس ترمیمی آرڈیننس کے تحت متعلقہ عدالت کے جج کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل مظفر عباسی کے مطابق اس ترمیمی آرڈیننس میں پراسیکیوشن کے محکمے کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر استغاثہ کا گواہ عدالت میں نہیں پیش ہو سکتا تو اس کا بیان آڈیو یا ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ریکارڈ کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ اگر وہ اپنا بیان کسی بیان حلفی پر لکھ کر دینا چاہتا ہے تو اس کو بھی درست تصور کیا جائے گا جبکہ اس سے پہلے استغاثہ کے گواہ کا متعلقہ عدالت کے جج کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانا ضروری تھا۔

اس ترمیمی آرڈیننس میں احتساب عدالت کو بھی کسی ملزم کی ضمانت لینے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے احتساب عدالت کے جج کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں تھا اور کوئی بھی ملزم ضمانت حاصل کرنے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتا تھا۔ نیب آرڈیننس 1999 میں اختیارات کے ناجائز استعمال کی کوئی تشریح نہیں کی گئی تھی یعنی اگر کسی نے قواعد کی بھی خلاف ورزی کی ہے تو اس کو اختیارات کے ناجائز استعمال کے زمرے میں لاتے ہوئے اور اس کی نیت کو درست تسلیم نہ کرتے ہوئے اس شخص کو نہ صرف گرفتار کیا جاتا بلکہ اس کے خلاف تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا جاتا۔

اس کے برعکس ترمیمی آرڈیننس میں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ ملزم نے یہ کام ذاتی مفاد میں کیا ہے تب تک اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ترمیمی آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے اچھی نیت سے کام شروع کیا اور اس کے مطلوبہ نتائج نہیں نکل سکے تو اس کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہو گی۔ صدارتی آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیب کی عدالتوں میں جب کسی کے خلاف ریفرنس دائر ہو جائے تو وہ چھ ماہ میں اس کا فیصلہ کریں جبکہ اس سے پہلے نیب عدالتوں کو ایسی کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں اور عدالتی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ پانچ پانچ برس تک احتساب عدالتوں سے مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے تھے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس ترمیمی آرڈیننس کے بارے میں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں