کیا باغی کہنے سے عشاقِ رسول ختم ہوجائیں گے؟

ایک رات نمازِ تہجّد کے بعد سلطان نور الدین زنگی نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریمؐ دو سرخی مائل رنگت کے آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے سلطان سے کہہ رہے ہیں کہ ’’مجھے ان کے شر سے بچاو‘‘۔ سلطان ہڑبڑا کر اٹھا۔ وضو کیا، نفل ادا کیے اور پھر اس کی آنکھ لگ گئی۔ خواب دیکھنے کے بعد آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اس کا اب کسی سے ذکر نہ کریں اور فوراً مدینہ روانہ ہوجائیں۔ ’’اگلے روز سلطان نے بیس مخصوص افراد اور بہت سے تحائف کے ساتھ مدینہ کے لیے کوچ کیا اور سولہویں روز شام کے وقت وہاں پہنچ گیا۔ اس کا ذکر شیخ محمد عبد الحق محدث دہلویؒ نے بھی اپنی کتاب ’’تاریخ مدینہ‘‘ میں تین بڑی سازشوں کے ساتھ کیا ہے جس میں سے یہ واقعہ سب سے مشہور ہے۔ مسیحیوں نے یہ سازش 557ھ میں مرتب کی۔ اس وقت شام کے بادشاہ کا نام سلطان نور الدین زنگی تھا۔ لیکن مدینہ پر لکھی جانے والی ہر تاریخ اس واقعے کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے اسی لیے اس کی سند کی برسوں بعد بھی کسی کو ضرورت نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے اس کی تفصیل پورے عالم اسلام میں کم و بیش تمام مسلمانوں کے علم ہے کہ نورالدین زنگی نے کس طرح رسول کریمؐ کے خلاف شر کرنے والوں کی گردن اُڑا دیں‘‘۔ سلطان نور الدین زنگی نے اس کے بعد حکم دیا کہ ’’آ رام گاہے اقدسؐ‘‘ کے گرد ایک خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بدبخت ایسی مذموم حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔ آج بھی ایسے ہی کسی حکمران کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے ’’پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے‘‘ ہر اس فساد کو جو ’’ختمِ نبوت‘‘ کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے لیکن اس کے برعکس آج پاکستان کے مسلم حکمران اور ریاست یہ اعلان کر رہی ہے کہ ہر اس شخص کو جس نے توہین آمیز خاکے بنانے والے اور آسیہ ملعون کو فرانس کی شہریت دینے والے کو ملک بدر کرنے یا ان کے خلاف بولنے کی جسارت کی اس کو ’’پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے گا‘‘۔ وہ دہشت گرد ہے اور اس سے ملک کے خلاف بغاوت کر نے والوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ دو دنوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران کر رہے ہیں جن کا دستور چیخ چیخ کر اعلان کر رہا ہے کہ قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون ملک میں نہیں بن سکتا لیکن عشقِ رسول کریم میں ڈوبی ہوئی ہماری حکومت کہہ رہی ہے کہ فرانس سے تعلقات ختم کر دیں گے تو بھوکے مرجائیں گے۔ ٹی ایل پی کے تمام ہی مرکزی، ضلعی اور علاقائی عہدیداروں کے نام انسداد دہشت گردی کے قانون 1997 میں ڈال دیے گئے ہیں جس کے مطابق اگر کوئی خفیہ ادارہ صوبائی حکومت کو کسی ایسے شخص کے بارے میں بتائے جس کی دہشت گرد تنظیم سے بالواسطہ یا بلا واسطہ وابستگی ہو تو اْسے ایک لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے جسے شیڈول فورتھ کہا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق سیکورٹی ادارے (پولیس، اسپیشل برانچ اور سویلین انٹلی جنس) شیڈول فورتھ میں شامل افراد کی نقل و حرکت، کاروبار اور تقریر پر کڑی نظر رکھیں گے، فہرست میں نام شامل ہونے کے بعد متعلقہ شخص اپنی نقل و حرکت کے بارے میں اپنے ضلعی پولیس آفیسر کو آگاہ کرے گا۔ اس حوالے سے سینئر وکیل اور قانون دانوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون تب لاگو ہو سکتا ہے جب کسی فرد کا ایک ایسی تنظیم سے تعلق ہو جو حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی ہو یا اْس تنظیم کی نگرانی کی جا رہی ہو تو صوبائی حکومت اْس شخص کے متعلق وزارت داخلہ کو سفا رشات بھیجے گی اور اْسی کی سفارشات کے نتیجے میں متعلق شخص کا نام شیڈول فورتھ لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اس لسٹ میں نام شامل ہونے کے بعد مذکورہ شخص اپنے ضلعی ڈی پی او کو شیورٹی بانڈ دے گا اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو متعلقہ پولیس اْسے گرفتار کر سکتی ہے اور پھر عدالت کے سامنے پیش کرے گی، عدالت اْس سے ضمانتی مچلکے لینے کا حکم دے گی۔ سوال یہ ہے چند دن قبل وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تحریک لبیک ایک سیاسی جماعت ہے۔ لیکن کابینہ کے اجلاس 28اکتوبر کو ٹی ایل پی پر جو الزامات لگائے ہیں اس سے دو دن قبل 26اکتوبرکو وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے تحریک کے سربراہ سعد رضوی سے ملاقات کی تو یہ الزامات کہاں تھے اور وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے ملاقات کے بعد ان الزامات کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیخ رشید فرانس کے صدر کے توہین ِ رسالت کو بھلانے کا مطالبہ لے کر گئے تھے اور سعد رضوی نے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد ہر میدان میں ناکام حکمرانوں نے ٹی ایل پی کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا اور اب ختم ِ نبوت کی تحریک چلانا بھی پاکستان میں بغاوت ہوگی لیکن ہمارے حکمرانوں کو اس بات کا علم شاید نہیں ہے پاکستان کے مسلمانوں کے لیے توہین رسالت کا مجرم صرف اور صرف واجب القتل ہے اور یہ قانون پاکستان کی قومی اسمبلی سے منظور شدہ ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے امیر مولانا مفتی محمد حسن، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا عزیزالرحمن ثانی، مولانا راشد مدنی، مولانا عبد الحکیم نعمانی، مولانا عبد النعیم ودیگر نے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا اور بد نام کرنے کی گھنائونی سازشوں میں مصروف قادیانیوں کے متعلق آئینی ترامیم اور اسلامی قوانین اور دینی اقدار کو لادین قوتوں کی اور سیکولرطاقتوں کی وجہ سے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ یہ بیان بھی بر وقت اور موقع کی مناسبت سے آیا ہے جب ساری ہی حکومت میں موجود سیکولر طاقتوں نے اسلام پسندوں کے خلاف کابینہ کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کو بھی اپنی ان سازشوں میں شریک کرنے فیصلہ کر لیا جس کے مطابق شیخ رشید نے بتایا تھا غیرملکی طاقتیں پاکستان پر پابندیاں لگانا چاہتی ہیں، کالعدم تحریک لبیک والے عسکریت پسند ہوچکے ہیں، لیکن آزاد ذرائع ان خبروں کی تردید کر رہے ہیں اس لیے حکمرانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معیشت کا تعلق فرانس یا یورپی یونین سے نہیں ہے۔ ہمارے حکمران پاکستان کے عوام کو ہمیشہ اس بات سے خوفزدہ کرتے رہے ہیں کہ آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط ملک کی اقتصادی بقا و سلامتی کے لیے ضروری ہیں لیکن 1962ء سے آج تک آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط نے ملک اقتصادی بقا و سلامتی اور اب تو ملک کی سرحدوں کی حفاظت بھی مشکل بنتی جارہی ہے۔ اس لیے ریاست کو شیخ رشید اور فواد چودھری جیسے وزیروں اور جھوٹے وزیر ِ اعظم اور صدر سے دور رہنا ہو گا۔ تاریخ کے عالموں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبد العزیز کے سوا نور الدین سے زیادہ بہتر فرمانروا نظر سے نہیں گزرا۔ ہماری ریاست ایسی ہی بن کر پاکستان کو ترقی و کامرانیوں سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ حکمرانو! کیا باغی کہنے سے عشاقِ رسول ختم ہوجائیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں