کورونا وائرس کی وبا کے باعث ساری دنیا میں مہنگائی ہے، پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے ، عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں، وزیراعظم عمران خان

اٹک ۔: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث ساری دنیا میں مہنگائی ہے، پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے ، عام آدمی کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں، 13 کروڑ افراد کو احساس راشن پروگرام کے تحت اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دیں گے، شوگر ملوں نےسٹے آرڈر لے رکھے ہیں ، ملیں بنداور ذخیرہ اندوزی کر کے چینی کی قیمت بڑھائی ہے ، پنجاب حکومت فوری طور پر سٹے آرڈر ختم کرائے ، مارچ تک پنجاب میں ہر شہری کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو گا، ہم آنے والی نسلوں کے لئے سوچ رہے ہیں، تنقید کرنے والے 5 سال بعد ہماری کارکردگی کا جائزہ لیں، پسماندہ علاقوں کی حالت بدل دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں زچہ بچہ ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعطم نے کہا کہ زچہ بچہ ہسپتالوں کی دور دراز علاقوں میں اشد ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر صحت پنجاب کو اس ہسپتال کے منصوبے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اگر حکومت خواتین کو زچگی کے دوران علاج کی سہولت فراہم نہیں کرسکتی تو یہ بڑے شرم کی بات ہے۔ دور دراز علاقوں میں خواتین کو صحت کی سہولیات کے مسئلہ کاسامنا ہے۔ پنجاب میں 5 زچہ بچہ ہسپتال بنا رہے ہیں۔ ہر حکومت کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ اپنے اقتدار کے پانچ سالوں کےدوران ان علاقوں کو ترقی دیں جو ماضی میں پسماندہ رہ گئے ۔

وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے ماضی میں تمام علاقوں کی ترقی پر توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جب ہماری حکومت بنی تو تین سال تک ہم یہی طعنے سنتے رہے کہ کہاں ہے نیا خیبر پختونخوا؟ 30 سال قبل ہم برصغیر میں سب سے آگے تھے ، گزشتہ تیس سالوں کےدوران ملک بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی پیچھے چلا گیا اور 2 حکمران خاندان امیر ترین ہوتے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم نے 5 سالوں میں نیاخیبر پختونخوا بنایا اس کے نتیجہ میں صوبہ کے عوام نے ہمیں دوبارہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب کیا۔ یو این ڈی پی کے سروے کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران خیبر پختونخوا وہ صوبہ تھا جہاں غربت کی شرح باقی صوبوں کے مقابلے میں کم ہوئی۔ عوام نے ہمیں اس لئے ووٹ دیئے کیونکہ ان کی زندگی میں فرق پڑا۔ ہم نے صحت کارڈ متعارف کرایا ،

سیاحت کو بڑھایا، تعلیم کے نظام کو بہتر کیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب پر تنقید کرنے والے 5 سال بعد ہماری حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ 5 سال بعد فیصلہ ہو گا کہ غربت میں کمی آئی ؟ ، عام آدمی کی زندگی بہتر ہوئی؟ ، ہماری حکومت نے عام آدمی کی مشکلات کو حل کرنے کےلئے اقدامات کئے اور ایسے منصوبے بنائے جن کا فائدہ آنے والی نسلوں کو بھی ہو گا۔ ملک میں 50 سال بعد پہلی بار ڈیم بن رہے ہیں۔ 10 سالوں میں 10 ڈیم تعمیر کئے جائیں گے کیونکہ ساری دنیا میں پانی کا مسئلہ آ رہا ہے۔

یہ ڈیم ماضی میں بننے چاہئیے تھے لیکن کسی نےتوجہ نہیں دی۔ پہلی بار ملک میں ایسی حکومت آئی ہے جس نے آنےوالی نسلوں کا سوچا ہے۔ ملک میں اب صنعتیں ترقی کررہی ہیں۔ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں نے بیرون ملک سے سب سے زیادہ پیسہ بھیجا ہے۔ اب ہم ایسے منصوبے لا رہےہیں جن میں بیرون ملک پاکستانی سرمایہ کاری کریں گے جس سے دولت کی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ ہم نے ماحولیات کے شعبہ میں خصوصی توجہ دی ہے۔ 10 ارب درخت لگانے جا رہے ہیں جس میں سے اڑھائی ارب لگا چکے ہیں۔ نیشنل پارکس کی تعداد کو دوگنا کیاجا رہا ہے۔

کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ تمام شہریوں کے لئے ہیلتھ انشونس کی مفت سہولت حاصل ہو گی۔ حکومت صحت کارڈ کے ذریعے ہر خاندان کو 7 سے 10 لاکھ روپے کی انشورنس فراہم کرے گی۔ ایسا پروگرام ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں ہے ۔ تین سالوں میں اس کےلئے 330 ارب روپے فراہم کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا میں تمام شہریوں کو یہ سہولت فراہم کر دی ہے۔ پنجاب میں مارچ تک ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس حاصل ہو گی اور اس کے ذریعے کسی بھی ہسپتال سے علاج کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ محض ایک کارڈ نہیں بلکہ یہ صحت کا ایک پورا نظام ہے۔

پرائیویٹ سیکٹر سے لوگ دیہات میں جا کر ہسپتال بنائے گی۔ ابھی کوئی دیہات میں جا کر ہسپتال نہیں بناتا کیونکہ دیہات میں لوگوں کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ ہم ہسپتالوں کی تعمیر کے لئے سستی زمین فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کامسئلہ ساری دنیا میں ہے گزشتہ 100 سال میں کورونا وائرس کی وبا جیسا کوئی بحران نہیں آیا ۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں سپلائی اور تجارت متاثر ہوئی ہے۔ پہلے پٹرول کی قیمت گری اور اب اس میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔

اب پٹرول 45 سے 85 ڈالر فی بیرل پر چلا گیا ہے۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے ۔ مال بردار بحری جہازوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں۔ بجلی بھی مہنگی ہو جاتی ہے اور دالوں ، گھی سمیت وہ تمام اشیا جو مال بردار بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں وہ بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیامہنگائی سے متاثر ہوئی ہے۔ بھارت میں بھی شور مچاہوا ہے۔ بھارت میں پٹرول کی قیمت 250 روپے جبکہ بنگلہ دیش میں 212 روپے تک چلی گئی جبکہ اس کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 146 روپے ہے۔ سب سے سستا پٹرول ، ڈیزل پاکستان میں ہے کیونکہ حکومت نے اس پرٹیکس اور لیویز کم کئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوا م کو مہنگائی سے بچانے کے لئے کوشش کررہے ہیں ۔ مشکل و قت کا سامنا ہے ۔ سپلائی بحال ہو تے ہی قیمتیں نیچے آ جائیں گے۔ حکومت 2 کروڑ خاندانوں کے 13 کروڑ افراد کو احساس راشن پروگرام کے تحت ضروریہ اشیا پر سبسڈی فراہم کرے گی۔ صوبہ اور مرکز مل کر 120 ارب روپے فراہم کریں گے۔ وزیرا عظم نے کہا کہ کامیاب پروگرام کے تحت 20 لاکھوں کو بلا سود قرضے دیئے جائیں گے۔ گھروں کی تعمیر کے لئے 20 لاکھ بلاسود قرضے دیئے جائیں گے۔ عوام کو مشکل سے نکلنے میں مدد دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چینی کی قیمت ایک دم سے 140 تک پہنچ گئی ہے ، جب میں معلوم کرایا تو پتہ چلا کہ سندھ میں 3 شوگر ملز بند کر دی گئی ہیں

جس کی وجہ سے پنجاب کی شوگر ملوں نے ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔ مجھے بتایا گیا کہ جولائی سے شوگر ملوں نے سٹے آرڈر لے رکھا ہے اور حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔ مسابقتی کمیشن نے جو شوگر ملوں پر کارٹل بنا کر قیمتیں بڑھانے پرجرمانہ عائد کیا تھا اس پر بھی شوگر ملز مالکان نے سٹے لے رکھا ہے ۔اس کےعلاوہ ایف بی آر نے 500 ارب روپے کا جرمانہ وصول کرنا تھااس پر بھی شوگر ملوں نے سٹے لے لیا ہے۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ وزیرقانون اور ایڈووکیٹ جنرل سے کہیں کہ اس معاملے پر فوری کارروائی کریں اور سٹے آرڈر بھی ختم کروائیں۔ شوگرملز مالکان عوام کی کمر توڑ کر اربوں روپے کما لیتے ہیں اور جب حکومت کوئی کارروائی کرتی ہے تو سٹے آرڈر لے آتے ہیں۔

قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹک پی ٹی آئی کا قلعہ ہے ۔ پنجاب میں شرح خواندگی 64 فیصد جبکہ اٹک میں 69 فیصد ہے۔ یہاں 3 یونیورسٹیاں اور 18 کالج ہیں ۔ پنجاب میں24 مزید یونیورسٹیاں بنائی جا رہی ہیں۔ پنجاب میں ہر شہری کو صحت کارڈ فراہم کیاجائے گا۔ وزیراعظم نے اٹک میں آج 5 ارب 32 کروڑ کی لاگت سے جدید ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام پسماندہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لائیں گے۔ ہر ضلع میں ترقی کے لئے بجٹ فراہم کریں گے۔

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے زچہ بچہ کی صحت کی سہولیات کی فراہمی پر توجہ نہیں دی۔ میانوالی ، لیہ ، راجن پور، بہاولنگر سمیت ہر پسماندہ علاقے میں زچہ بچہ ہسپتال بنا رہے ہیں ۔دو سالوں کے اندر ان کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ ملتان میں ایک ہزار بیڈ کا نشتر ۔ٹو ہسپتال 50 سال بعد بن رہا ہے۔ ڈی جی خان میں انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور لاہور میں زچہ بچہ ہسپتال کی تعمیر بھی کی جائے گی ۔

ا ب ترقیاتی کام نظر آئیں گے ۔انہوں نے ہماری حکومت عام آدمی کے مسائل پر توجہ دے رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی اس پر ساری دنیا میں پذیرائی ملی۔ سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی کو دنیا بھر میں سراہا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس میں 52 فیصد لوگوں کو ویکسین لگا دی ہے۔ 52 لاکھ خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ فراہم کر دیئے ہیں ۔323 ارب روپے اس سلسلہ میں فراہم کئے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں