کلر کہار: تھیٹر کے ذریعے مقامی تاریخ اجاگر کرنے کا منفرد پروگرام

’تاریخی مقامات پر بنیادی سہولیات کا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جب تک یہ بنیادی سہولیات کے مسئلے حل نہیں ہوں گے تو سیاح اس طرح نہیں آسکیں گے جس طرح ہم چاہتے ہیں۔‘ یہ کہنا ہے کہ انڈس ہیریٹج کلب کمپنی کے بانی جہانداد خان کا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان میں تاریخی مقامات کی سیر ایک منفرد اور جدید انداز میں کروا رہے ہیں۔ انڈس ہیریٹیج کلب نہ صرف سیاحت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ تھیٹر کے ذریعے عوام میں تاریخ جاننے کا شوق پیدا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ حال ہی میں کلب نے چکوال میں مقامی سرکاری سکول کے بچوں کے لیے کلر کہار میں ایک ایسے ہی ٹور کا انتظام کیا۔ کلب کے بانی جہانداد خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مختلف علاقوں میں تھیٹر کے ذریعے لیونگ ہسٹری (جیتی جاگتی تاریخ) کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ تھیٹر ایک ایسا ذریعہ ہے جو لوگوں کی تاریخ میں دلچسپی پیدا کر سکتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا: ’ہماری انفرادیت یہ بھی ہے کہ ہم ٹوور کے دوران آڈیو ڈیوائسز کا استعمال کرتے ہیں۔ ان آڈیو ڈیوائسز میں ہر جگہ کی تاریخ پہلے سے ریکارڈ ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں، ایک تو یہ کہ بہت ساری ایسی جگہیں ہوتی ہیں جہاں آپ کو تجربہ کار گائیڈ نہیں ملتا تو اس ڈیوائس کے ذریعے گائیڈ والا کام ہو جاتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اگر ایک گروپ ہے جس میں کچھ لوگ اردو سمجھ سکتے ہیں اور کچھ انگریزی تو غیرملکیوں کے لیے بہت آسانی سے اس سارے مواد کا انگریزی میں ترجمہ کرکے شیئر کر سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ان کے تیار کردہ ٹورز دو مہینے بعد سیاحوں کو آفر کیے جائے گے لیکن فی الحال انہوں نے سوچا کہ سب سے پہلے انہیں ان لوگوں تک پہنچایا جائے جو ان علاقوں کے مقامی بھی ہیں اور جن کی یہ تاریخ ہے۔ اپنے حالیہ ٹور کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مقامی سکول کے بچوں کو چکوال کے ہندو ورثے سے متعارف کروانے کے لیے انہیں ملکانہ مندر اور پھر کٹاس راج مندر لے جایا گیا جہاں تھیٹر کے ذریعے مقامی تاریخ کو سامنے لایا گیا۔

’بچوں اور ہمارے ساتھ جتنے مہمان تھے ان کو دیکھایا کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب لوگ پڑوسیوں کی طرح رہتے تھے، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے تھے، ایک دوسرے کے غم خوشی میں شریک ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ہندو مذہب کے ساتھ ساتھ اس زمانے کے حقائق طلبہ کے ساتھ شیئر کیے۔‘ جہانداد خان کا کہنا تھا: ’یہاں بچوں کو لانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ دیکھ سکیں کہ کون سے مسلمان سائنسدان تھے جنہوں نے سائنس کو فروغ دیا اور کس طرح یہاں کے مقامی لوگوں سےمعلومات کا تبادلہ کیا اور کس طرح ان سے سیکھا بھی۔‘

’کہیں نہ کہیں اس میں بین المذاہب ہم آہنگی کا اور رواداری کا سبق بھی آجاتا ہے۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے بچوں کو اپنے ثقافتی ورثے کے متعلق اس سے بہت معلومات ملیں گی۔‘ انہوں نے بتایا کہ ٹورازم سروس دینے والی کمپنی کی حیثیت سے وہ جو کام کر رہے ہیں اس سے پاکستان کے تاریخی مقامات کو بین الاقوامی سطح پر پروموٹ کیا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے انہیں حکومت کے تعاون کی ضرورت بھی ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں