کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں،بھارت کو عالمی کھیلوں کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے،افغانستان میں امن کا فائدہ بھارت سمیت پورے خطے کو ہو گا،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان

اسلام آباد۔: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشمیر پریمیر لیگ میں کھلاڑیوں پر بھارتی دباو کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں۔بھارت کو کرکٹ جیسی انٹرنیشنل کھیلوں کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے،افغانستان میں امن کا فائدہ بھارت سمیت پورے خطے کو ہو گا۔پیر کو مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں وزیرخارجہ نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے حال ہی میں صدر سلامتی کونسل کو خط ارسال کیا ہے،اس خط میں ممبران یورپی پارلیمنٹ نے جو موقف اپنایا ہے یہ وہی موقف ہے جسے پاکستان گذشتہ دو سال سے ہر فورم پر دوہراتا چلا آ رہا ہے۔ اس خط سے دو پہلو عیاں ہوتے ہیں،ایک یہ کہ دنیا کی آزاد پارلیمان ہمارے موقف کی توثیق کر رہی ہیں،دوسری یہ کہ ہندوستان جو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر ہیں اس تاثر کی نفی ہوتی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو لکھے گئے خطوط آپ کے سامنے ہیں،اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی دنیا کی آزاد جمہوریتیں مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان تاثر دے رہا تھا کہ یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے، یہ ان کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔سلامتی کونسل میں جب تین مرتبہ مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا تو یہ تسلیم کیا گیا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے جو حل طلب ہے،ہم نے ہر فورم پر اس مسئلے کو اٹھایا، سفارتی اور سیاسی طور پر ہماری کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پارلیمنٹ اور سینٹ میں متفقہ قراردادیں منظور ہوئیں۔اس کے علاوہ ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاسوں میں اس معاملے کو اٹھایا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہیں،مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جو انسانی حقوق کی علمبردار قوتیں ہیں انہیں چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس بھی لیں اور ان کے تدارک کیلئے اقدامات بھی کریں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر پریمیر لیگ میں کھلاڑیوں پر بھارتی دباو کی مذمت کرتا ہوں،بھارت کو کرکٹ جیسی انٹرنیشنل کھیلوں کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے،بھارت اگر مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کے کھیلوں کے پروگرام کا انعقاد کرنا چاہتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔ہمیں کشمیر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی پذیرائی پر بے حد خوشی ہے بھارت کو بھی ہونی چاہیے۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر مقبوضہ کشمیر کا کوئی کھلاڑی بین الاقوامی پذیرائی حاصل کرتا ہے ہمیں تو اس کی بھی خوشی ہو گی،ہندوستان کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے انہیں اس منفی رویے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے حوالے سے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ہمیں تشویش ہے،ہم نہیں چاہتے کہ وہاں امن خراب ہو،ہم چاہتے ہیں افغانستان کے مسئلے کا گفتگو کے ذریعے سیاسی حل نکلے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کہتے آئے ہیں کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،

آج دنیا ہمارے موقف کو تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں چاہتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں ایک چھوٹا سا طبقہ کسی کی ایما پر اس طرح کی بیان بازی کر رہا ہے،مجموعی طور پر افغان عوام نقل مکانی اور حالات کا بگاڑ نہیں چاہتے وہ بھی امن چاہتے ہیں،ہم کہتے رہے کہ بھارت اسپائیلر کا کردار ادا نہ کرے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہم درخواست کرتے رہے ہیں کہ بھارت چھوٹے سے طبقے کی پشت پناہی کیلئے پورے خطے کے امن کو داو پر مت لگائے، افغانستان میں امن کا فائدہ پورے خطے کو ہو گا ھندوستان کو بھی ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آجکل پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے فیک نیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے ہمیں ان سے بھی محتاط رہنا ہو گا،ابھی کل ہی میرے نام سے ایک بیان کو غلط طور پر منسوب کیا گیا ہے جبکہ افغانستان کا میڈیا اس غلط اور فیک بیان کو بڑھ چڑھ کر نشر کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں