’کاش ہمارے بچپن میں بھی ایسا سائنس سینٹر ہوتا‘

پانچ سالہ نائمہ نے ٹی ڈی ایف میگنفی سائنس سینٹر (ایم ایس سی) میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بچوں کے لیے بنائی گئی کنسٹرکشن سائٹ کی جانب دوڑ لگائی۔ سول انجینیئرز کی طرح سر پر زرد حفاظتی ٹوپی پہنی، بچوں کے لیے بنائی گئی ہاتھ گاڑی اٹھائی اور ربڑ کی اینٹوں کے پاس لے گئی۔ نائمہ کی خوشی کی انتہا نہ تھی کہ وہ اپنے ہاتوں سے ایک عمارت تعمیر کر رہی ہے۔ کراچی کے مشہور اور پرانی عمارتوں کے جنکشن آئی آئی چندریگر روڈ پر داؤد فاؤنڈیشن کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کے پہلے جدید اور انٹریکٹو سائنسی مرکز کا افتتاح کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا سائنس سینٹر ہے، جو ہر عمر کے افراد کے لیے دلچسپی کا مرکز ہے اور انہیں عملی تدریس فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

داؤد فاؤنڈیشن کے پراجیکٹ ہیڈ اور میگنفی سائنس سینٹر کے پراجیکٹ مینیجر سید فصیح الدین بیابانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس جامع اور غیر رسمی مقام کا مقصد کراچی کے لوگوں کو دلچسپ انداز میں سائنسی عمل میں شامل ہونے کا موقع دے کر ان میں سائنسی سوچ اور عمل کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ روزمرہ کے سائنسی مظاہروں کا مشاہدہ کریں، ان پر تحقیق کریں اور ان کی سمجھ بوجھ حاصل کریں۔‘ ایم ایس سی تین منزلوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے ایک منزل مختلف سائنسی موضوعات کے لیے وقف ہے جن میں نقل و حمل، قوت و حرکت، قابل تجدید توانائی، انسانی جسم، آواز، روشنی اور فریب نظر جیسے سائنسی موضوعات پر دلچسپ عملی مظاہرے موجود ہیں۔ عمارت کے باہر کے ایریا میں سائنس گارڈن ہے، جس میں بچوں کے لیے جھولے، ہیمسٹر وہیل، بھول بھلیاں، ٹری ہاؤس اور مختلف اقسام کے چیلنجز موجود ہیں۔ اس ایریا میں دہائیوں پرانے درختوں کو ان کی اصل حالت میں رکھتے ہوئے مزید درخت بھی لگائے گئے ہیں۔

ٹی ڈی ایف میگنفی سائنس سینٹر کی عمارت 1888 میں برطانوی راج کے زمانے سے رللی برادرز لمیٹڈ کے ایک ویئر ہاؤس میں بنائی گئی ہے۔ 1963 میں یہ عمارت داؤد کارپوریشن کی جانب سے خریدی گئی۔ سائنس سینٹر سے قبل اس عمارت کے اطراف اٹھارویں صدی سے موجود باؤنڈری لائن کو اس کی اصل حالت سے قریب تر بحال کیا گیا۔ عمارت کے داخلی راستے پر گیٹ ہاؤس موجود ہے جس میں رللی برادرز لمیٹڈ کی تمام تاریخ سے متعلق چیزیں موجود ہیں اور برطانیہ کی بااثر ترین ملکہ وکٹوریا کے مجسمے والی لوہے کی سیڑھیاں بھی۔
سائنس سینٹر کے گراؤنڈ فلور پر ’کڈز ورلڈ کراچی‘ کے نام سے ایک ایریا بنایا گیا ہے جہاں کراچی کی ثقافت اور روز مرہ کے چیزوں سے متعلق کراچی محلہ بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس علاقے میں بچوں کے لیے مارکیٹ، ہسپتال، سواری اڈا اور کنسٹرکشن زون بھی موجود ہے۔ ہسپتال کے ایریا کی ایک دلچست بات یہ ہے کہ یہاں ایک ایسا انٹریکٹو ماڈل بھی ہے، جس میں بچوں کو جسم کے مختلف اعضا کی اشکال کے تھری ڈی ماڈل دیکھنے، ان کے مخصوص مقام جانچنے، ان کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والی آوازیں سننے، یہاں تک کہ ان کا آپریشن کرنے کا بھی موقع ملتا ہے۔ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ہی تمر کے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کی بھی ایک نمائش رکھی گئی ہے۔ اس نمائش کے منتظم عمر سعد نے بتایا کہ وہ داؤد فاؤنڈیشن کے ہمراہ ماحولیاتی موضوعات پر ڈاکیومینٹریز بناتے تھے۔

’مجھے جب یہاں آکر تمر کے جنگلات کی نمائش اور اس وقت زیر تعمیر تیسری منزل، جو ماحولیات کے لیے وقف ہے، سے متعلق کام کرنے کا کہا گیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ماحولیات کا موضوع میرے لیے کافی دلچسپ ہے اور یہاں تمر کے پودے لگانے، ان میں پانی کی ترسیل کے عمل کو واضح کرنے اور ایک ایکو سسٹم کو وضع کرنے پر میں نے کافی ریسرچ کی۔ یہاں آنے والے مہمانوں کو میں تمر کے جنگلات کے حوالے سے معلومات دیتا ہوں اور یہاں بنایا ہوا ماڈل سمجھاتا ہوں۔‘ سائنس مرکز کی پہلی منزل پر انسانی جسم، آواز، روشنی اور فریب نظر سے متعلق انٹریکٹو نمائشی اور عملی مظاہرے موجود ہیں۔

اس فلور پر دلچسپ ترین چیزوں میں ایک بڑا سا انسانی دل ہے، جسے سوچ سمجھ کر بالکل عمارت کے بیچ میں نصب کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ سرخ اور نیلے پائپس کی صورت میں دل سے نکلنے والی شریانوں کا ایک بڑا سا جال بھی بنایا گیا ہے۔ انسانی دماغ کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے ایک بڑا سا ماڈل بنایا گیا ہے، جس کے نیچے ایک الیکٹرک پینل موجود ہے۔ اس پینل پر مختلف بٹن موجود ہیں جن پر دماغ کے مختلف حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان بٹنوں کو دبانے سے دماغ کے ایک مخصوص حصے کی بتی جل جاتی ہے۔ اس حوالے سے سائنس سینٹر میں وزٹ کے لیے آئے ہوئے آغا خان ہسپتال کی ڈاکٹر کنزہ اور نوید کا کہنا تھا کہ انہیں اس سیکشن میں تمام مظاہرے بالکل درست لگے۔ ڈاکٹر کنزہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ سے چاہتی تھی کہ کراچی میں کوئی سائنس سینٹر ہو۔ یہ جگہ میری توقعات سے بھی بہتر ہے۔ کاش ایسا سائنس سینٹر ہمارے بچپن میں بھی ہوتا۔‘

عمارت کی تیسری منزل پر نقل و حمل، قوت و حرکت اور قابل تجدید توانائی کے سائنسی موضوعات پر انٹریکٹو ماڈلز موجود ہیں۔ اس فلور پر کراچی پورٹ کی نقل پر ایک چھوٹا سا پورٹ بھی بنایا گیا ہے جس میں بچوں اور بڑوں دونوں کو ایک مصنوعی کرین اور اس پر نصب مقناطیس کے ذریعے کنٹینرز کی نقل پر لوہے کے بلاکس اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ریاضی کے مختلف موضوعات کو سمجھنے کے لیے بھی مختلف انٹریکٹیو مظاہرے موجود ہیں۔ اپنے دو بچوں اور اہلیہ کے ہمراہ سائنس سینٹر آنے والے ایڈووکیٹ انیل کا کہنا تھا: ’مجھے یہاں سب سے اچھی بات یہ لگی کہ مختلف موضوعات اور فیلڈز سے متعلق نمائشوں کی وجہ سے بچوں کو اپنی پسندیدہ فیلڈ جاننے کا موقع مل سکتا ہے۔‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ڈی ایف کی سی ای او سبرینا داؤد نے کہا: ’میگنفی سائنس سینٹر ملک میں سائنسی تعلیم کو سب تک پہنچانے، اسے بہتر بنانے اور نئی نسل میں جستجو کی جوت لگانے میں ہمارا حصہ ہے۔ یہ ادارہ منافع کمانے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں