ڈیرہ اسماعیل خان کی تاریخی ست منزلہ حویلی

ڈیرہ اسماعیل خان کی 130 سالہ تاریخی اور سب سے بلند ’ست منزلہ‘ حویلی اپنے طرز تعمیر کے باعث انتہائی مشہور ہے۔ یہ چوگلیہ کے مشہور بھاٹیہ بازار کی گلی مجاہد نگر میں واقع ہے۔ 1825 میں جب نئے ڈیرہ اسماعیل خان شہر کی بنیاد رکھی گئی تو بھاٹیہ خاندان نے اپنے لیے شہر کے مغربی حصے میں ایک علیحدہ محلہ منتخب کیا اور یہاں پر اپنے لیے عالیشان تعمیرات کروائیں۔ یہ حویلی انہی تعمیرات کا ایک حصہ ہے جسے ہندو سیٹھ جیسا رام بھاٹیہ المعروف ( جیسا رام لوٹھہ) نے اپنی رہائش کے لیے 1890 کے قریب تعمیر کروایا۔ جیسا رام سیٹھ نندورام بھاٹیہ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان کا کاروبار بڑے بڑے شہروں مثلاً بمبئی، کلکتہ، دہلی، کانپور، امرتسر وغیرہ تک پھیلا ہوا تھا۔ تقسیم سے قبل اس حویلی کو مختلف ناموں مثلاً ست ماڑہ، دریا والی ماڑی اور ست منزلہ وغیرہ سے پکارا جاتا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس حویلی کو گنجان آبادی اور مکانات نے گھیر لیا۔ اب یہاں تک پہنچنے کے لیے تنگ و تاریک گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ست منزلہ حویلی گنجان آبادی میں ہونے کی وجہ سے اپنی کشش کھو رہی ہے اور سیاحوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی لوگ تک اس سے ناواقف ہیں۔ تاہم ایک بار جو اس حویلی کے بارے میں سن لے وہ اسے دیکھنے کی خواہش ضرور کرتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس حویلی کو حاجی حیات صاحب نے 45 ہزار روپے میں خریدا اور بعد ازاں کرائے پر دے دیا۔ 1994 میں کرائے دار تو چلے گئے لیکن اس وقت تک حویلی کی حالت خراب ہو چکی تھی۔اس کی دوبارہ مرمت پر 35 سے 40 لاکھ روپے خرچ آیا۔ یہ حویلی اپنی خوبصورت اور پرانے طرز کی بناوٹ کی وجہ سے لوگوں کو مائل کرتی ہے۔ حویلی کے اندر جاکر آپ خود کو سو سال پیچھے جاتا محسوس کرتے ہیں کیونکہ دروازوں اور کھڑکیوں پر دیار اور شیشم کی لکڑی سے باریک بینی سے کیا گیا کام آپ کو حیران کر دیتا ہے۔ ایک پلر پر بنی لمبی سیڑھی، جو آخری اور ساتویں منزل تک جاتی ہے، کمال کرتی دکھائی دیتی ہے۔
جیسا رام لوٹھہ نے اس کی تیسری منزل پر ایک کمرے میں مندر بنایا تھا اور جو ابھی تک اس کمرے میں موجود ہے۔ اس کمرے میں آج کل حویلی کے رہائشی ڈاکٹر نعمان حیات رہتے ہیں لیکن یہاں اب مورتیاں موجود نہیں۔ ڈاکٹر نعمان کا خاندان اس تاریخی عمارت کی بحالی پر اب تک کروڑوں روپے خرچ کر چکا ہے۔
جیسا رام لوٹھہ نے اس مندر کو کچھ یوں بنایا تھا کہ صبح سورج کی روشنی سیدھی کمرے میں بنائے گئے مندر تک جاتی ہے۔ کمرے میں ہوا کے گزرنے کا بہترین انتظام ہے جبکہ نچلی منزل کے کمروں میں بظاہر نظر نہ آنے والے روشن دان صاف ہوا اور روشنی فراہم کرتے ہیں۔

حویلی کی ساتویں منزل سے پورا شہر نظر آتا ہے لیکن یہ منزل اب خستہ حالت میں ہے۔ نعمان حیات اسے محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ ایک مہنگا کام ہے اور وہ آخری منزل کو بچانے میں ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ یہاں پر قیمتی لکڑی دیار اور شیشم سے کام کیا گیا ہے۔ یہ کام جس مہارت اور باریک بینی سے کیا گیا ہے اس کو محفوظ رکھنا بہت بڑا اور مشکل کام ہے۔ عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے صوبائی وزیر فیصل امین خان، نعمان حیات اور آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہو سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں