چین کا پاکستان سے چینی جہادیوں کے خلاف ایکشن کا مطالبہ

داسو ڈیم کے قریب ایک بس حملے میں 9 چینی انجینئرز کی ہلاکت کی تحقیقات میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کی آزادی کے جنگ لڑنے والے مسلم جہادی گروپ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آنے کے بعد چین کی حکومت نے پاکستان اور افغان طالبان سے اس گروہ کو سختی سے کچلنے کا مطالبہ کیا ہے۔ باوثوق سفارتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چینی وزیراعظم نے نہ صرف پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے بلکہ افغان طالبان سے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں میں بھی اس مسلم جہادی گروہوں کے ٹھکانے ختم کیا جائے۔ معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں افغان طالبان کے ایک وفد کی بیجنگ میں اعلی حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے علاقوں میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے تھکانے فوری طور پر ختم کئے جائیں تاکہ وہ چین کے خلاف کارروائیاں نہیں کرتے پائیں۔ دوسری جانب چین نے پاکستان سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے لیکن پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ پاک فوج نے ماضی میں آپریشن کلین اپ کے دوران وزیرستان میں موجود ای ٹی آئی ایم کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے تھے اور زندہ بچ جانے والے عسکریت پسند افغانستان بھاگ گئے تھے۔ اب جب غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران افغانستان پر طالبان تیزی سے قابض ہورہے ہیں تو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ چینی عسکریت پسند بھی سرحد پار کر کے پاکستان میں واپس آ رہے ہیں۔۔ انہی میں سے ایک گروپ نے داسو میں چینی انجینئرز کی بس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے آغاز کے بعد افغانستان میں طالبان کی شمال کے علاقوں میں پیش قدمی میں ای ٹی آئی ایم اور القاعدہ سے وابستہ دیگر تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے جن کے خلاف چین کے دباؤ پر کارروائی افغان طالبان کے لیے مشکل ہو گی۔ یاد رہے کہ 14 جولائی 2021 کو ضلع اپر کوہستان کے علاقے داسو میں چین کے انجینئرز کو لے جانے والی بس میں دھماکے سے نو انجینئرز سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے پہلے اس واقعے کو حادثہ قرار دیا تھا جب کہ چین نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے پاکستان سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال میں اسلام آباد اور بیجنگ بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں کئی ارب ڈالرز مالیت کی حامل چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے وابستہ سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔
اب تک داسو میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعے کی ذمہ داری کسی بھی گروہ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے۔ البتہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے اسلام آباد میں موجود اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ داسو حملے کی تحقیقات کرنے والی چینی ٹیم کو پاکستان آ کر یہ شواہد ملے تھے کہ ای ٹی آئی ایم نے یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مدد سے کیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ای ٹی آئی ایم اور ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کے ٹھکانے افغانستان میں ہیں جنہیں افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے اور اسی حوالے سے چین نے حال ہی میں پاکستان کی حکومت اور افغان طالبان کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ داسو میں چین انجینئروں کی ہلاکت کے اس واقعے کے بعد پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایک وفد نے چین کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے چین وزیرِ خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔ چین کی حکومت سے منسلک اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ میں 25 جولائی کو شائع ایک رپورٹ میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے اور ای ٹی آئی ایم جیسے شدت پسند گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کے وفد کے دورے کے فوراً بعد دوحہ میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے طالبان کے رہنما ملا برادر کی سربراہی میں چین کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں چین کی حکومت نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مکمل طور پر ختم کریں جن سے دونوں ممالک اور خطے کو براہِ راست خطرات لاحق ہیں۔ خیال رہے کہ امریکہ کی حکومت نے چھ نومبر 2020 کو ای ٹی آئی ایم کو اپنی دہشت گرد گروہوں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ پنجاب پولیس کے محکمۂ انسداد دہشت گردی نے بھی داسو حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سے تعلق کے شبے میں دو افراد کو حراست میں لیا ہے جن کا تعلق بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے بتایا جا رہا ہے۔ البتہ اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ چین پاکستان میں ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کے تحت کئی ارب ڈالرز کا سرمایہ سی پیک کی صورت میں لگا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کو زمینی راستے سے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنا ہے جس سے چین کو بحیرہٴ عرب تک رسائی حاصل ہونے میں آسانی ہو گی۔ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں نئی شاہراہیں اور بندر گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ سی پیک کے حوالے سے جہاں پاکستان کو اپنے معاشی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا موقع مل رہا ہے وہیں چین دہشت گردی سے پیدا شدہ خطرات اور سیکیورٹی سے متعلق پریشان بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں