پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی پر فائرنگ الزام میں ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور اس کے ایک بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا

رسائی نیوز نمائندہ خصوصی کراچی: فائرنگ سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی رمضان گھانچی زخمی ہو گئے، پولیس نے مقدمہ درج کر کے فائرنگ کرنے کے الزام میں ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور اس کے ایک بیٹے کو گرفتار کر لیا مقدمے میں نامزد گرفتار ملزم کے دوسرے بیٹے کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نپئیرتھانے کے علاقے صدیق وہاب روڈ جناح آباد کارنر گلی نمبر6 ٹمبر مارکیٹ میں فائرنگ سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی 60 سالہ رمضان گھانچی ولد ابراہیم زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا۔فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے پر تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان سمیت دیگر عہدیدار اور کارکنوں کی بڑی تعداد سول اسپتال پہنچ گئی، رمضان گھانچی نے اسپتال میں اپنے ابتدائی بیان میں پولیس کو بتایا کہ انہیں علاقے کے نائب وائس چئیر مین اور ٹمبر مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر سلیمان سومرو اور ان کے دوبیٹوں علی سومرو اور شاہنواز سومرو نے پانی کی لائن کے تنازعے پر جھگڑے کے دوران فائرنگ کر کے زخمی کیا۔ ایم ایل او سول اسپتال کا کہنا ہے کہ رمضان گھانچی کی سیدھی ٹانگ کی پنڈلی میں ایک گولی لگی ہے جو آر پار ہو گئی، رمضان گھانچی کی ہڈی کو نقصان پہنچا ہے، پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیرزمان کی ہدایت پر رمضان گھانچی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ایدھی ایمبولینس کے ذریعے ناظم آباد میں واقعے ہڈیوں کے نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ڈاکٹروں کے مطابق رمضان گھانچی کا آپریشن کامیابی کے ساتھ اختتام ہوا، ہڈی جوڑ دی گئی ہے، حالت خطرے سے باہر ہے، دوسری طرف ایس ایچ او نپئیر اعظم خان نے رمضان گھانچی کے ابتدائی بیان کے فوری بعد گھانچی پاڑے میں چھاپہ مار کر سلیمان سومرو اور اس کے بیٹے شاہنواز کو حراست میں لے کر نیپئیر تھانے منتقل کیا، ملزمان کے حراست میں لیے جانے کی اطلاع پر پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنان نپئیر تھانے پہنچ گئے اور تھانے کا گھیراؤ کر کے نعرے بازی شروع کر دی اور ملزمان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔پولیس نے حراست میں لیے گئے باپ بیٹوں کے حفاظتی اقدامات کے تحت بغدادی تھانے منتقل کر دیا، ڈی ایس پی بغدادی مشتاق تنولی کی سربراہی میں نپیئر تھانے کی پولیس پارٹی رات گئے رمضان گھانچی کا بیان قلمبند کرنے ناظم آباد میں واقعے نجی اسپتال پہنچ گئی تھی اور آپریشن ختم ہونے کے کچھ دیر بعد جب رمجان گھانچی کو ہوش آگیا تو ان کا بیان قلمبند کیا جس میں رمضان گھانچی نے بتایا کہ وہ25 جنوری کی شب رات تقریباً ایک بجے جناح آباد سے گزر رہے تھے تو انہوں نے پانی کا غیر قانونی کنکشن ہوتے ہوئے دیکھا جس پر انہوں نے اپنی گاڑی روک کر معلوم کرنے کی کوشش کو تو وہاں موجود سلمان گھانچی اور ان کے بیٹوں علی نواز سومرو اور شاہنواز سومرو نے گالم گلوچ ، جان سے مارنے کی دھمکی دی اور فائرنگ کر کے زخمی کر دیا جبکہ جب وہ زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے جا رہے تھے تو سلمان سومرو نے انہیں ایمبولینس سمیت جلا کر مارنے کی بھی دھمکی دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں