پنجاب پولیس کی نئی سوشل میڈیا پالیسی، ’یونیفارم میں تصویر لگانے پر پابندی‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس کے تمام افسران اور اہلکاروں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال میں کئی طرح کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔پنجاب پولیس کے سربراہ انعام غنی کی جانب سے جاری ایک حکم نامے کے تحت کسی بھی پولیس افسر یا اہلکار کو یونیفارم پہن کر اپنی تصویر اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ واقعہ ٹائم کو دستیاب دستاویزات کے مطابق حکم نامہ فوری طور پر صوبہ بھر میں نافذ العمل ہے۔ کسی بھی پولیس اہلکار کو محکمہ پولیس کی شناخت کی کوئی علامت جیسا کہ لوگو، وائرلیس سیٹ اور ہتھیار وغیرہ اپنے سماجی رابطوں کے اکاؤنٹس پر لگانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل سکھیرا نے اردو نیوز کو بتایا ’یہ پالیسی 2020 میں بنائی گئی تھی لیکن اس پر عمل درآمد اب شروع کیا گیا ہے۔ اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ نہایت باریک بینی سے تمام افسران اور اہلکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا ایک سال تک جائزہ لیا گیا ہے۔ اور اس کے بعد اس بات کا حتمی فیصلہ کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کا نفاذ کر دیا جائے۔ 26 جولائی سے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت صوبہ بھر میں اس پالیسی کا نفاذ ہو چکا ہے۔‘ پالیسی کے تحت تمام پولیس اہلکاروں کو سوشل میڈیا گروپس بنانے اور ان کا حصہ بننے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اگر کوئی پولیس اہلکار کسی ایسے گروپ کا حصہ بننا چاہتا ہے جو اس کی نجی زندگی سے متعلق ہے تو وہ اس گروپ کے بارے میں تحریری طور پر اپنے ضلعی آفس یا سینٹرل پولیس آفس کو آگاہ کرنے کا پابند ہوگا۔ اگر کوئی پولیس اہلکار کسی گروپ کا حصہ پایا گیا جس کے بارے میں اس نے آگاہ نہیں کیا تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔ تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو سوشل میڈیا پر پولیس کی نمائندگی کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ آرڈر کے مطابق ’محکمہ پولیس کے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ موجود ہیں پولیس سے بابت بات کرنے کے صرف وہی مجاز ہیں۔ کوئی بھی ملازم کسی کیس سے متعلق معلومات بھی سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرے گا۔‘ اسی طرح پولیس اہلکاروں کے کسی بھی سیاسی، مذہبی اور سماجی معاملے پر اپنی رائے دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پولیس کی نئی سوشل میڈیا پالیسی کے تحت پولیس کے نام پر بنائے جانے والے جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس، گروپس اور صفحات کے خلاف بھی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کے مطابق ’پولیس اہلکاروں اور افسران کو نجی اکاؤنٹ رکھنے کی اجازت ہے جس میں وہ صرف اپنے دوستوں اور خاندان کے افراد سے متعلق تصاویر اور تحریر اپ لوڈ کر سکتے ہیں۔ محکمہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بات پر پابندی لگائی گئی ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’پولیس کا کوئی افسر یا جوان کسی بھی قسم کی مارکیٹنگ بھی نہیں کر سکتا، چاہے وہ مارکیٹنگ ہو یا کسی برانڈ سے متعلق ہو نہ اس کے بارے میں بات کر سکتا ہے نہ ہی کوئی تجزیہ دے سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ کوئی بھی پولیس اہلکار اگر کسی بھی گروپ یا پیج کا ایڈمن ہے تو وہ فوری طور پر اس سے دستبردار ہوجائے خواہ وہ گروپ سماجیات سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔‘ اس حکم نامے کے تحت صوبائی، ریجنل اور ضلعی سطح پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ سیل بھی قائم کر دیے گئے ہیں جو پولیس اہلکاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر کڑی نگرانی کریں گے۔ جبکہ سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے ہر مہینے رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر کوئی بھی پولیس آفیسر یا اہلکار کسی بھی شخص سے رابطہ کرتے ہوئے اسے اپنے پولیس میں ہونے کی شناخت بھی نہیں بتا سکتا۔ ڈی آئی جی سہیل سکھیرا کے مطابق ’سوشل میڈیا پر اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار خود کو پولیس یونیفارم کا استعمال کرتے ہیں اور اپنا تعارف بھی پولیس اہلکار کے طور پر کراتے ہیں اور لوگ ان سے رابطے میں آجا تے ہیں تو ہمارے خیال میں یہ درست نہیں۔ اسی طرح ٹک ٹاک وغیرہ پر ویڈیوز بھی یونیفارمز میں بنائی گئیں۔ اب اس ساری صورت حال پر واضح حکم آچکا ہے اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے پتا نہیں تھا۔ یہ پالیسی ان تمام واقعات کی چھان بین اور پولیس کی شناخت کے متوقع غلط استعمال کی وجہ سے بنائی گئی ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں