پنجاب میں یکساں تعلیمی نصاب، سکول مالکان کو خدشات

اکستان کے صوبہ پنجاب میں یکساں تعلیمی نصاب آج سے نافذ العمل ہے۔ صوبے کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکول آج سے وہی سلیبس پڑھائیں گے جو حکومت سے منظور شدہ ہے۔ یکساں نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک ہو گا جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ واقعہ ٹائم کے پاس موجود نوٹیفیکشین کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت کے لیے صوبہ بھر میں ایک ہی سلیبیس رائج ہو چکا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سال 2018 میں حکومت سنبھالنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں یکساں تعلیمی نصاب رائج کیا جائے گا۔ اسی سلسلے میں پہلا مرحلہ مکمل کیا گیا اب آج دو اگست 2021 سے پنجاب کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں یکساں نصاب لاگو کر دیا گیا ہے۔ قبل ازیں خیبر پختونخوا میں بھی حکومت یہ عمل مکمل کر چکی ہے۔ البتہ سندھ اور بلوچستان میں عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ حکومت کے اس عمل سے پرائیویٹ سکولز مطمئن نہیں۔ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے صدر کاشف ادیب جاودانی نے واقعہ ٹائم سے بات کرتے ہوئے بتایا ’ہمارا اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ حکومت یکساں نصاب کا نفاذ کر رہی ہے۔ ہمارا مسئلہ ہے کہ یہ ہو گا کیسے۔ ستر فیصد پرائیویٹ سکولوں کے پاس ابھی نئے سلیبیس کی کتابیں ہی نہیں ہیں۔ اور پرائیویٹ سکولوں نے اپنا تعلیمی سال مارچ سے شروع کر رکھا ہے اور مارچ سے اب تک پرانا سلیبس ہی پڑھایا گیا ہے کیونکہ یکساں تعلیمی نصاب کی کتابیں دستیاب ہی نہیں تھیں۔ ‘ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ نئے یکساں نصاب کی کتابیں ایک پیچیدہ عمل تھا اور حکومت نے تیاری کے بغیر ہی اس کا نفاذ کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا ’یہ ایسا نہیں ہے کہ تمام سکول حکومت کی تیار کردہ کتابیں پڑھائیں گے بلکہ یکساں نصاب میں صرف بنیادیں فراہم کی گئیں ہیں جن کے مطابق کوئی بھی سکول اپنا مواد تیار کر سکتا ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اپنا مواد استعمال کر کے کتابیں شائع کرنے کے لیے جو درخواستیں حکومت کو دی گئی ہیں ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ کیونکہ حکومت نے بہت کم پبلشرز کو پرنٹنگ رائٹس دیے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے آدھا سلیبیس پچھلا پڑھایا ہے اور یہ مارچ سے شروع ہے۔ اب ہم کیسے اپنے طلبہ کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ نئی کتابیں خریدیں اور یکساں تعلیمی نظام کا حصہ بن جائیں۔‘ دوسری طرف پنجاب میں درسی کتب کے نگراں ادارے کے اعلیٰ حکام نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ’یہ ایک عجیب بات ہے کہ واضع ڈیڈ لائن دیے جانے کے باوجود پرائیویٹ سکولوں نے اپنی کتابیں اتھارٹی سے منظور نہیں کروائیں۔ پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں میں کل سے نیا طریقہ کار رائج ہو چکا ہے اور اب جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اس سے مختلف سلوک کیا جائے گا۔‘ ترجمان پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے مطابق اس وقت پنجاب کے تمام سرکاری اور نجی سکولوں میں یکساں نصاب کا نفاذ ہو چکا ہے ’جن لوگوں نے نئے طریقہ کار کے تحت اجازت نامہ نہیں لیا ان کے لیے صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ اگر نجی سکولوں نے اپنی کتابیں نہیں چھپوائیں تو وہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی مارکیٹ میں موجود کتابوں سے استفادہ کر سکتے ہیں۔‘ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے لیکن پرائیویٹ سکولز اس کو کسی اور ہی پیرائے میں لیتے ہیں۔ سرونگ سکولز ایسوسی ایشن کے سربراہ میاں رضا الرحمن نے اردو نیوز کو بتایا ’یکساں نصاب بری چیز نہیں ہے لیکن اگر آپ نصاب کے مطابق کتابیں چھپوانے کے این او سی جاری نہیں کریں گے تو یہ صنعت کہاں جائے گی؟ ہمارا یہ ماننا ہے کہ حکومت جان بوجھ کے اس شعبے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اور بہت کم پبلشرز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مواد چھاپ سکیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ این او سی جاری نہ کر کے پرائیویٹ سکولوں کو بھی اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سرکاری کتابوں کا ہی نفاذ کریں۔‘ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت پنجاب میں پرائیویٹ سکولوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ میاں رضا الرحمان کے مطابق ’حکومت نے ہمیں کتابیں چھاپنے کی اجازت نہیں دی اس لیے ہم مجبور ہیں کہ جو مواد پہلے سے تصدیق شدہ ہے اسی کو بوسٹر کے طور پر استعمال کیا جائے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں