پنجاب میں نئے خانکی بیراج کی تعمیر علاقہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ

اسلام آباد۔: پنجاب میں نئے خانکی بیراج کی تعمیر علاقہ کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر رہی ہے، اس بیراج سے نہ صرف کسان کمیونٹی کی زرعی پیداوار اور آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقہ کے عوام کی صحت، تعلیم سمیت مختلف سہولیات تک رسائی بھی بہتر ہوگی اور سیلاب کے نقصانات سے بھی ایک بڑا علاقہ محفوظ ہوگا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق نئے خانکی بیراج سے علاقہ میں زرعی پیداوار میں اضافہ، 5 لاکھ سے زائد کاشتکار خاندانوں کی آمدنی اور دور رس سماجی اور معاشی فوائد حاصل ہوئے ۔ نئے پل کی تعمیر کے نتیجے میں فاصلہ کم ہوجانے سے بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کے لیے صحت ، تعلیم اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئی۔

اے ڈی بی رپورٹ کے مطابق خانکی بیراج جسے حکومت پنجاب اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے مالی اعانت سے تعمیر کیا گیا، جدید ڈیزائن کے ساتھ اس کی چوڑائی میں ایک کلو میٹر اضافہ کیا گیا ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے خانکی بیراج نے خانکی ہیڈ ورکس کی جگہ لے لی ہے، جو پاکستان کے قدیم ترین بیراجوں میں سے ایک ہے کیونکہ پرانا بیراج اب شدید سیلاب کے دوران دریا کو محفوظ طریقے سے ریگولیٹ کرنے کے قابل نہیں رہا، اس طرح سیلاب کی صورت میں جان و مال کے شدید نقصان کا خطرہ تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے پنجاب کے آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور بہتری کے اپنے طویل مدتی سرمایہ کاری کے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے حکومت کی کوششوں میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ نئے خانکی بیراج نے زرعی پیداوار اور آمدنی میں اضافہ اور مستقل قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کیے ہیں۔

لوئر چناب کینال کمانڈ ایریا میں بہتر زرعی پیداوار اور زرعی آمدنی کے اثرات کو دو ہدف کے اشاریوں سے ماپا گیا ہے۔ 2011 سے 2020 کے دوران زیر کاشت رقبہ میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔ پراجیکٹ کے اضلاع میں اگنے والی فصلوں کے تحت مجموعی طور پر سیراب شدہ رقبہ 2011 میں 3.32 ملین ہیکٹر سے بڑھ کر 2016 تک 3.56 ملین ہیکٹر ہو گیا جو کہ 7 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے اور 2020 تک 10 فیصد کے ہدف تک پہنچ گیا۔

دوسرے ہدف کے تحت اسی عرصے میں 25,000 کاشتکار خاندانوں کی اوسط زرعی آمدنی میں بھی 10 فیصد اضافہ ہوا۔ 2016 تک 15.4 فیصد اضافے کے ساتھ ایک اوسط کاشتکار خاندان کی آمدنی پہلے ہی اس ہدف سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تقریبا 568,000 کاشتکار خاندانوں کو اس منصوبے سے آبپاشی کے پانی کی بااعتماد فراہمی سے براہ راست فائدہ ہوا۔ نئے بیراج کے آس پاس کی بڑی آبادی خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں نے تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، نقل و حمل، تفریح اور آمدنی پیدا کرنے میں بڑے پیمانے پر سماجی اور اقتصادی فوائد حاصل کیے ہیں۔

اس منصوبے نے خانکی گاؤں میں ایک پبلک روڈ پل، گرلز ہائی سکول، صحت کی دیکھ بھال کی سہولت اور ایک بڑا تفریحی پارک بنایا ہے۔ بیراج پر نئے 1.34 کلومیٹر پل سے دریا کے پار سفر کے لئے 30 کلومیٹر کا فاصلہ کم ہو کر 1.34 کلومیٹر رہ گیا اور رہائشیوں اور کاروباروں کے درمیان روابط میں اضافہ ہوا۔

اس منصوبہ سے جہاں مقامی لوگوں اور اداروں کے منافع میں اضافہ ہوا اور بہت سے نئے کاروباری مواقع بھی کھل گئے ہیں۔ خواتین نے گھریلو اضافی آمدنی اور کم اخراجات کے ذریعے بہتر کاروباری ماحول سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت طلبا کا سکولوں، کالجوں اور پوسٹ سیکنڈری تعلیمی اداروں تک طویل سفر کا دورانیہ کم ہوا اور کرایہ کی مد میں بھی انہیں بچت ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں