’پنجاب میں دو اگست سے سرکاری اور نجی سکولوں میں یکساں تعلیمی نصاب‘

نجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے کہا ہے کہ ’صوبے میں دو اگست سے تمام سرکاری اور نجی سکولوں سمیت دینی مدرسوں میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کیا جائے گا۔‘ وزیر تعلیم پنجاب نے جمعے کو ایک ٹویٹ کے ذریعے محکمہ تعلیم پنجاب کا ایک نوٹی فیکشن شیئر کیا۔
نوٹی فیکیشن میں جنوری 2021 کو جاری ہونے والے نوٹس کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’سال 2021-2022 اور اس سے آگے بھی پہلی سے پانچویں جماعت تک پنجاب کے تمام سرکاری و نجی سکولوں اور دینی مدارس میں یکساں تعلیمی نصاب لاگو کیا جائے گا۔‘ خیال رہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اپنی انتخابی مہم میں جو نعرہ سب سے زیادہ لگایا وہ تھا تعلیمی نظام کو بہتر کرنا اور صحت کی سہولتیں سب تک پہنچانا۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ ’قومیں سڑکیں اور پل بنانے سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ تعلیم پر پیسہ خرچ کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔‘ ایسے میں جب 2018 کے عام انتخابات کے بعد اقتدار تحریک انصاف کے حصے میں آیا تو بہت سے لوگ اس انتظار میں تھے کہ نئے پاکستان کے تعلیم کا ویژن آخر کیا ہوگا؟ رواں برس جنوری میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نےواقعہ ٹائم سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا تھا کہ ان کی حکومت ’یکساں نظام تعلیم‘ کا وعدہ پورا کرنے کے قریب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت نے یکساں نصاب تعلیم کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا ہے جس میں پہلی سے پانچویں جماعت تک کا نصاب یکساں بنا دیا گیا ہے۔‘ ’اب یہ 2021 شروع ہوچکا ہے۔ پہلے اس کا ملک بھر میں عمل درآمد مارچ میں ہونا تھا کیونکہ تعلیمی سال مارچ سے شروع ہوتا تھا اب یہ اگست تک چلا گیا ہے، لیکن اسی سال نچلی جماعتوں پر یہ لاگو ہو جائے گا۔‘ شفقت محمود نے بتایا تھا کہ ’اسی طرح چھٹی سے دسویں تک کا یکساں نصاب اپنے تکمیل کے مراحل میں ہے اور اس کو بھی سال 2022 میں لاگو کر دیا جائے گا۔ 2023 تک ہماری حکومت ہے تو تب تک ہم اپنا تیسرا اور آخری مرحلہ بھی مکمل کر لیں گے۔‘ ’ملک کے طول و عرض میں ہر سرکاری اور غیر سرکاری سکول حتیٰ کے مدرسے میں ایک ہی طرح کا نصاب پڑھایا جا رہا ہو گا۔‘ انہوں نے کہا تھا کہ ’الیکشن جیتنے کے بعد یہی ہمارا قوم سے وعدہ تھا جس کو ہم پورا کرنے جار رہے ہیں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں