پاکستان کے 90 فیصد عوام صدف کے بیانیے کے ساتھ ہیں، شہروز سبزواری

اداکارہ و ماڈل صدف کنول کی جانب سے پاکستانی روایات اور ثقافت سمیت ‘شوہر’ کی اہمیت سے متعلق دیے گئے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ان کے شوہر و اداکار شہروز سبزواری نے کہا ہے کہ پاکستان کے 90 فیصد عوام صدف کے بیانیے کے ساتھ ہیں اور ان کے بیان کا مثبت ہونا ایک طبقے کو ہضم نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ صدف کنول نے چند روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ پاکستان کی سماجی روایات اور ثقافت یہ ہیں کہ شادی شدہ خاتون کو نہ صرف شوہر کے کپڑے استری کرنے ہوتے ہیں بلکہ ان کے جوتے بھی اٹھانے ہوتے ہیں۔
اداکارہ نے کہا تھا کہ پاکستانی سماجی روایات اور ثقافت یہ ہیں کہ ایک خاتون کو شادی کرنی ہوتی ہے، ان کا شوہر ہوتا ہے اور بیوی ہونے کے ناتے عورت کو شوہر کے کپڑے بھی استری کرنے ہوتے ہیں تو ان کے جوتے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ صدف کنول نے فیمنزم اور عورت مارچ کے معاملے پر بھی محتاط انداز میں گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر بحث نہیں کریں گی لیکن وہ اتنا کہنا چاہتی ہیں کہ ایک بیوی کو اپنے شوہر کی تمام ضروریات اور چیزوں کا علم ہونا چاہیے۔ شوہر کا خيال رکھنے سے متعلق صدف کنول کے بيان نے ملک میں نئی بحث چھیڑ دی تھی اور لوگ منقسم دکھائی دیے کسی نے ان کی حمایت کی تو کسی نے تنقید۔ اداکارہ کے مذکورہ بیان پر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور وہ 30 اور 31 جولائی کو ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا جبکہ یکم اور 2 اگست کو ان کے نام سے منسوب ہیش ٹیگ ٹوئٹر ٹرینڈ کا حصہ رہا۔ نجی چینل سما ٹی وی کے پروگرام ‘7 سے 8’ میں میزبان کرن ناز کے سوال پر شہروز سبزواری نے کہا کہ ‘الحمداللہ پاکستان کے 90 فیصد عوام صدف کے بیانیے کے ساتھ ہیں’۔ شہروز سبزواری نے کہا کہ ‘وہاں صدف نہ گن پوائنٹ پر تھی، نہ اس وقت وہ کوئی مظلوم عورت تھی کہ ان سے کہلوایا جاتا کہ وہ زبردستی اپنے میاں کا خیال رکھے یہ ایک محبت کا طریقہ ہے، عزت کا طریقہ ہے جو ہمارے دین نے ہمیں سکھایا ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘جب اس طریقے پر چلتے ہیں تو عورت خود بخود مرد کی عزت کرتی ہے اور مرد اس سے زیادہ عورت کی عزت کرتا ہے جیسے میں اپنی بیوی کی کرتا ہوں’۔ شہروز سبزواری کا مزید کہنا تھا کہ ‘اگر وہ خوش نہیں ہوگی، اگر اسے میری طرف سے عزت نہیں ملے گی تو وہ کیوں یہ سب کرے گی؟’ شہروز سبزواری نے کہا کہ ‘ہوا یوں ہے کہ لوگوں نے صدف کے بیان میں جو مثبت چیز دیکھی وہ ایک طبقے کو ہضم نہیں ہوئی اور اس طبقے نے کہا کہ مظلوم خاتون کو صدف کی باتیں مزید مظلوم بنارہی ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں، ہمارے گھر میں سب سے پہلے مذہب ہے، پھر پاکستان ہے اور اس کے بعد میں مرد یا شوہر ہوں تو جب اسلام کو دیکھا جاتا ہے تو عورت کو اسلام نے جو عزت دی ہے اور اس ملک میں عورت کا وہی مقام ہونا چاہیے جو بہت اونچا اور مضبوط ہے’۔ شہروز سبزواری نے مزید کہا کہ ‘دنیا میں ہر جگہ غلط لوگ ہوتے ہیں، دنیا کے بہت سارے ممالک میں عورت کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں جو 110 فیصد غلط ہے’۔ اداکار کا کہنا تھا کہ ‘اگر میری اہلیہ اپنی عزت اور محبت کا اظہار کرتی ہے لیکن 10 فیصد عوام پر مشتمل طبقہ یہ بولنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آپ جو کہتے ہیں اس پر عمل کریں اور ان کی پرانی ویڈیوز نکال کر لے آتے ہیں تو انہوں نے اپنا کیس خود ہی کمزور کردیا کیونکہ کسی کا ماضی جب بتایا جاتا ہے تو کیس ویسے ہی کمزور ہوجاتا ہے’۔ شہروز سبزواری نے کہا کہ ‘پاکستان کی خواتین نے صدف کا بہت ساتھ دیا ہے اور 4 روز سے وہ مثبت معنوں میں ٹرینڈنگ میں ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘صدف، میں اور میرا پورا خاندان ہر اس عورت کے ساتھ ہے جو مظلوم لیکن جو بے شرمی کو عام بنانا چاہتی ہے ہم اس کے ساتھ نہیں کھڑے’۔ شہروز سبزواری نے کہا کہ ‘جس طرح لوگوں کو میرا جسم میری مرضی نہیں سمجھ آیا اسی طرح جب صدف نے اپنے شوہر کا خیال رکھنے سے متعلق بتایا تو لوگ ان کے ماضی کے بیانات سامنے لے آئے’۔ صدف کے بیان کو ٹرول کرنے سے متعلق شہروز نے کہا کہ ‘جو چیز آگ پکڑے گی اسے ہی انٹرویو میں اٹھایا جاتا ہے، اگر میں تعریف کررہا ہوں تو اس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے مگر صدف نے کہہ دیا کہ مجھے زیادہ پتا ہونا چاہیے تو وہ تو مظلوم ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں ہر مظلوم عورت کے ساتھ کھڑا ہوں، میں کسی کا بیٹا ہوں، شوہر ہوں، باپ ہوں، مجھے عورت سے جتنا پیار ہے وہ میں جانتا ہوں اور اگر وہ عورت میرے ساتھ خوش نہ ہوتی تو ٹی وی پر بیٹھ کر میری تعریف نہ کرتی’۔ اسی شو میں اداکارہ سلمیٰ ظفر نے بھی صدف کنول کے بیان سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا کہ انہوں نے بہت معصومانہ انداز میں خود سے متعلق بات کی لیکن لوگوں کو جو تکلیف پہنچی وہ اس وقت کے حالات کی وجہ سے ہے اور حالات ایسے ہیں کہ ہم روز قتل و غارت اور عورتوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سن رہے ہیں۔

سلمیٰ ظفر نے مزید کہا کہ ہم نے غلطی سے فیمنزم یا عورت مارچ کو صرف جوتے کپڑے، بیٹھنے اٹھنے کے طریقے اور کھانا پکانے سے جوڑ دیا ہے جبکہ جو ایجنڈا اٹھایا گیا ہے وہ مختلف ہے کہ عورت کا ایک مقام دیا جائے۔ اداکارہ نے کہا کہ ہم شہروں کی عورتیں مضبوط ہیں، ان عورتوں کی طرف دیکھیں جنہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، انہیں مار کر پھینک دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدف نے کہا تھا کہ آج کی عورت بہت مضبوط ہے، واقعی مضبوط ہوچکی ہے کیونکہ ہم گاؤں دیہاتوں تک پہنچ چکے ہیں، ہم عورتیں ہی اٹھ کر ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ سلمیٰ ظفر نے کہا کہ جو لوگ صدف کے بیان کے خلاف بات کررہے ہیں انہیں فیمنزم کے حقیقی معنی نہیں پتا، اگر صدف نے بیوقوفی میں یہ بات کہہ دی ہے الفاظ کا صحیح چناؤ نہیں کیا، کہ وہ فیمنزم کے بجائے اپنے اور شہروز کے رشتے کے بارے میں بات کرنے لگ گئی تو ہم کیوں اس طرف چلے گئے باتیں کرنے کو تو بہت کچھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی نور مقدم کا کیس ہوا تھا، آپ قرۃ العین کے کیس کو دیکھیں جو ایک بیوی ہے، جس کے بچے ہیں، جو گھر میں رہی اس نے مار کھائی، ماں باپ کے پاس جاتی رہی انہوں نے ساتھ نہیں دیا اور پھر وہ عورت مرگئی اگر ایسی عورت کا ساتھ دینا ہے تو ہم صدف کی بات کا مطلب نہی ڈھونڈیں گے بلکہ قرۃ العین کے بارے میں سوچیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں