پاکستان کے فارن ایکسچینج ذخائر 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں ،وزارت خزانہ

اسلام آباد۔: وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے فارن ایکسچینج ذخائر 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں جوکہ ایک ریکارڈ ہے، موبائل فون پر ٹیکس 2023ء میں 8 فیصد تک کردیا جائے گا، لوگ ٹیکس گوشوارے جمع کروا کر دہرا ٹیکس واپس لے سکتے ہیں۔ منگل کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خزانہ کی طرف سے بتایا گیا کہ پاکستان کے فارن ایکسچینج ریزرو تاریخ کے بلند ترین سطح پر ہیں۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے آغاز پر فارن ایکسچینج ریزروز 13 ارب ڈالر تھے، 2013ء میں نواز شریف کے دور کے آغاز میں یہ ذخائر 11 ارب ڈالر تھے۔ 2018ء میں ہمارے دور کے آغاز پر 16 ارب ڈالر کے ذخائر تھے اب ہمارے دور میں تین سال میں آج یہ ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں

جو ایک ریکارڈ ہے۔ شیخ روحیل اصغر کے سوال کے جواب میں علی محمد خان نے بتایا کہ کارکردگی میں موازنہ عوام کو بتانا چاہیے، ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، تجارتی خسارہ کم ترین سطح پر آگیا ہے۔ ہمارے دور میں اخراجات کم جبکہ آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ فیصل آباد میں مسلم لیگ (ن) کے دور میں 50 ہزار پاور لومز بند ہوئے جو ہمارے دور میں بحال ہوئے ہیں۔ عبدالقادر پٹیل کے سوال کے جواب میں وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ موبائل ٹیکس 17 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد کیا گیا ہے۔ 2023ء میں اس کو آٹھ فیصد تک لائیں گے۔ موبائل ٹیکس غریب امیر سے یکساں طور پر لیا جاتا ہے۔

لوگ اضافی ٹیکس واپسی کے لئے ٹیکس ریٹرنز جمع کروا سکتے ہیں۔ یہ واپسی ہو سکتی ہے تاہم یہ رجحان کم ہے لوگ ٹیکس واپسی کے لئے گوشوارے جمع نہیں کراتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں