پاکستان میں مقیم افغان مہاجروالدین کی ڈاکٹر بیٹی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا نان سین ریفیوجی ایوارڈ حاصل کر لیا

اسلام آباد۔: پاکستان میں مقیم افغان مہاجروالدین کی ڈاکٹر بیٹی نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا نان سین ریفیوجی ایوارڈ حاصل کر لیا۔ انہیں یہ ایوارڈ مہاجر مائوں اور ان کے نومولود بچوں کے لئے غیرمعمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ پاکستان میں یو این ایچ سی آرکے نمائندہ نوریکو یوشیڈا نے اس موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ سلیمہ رحمان کو پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں پہلی خاتون ڈاکٹر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے جس کے لئے انہوں نے اپنے راستے میں آنے والی ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کیا۔

وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ خواتین بھی معاشرے کے کمزور ترین طبقات کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سلیمہ رحمان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ صوابی میں قائم افغان مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئیں ۔

ان کی پیدائش کے دوران ان کی والدہ زچگی کی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئیں اور انہیں فوری آپریشن کی ضرورت پڑی جس کے باعث نومولود کی زندگی کو خطرات لاحق ہوئے۔ اس صورتحال میں ان کے والدجو ایک دیہاڑی دار مزدور تھے، نے یہ عزم کیا کہ اگر ان کی بیٹی زندہ بچ گئیں تو وہ ان کو ڈاکٹر بنائیں گے۔سلیمہ رحمان اب ایک گائناکالوجسٹ ہیں اورانہوں نے پاکستان کے شہر اٹک میں اپنا کلینک قائم کیا ہے۔

سلیمہ رحمان کو راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی میں افغان مہاجرین کے لئے مختص سیٹ پر داخلہ ملا اور انہوں نے راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ہائوس جاب کی۔اس دوران انہوں نے خواتین خصوصاً افغان مہاجرخواتین کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے گائناکالوجی میں سپیشلائزیشن کا فیصلہ کیا جس کے لئے انہیں راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ہی افغان مہاجرین کے لئے مختص سیٹ پر داخلہ دے دیا گیا اور انہوں نے 2017 میں یہاں سے اپنی سپیشلائزیشن مکمل کی۔

انہوں نے بتایا کہ مہاجر ہونے کی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑا لیکن بالآخر انہیں اپنا کلینک قائم کرنے کیلئے لائسنس مل گیا جس کے بعد انہوں نے اٹک میں اپنا کلینک قائم کیا اور یہاں وہ افغان مہاجر اورمقامی خواتین کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں۔\

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں