پاکستان عرب پارلیمنٹ میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت کیلئے تیار ہے، چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی عرب پارلیمنٹ کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔ :چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام مسلم ممالک اور بالخصوص عرب ممالک کے ساتھ برادارانہ اور مثالی تعلقات ہیں اور پاکستان کیلئے عرب پارلیمنٹ عرب ممالک کا مشترکہ پلیٹ فارم ہونے کے باعث نہایت اہمیت کا حامل ہے، پاکستان عرب پارلیمنٹ میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت کیلئے تیار ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے عرب پارلیمنٹ کے صدر عادل بن عبدالرحمن العسومی کی سربراہی میں پاکستان کا پانچ روزہ دورہ کرنے والے وفد سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان عرب ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعاون و تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔عرب پارلیمنٹ کا مجموعی کردار قابل تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب پارلیمنٹ عرب ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کے مواقع فراہم کرتا ہے اورپارلیمانی رابطہ کاری مستقبل کے تعاون کیلئے نئی راہ ہمورا کرے گی البتہ مسائل کو سمجھنے اور حل نکالنے کیلئے بین الپارلیمانی رابطہ کاری میں مزید تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان مسلم اُمہ کے حقوق کے تحفظ کیلئے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اورخطے کی رابطہ کاری کو بڑھانے کیلئے پاکستان عرب دنیا کے ساتھ رابطہ کاری کے اقدامات اور منصوبوں کو اہم سمجھتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ معاملات میں بہتری کیلئے عرب پارلیمنٹرینز کیلئے قانون سازی سے متعلق تربیتی پروگرام ترتیب دیئے جا سکتے ہیں۔

عرب ممالک اور پاکستان کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سرمایہ کاری، تجارت اور افرادی قوت کے شعبوں میں معاونت کیلئے وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پائیدار ترقی پر یقین رکھتے ہیں اورپاکستان کی خارجہ پالیسی، رابطہ کاری، شراکت دارانہ ترقی اور سماجی و اقتصادی خوشحالی اور امن کے پیغام پر منحصر ہے۔ عرب پارلیمنٹ کے وفد سے ملاقات کے دوران چیئرمین سینیٹ نے مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے جائز حق کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے موقف پر قائم ہیں۔

محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ فلسطینیوں کی طرح مظلوم کشمیری بھی مسلم اُمہ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے عالم اسلام اور عرب ملکوں میں بے چینی اور غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہوگا جو خطے و علاقائی امن و سلامتی کا ضامن ہے۔ عرب پارلیمنٹ کے صدر عادل بن عبدالرحمن العسومی نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کر کے بہت خوشی محسوس ہوئی ہے اور پاکستان عرب ممالک کیلئے انتہائی اہم ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی و سماجی خوشحالی ہمارا مشترکہ عزم ہے اور اسی کو لے کر آگے بڑھیں گے۔ دورہ پاکستان سے پارلیمانی تعاون، ادارہ جاتی رابطوں اور کثیر الجہتی معاونت کیلئے راہیں ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔ عادل بن عبدالرحمن العسومی نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کو عرب پارلیمنٹ کے اجلاس میں خصوصی شرکت اور خطاب کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ عرب پارلیمنٹ میں خطاب کی یہ دعوت کسی بھی غیر عرب پارلیمانی لیڈر کو پہلی بار دی گئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے عرب پارلیمنٹ کے صدر کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اعزاز کو اپنے لئے بہت بڑی خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور جلد پارلیمانی وفد کے ہمراہ عرب پارلیمنٹ کا دورہ کریں گے۔

بعدازاں عرب پارلیمنٹ کے وفد نے سینیٹ میوزیم کا دورہ کیا اور باہمی سمجھوتے کی یاداشت پر دستخط بھی کیے۔عرب پارلیمنٹ کے صدر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے عرب پارلیمنٹ کے صدر کے وفد کی ملاقات کے دوران سینیٹرز ثناء جمالی، مولانا عبدالغفور حیدری، نزہت صادق، حافظ عبدالکریم، فلک ناز، پرنس احمد عمراحمد زئی اور عابدہ محمد عظیم بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں