ٹوکیو اولمپکس: بھارت کی مینز ہاکی ٹیم نے 41 برس بعد تمغہ جیت لیا

ٹوکیو اولمپکس میں بھارت کی مینز ہاکی ٹیم نے جرمنی کو شکست دے کر 41 سال بعد تمغہ جیت لیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اولمپکس گیمز میں یہ بھارت کی 54 ویں کامیابی ہے جس میں ہاکی ٹیم نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ اس کامیابی کے بعد بھارت میں جشن کا سماع ہے جیسے نئی دہلی کی قومی ٹیم ٹوکیو گیمز میں گولڈ میڈل جیتی ہو، یہ بھارتی ہاکی ٹیم کا 12 واں تمغہ ہے جو 1980 کے بعد پہلی مرتبہ حاصل کیا۔ انڈیا کے فارورڈ کھلاڑی سمرنجیت سنگھ نے بھارت کے لیے دو گول کر کے دوسرے کھلاڑیوں سے سبقت حاصل کی، جس میں میچ کا فاتحانہ گول بھی شامل ہے۔ سمرنجیت سنگھ نے کہا کہ ایک خواب پورا ہوا ہے، ہم نے ایک ایک ارب سے زائد بھارتیوں کا سر فخر سے بلند کردیا۔ بھارت کے کپتان منپریت سنگھ نے کانسی کا میڈل کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران فرنٹ لائن طبی عملے کے نام کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم اور بطور کوچ ہم یہ تمغہ اپنے ڈاکٹروں اور (ہیلتھ ورکرز) کے لیے وقف کرنا چاہیں گے جنہوں نے بھارت اور اس دنیا میں ہر جگہ بہت سے لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ بھارت نے 1928 اور 1964 کے درمیان 7 اولمپک طلائی تمغے جیتے اور صرف 1960 کے فائنل میں شکست سے دوچار ہوا تھا، پھر 1980 میں ایک اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ماسکو گیمز اور ٹوکیو کے درمیان بھارت پانچویں نمبر پر بھی نہیں تھا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ہاکی کھلاڑی روپندر پال سنگھ کے حوالے سے کہا کہ بھارت میں ہاکی کو بھول رہے تھے جبکہ انہیں ہاکی پسند تھی لیکن انہوں نے یہ امید چھوڑ دی کہ ہم جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکن آج ہم جیت گئے، وہ مستقبل میں ہم سے مزید توقع کر سکتے ہیں اور ہم پر یقین رکھیں۔ اگر پاکستان کی ہاکی ٹیم کی بات کی جائے تو نیدرلینڈز کی ٹیم نے پاکستان کو دوسرے ہاکی ٹیسٹ میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 1-6 سے شکست دے دی، جس کے ساتھ ہی قومی ٹیم لگاتار دوسری مرتبہ اولمپکس کی دوڑ سے باہر ہو گئی تھی۔ دونوں ٹیموں کے پہلا ٹیسٹ میچ 2-2 سے بربار ہونے کے بعد شائقین کو امید تھی کہ انہیں دوسرے میچ میں بھی اچھی ہاکی دیکھنے کو ملے گی لیکن نیدرلینڈز کی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کو پورے میچ میں تگنی کا ناچ نچاتے ہوئے ہاکی کا بھولا ہوا سبق پڑھایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں