وفاقی انشورنس محتسب شکایت کنندگان کو بلا معاوضہ، فوری انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے،صدر مملکت عارف علوی

کراچی۔: صدر مملکت عارف علوی نے وفاقی انشورنس محتسب (ایف آئی او)کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایف آئی او نے شکایت کنندگان کو ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف بلا معاوضہ اور فوری انصاف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، وفاقی انشورنس محتسب نے دونوں فریقین یعنی انشورنس پالیسی ہولڈرز اور انشورنس کمپنیوں کی رضامندی سے بڑی تعداد میں شکایات کا تصفیہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو گورنرہائوس میں وفاقی انشورنس محتسب کے زیر اہتمام ”انشورنس انڈسٹری میں شفافیت کی اہمیت”کے موضوقع پر منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایف آئی او نے شکایت کنندگان کو 410 ملین روپے کا مالیاتی ریلیف فراہم کیا ہے اور اس سال مالیاتی ریلیف میں 2.13 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ مالیاتی ریلیف کے یہ اعداد و شمار اگلے سال 2.30 ارب روپے تک بڑھنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ شکایت کنندگان کو تیز رفتار اور بلامعاوضہ انصاف فراہم کرنے کی وجہ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں ایف آئی او کے پاس شکایات کے اندراج میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شکایات کا ازالہ 90 فیصد رہا اور کل رجسٹرڈ کیسز میں سے 90 فیصد سے زیادہ کیسز 60 دنوں کے اندر نمٹائے گئے۔

عوام میں وفاقی انشورنس محتسب کے حوالے سے کم آگاہی پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بمشکل 4 سے 5 فیصد لوگ اس ادارے کے متعلق جانتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر زوردیا کہ اس ادارے کی جانب سے دی جانے والی خدمات سے عوام کو آگاہ کیا جائے ۔

صدرمملکت نے وفاقی انشورنس محتسب کو فرائض کی انجام دہی میں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف متاثرہ پالیسی ہولڈرز کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ وفاقی انشورنس محتسب ڈاکٹر محمد خاور جمیل نے کہا کہ قومی جی ڈی پی میں انشورنس سیکٹر کا حصہ کم ہے اور قومی خزانے میں اس کا حصہ بڑھانے کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بینک منیجراس اسکیم کے تحت انشورنس پالیسیوں کا سیلز ایجنٹ بن گیا ہے، جو اس کی ملازمت کا حصہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ بینک منیجر معصوم صارفین کو پھنسانے کے لیے انشورنس اسکیموں کے بارے میں بینکنگ صارفین کے سامنے حقائق کو غلط بیان کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور پالیسی ہولڈرز کو دھوکہ دہی کی سرگرمیوں سے بچایا جا سکے ۔ بعد ازں صدرمملکت نے کلیم سیٹلمنٹ کے چیک شکایت کنندگان کے حوالے کئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں