وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اسلام آباد میں پہلے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر کا افتتاح کیا

اسلام آباد۔: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بدھ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 3 کروڑ 58 لاکھ کی لاگت سے تعمیر کئے گئے پاکستان کے پہلے ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر کا افتتاح کر دیا ۔ یہ سنٹر ٹرانس جینڈرز کو قانونی امداد ، صحت کی بنیادی سہولیات ، نفسیاتی مشاورت اور عارضی پناہ گاہ بھی فراہم کرے گا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سنٹر قائم کیئے جائیں گے تاکہ پاکستان کی خواجہ سرا برادری کو مرکزی دھارے میں لایا جا سکے اور ان کے حقوق کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواجہ سرا برادری کو وہی روزگار اور صحت کے حقوق فراہم کیے جائیں جیسے پاکستان کے دیگر شہریوں کو دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے خواجہ سرا برادری کو احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈ کے اقدامات میں شامل کیا جس کا مقصد ان کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

ڈاکٹر مزاری نے کہا کہ ٹرانس جینڈر پروٹیکشن سینٹر قانونی امداد ، صحت کی بنیادی سہولیات ، نفسیاتی مشاورت اور عارضی پناہ گاہ بھی فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ وزارت انسانی حقوق نے خواجہ سراؤں کے (حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2018 کے مؤثر نفاذ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں جس کا مقصد خواجہ سراؤں کے تحفظ ، بحالی اور بنیادی حقوق کو یقینی بنانا ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کے آئین کی میں ہر شہری کوضمانت دی گئ ہے۔

وزارت انسانی حقوق نے اسے ٹرانس جینڈرپروٹیکشن ایکٹ کے سیکش چھ [اے] کے تحت قائم کیا ہے۔ یہ مرکز ٹرانس جینڈر افراد کو بحالی ، قانونی اور طبی ، نفسیاتی دیکھ بھال کی سہولیات اور ریفرل خدمات بھی فراہم کرے گا۔

اس سے عام لوگوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز میں بیداری شعور پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ تقریب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق مسٹر لال چند ، سیکرٹری ، وزارت انسانی حقوقانعام اللہ ، وزارت انسانی حقوق کے عہدیداران ، اور خواجہ سراء کارکنان اور ان کی برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں