زلفی بخاری کو وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت دے دی گئی

رسائی نیوز نمائندہ خصوصی لاہور: جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی دہری شہرت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ زلفی بخاری پر لاگو نہیں ہوتا، معاون خصوصی کی تعیناتی وزیراعظم کا اختیار ہے، زلفی بخاری آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی زد میں نہیں آتے۔ چیف جسٹس نے ظفر اقبال کلانوری سے کہا کہ آپ نے فیصلہ غور سے نہیں پڑھا، ہم نے اس فیصلے میں پابندی نہیں لگائی، ہم نے پارلیمنٹ کو تجاویز دی ہیں، ہم اوورسیز پاکستانیوں کی بہت قدر کرتے ہیں جیسے انہوں نے ڈیم فنڈ میں حصہ لیا، آپ کو زلفی بخاری کی تعیناتی کیخلاف رولز آف بزنس کو چیلنج کرنا چاہئے تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ معاون خصوصی کی تعیناتی کا فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے، کیونکہ حکومت چلانا وزیراعظم کا کام ہے۔ ظفر کلانوری نے کہا کہ قانون نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے معاون خصوصی کی کوئی اہلیت مقرر نہیں تو جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر یہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ زلفی بخاری بطور وزیر کام کر رہے ہیں اور کابینہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، بیرون ملکوں سے معاہدے کررہے ہیں، یہ کام وزیر کے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم زلفی بخاری کو آپ کی استدعا کے مطابق نکال نہیں سکتے، پارلیمنٹ کو اس پر تجاویز دے سکتے ہیں، انہیں کہاں سے منسٹر بنایا گیا، پوری سمری لائیں، انہوں نے اپنی ویب سائٹ پر کیسے وزیر مملکت کا عہدہ لکھ دیا؟، زلفی بخاری کی اہلیت بتائیں، نئے پاکستان میں جید لوگ ہونے چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں