وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدالتی حکم کی تعمیل کی، سانحہ اے پی ایس پر پوری قوم رنجیدہ ہے، انٹیلی جنس ناکامی نائن الیون واقعہ میں بھی ہوئی، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، چوہدری فواد حسین کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔: وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سانحہ اے پی ایس از خود نوٹس پر سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدالتی حکم کی تعمیل کی، یہ وہ احترام ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اداروں کا کرتی ہے، سانحہ اے پی ایس پر پوری قوم کا دل رنجیدہ ہے، چار ہفتوں میں سپریم کورٹ کے احکامات پر پیشرفت بارے رپورٹ جمع کرائیں گے، انٹیلی جنس ناکامی نائن الیون واقعہ میں بھی ہوئی، سات بمبار وائٹ ہائوس کے سامنے ہوٹل میں تین ماہ تک رہے جس کا کسی کو پتہ نہیں چلا، سانحہ اے پی ایس میں انٹیلی جنس ناکامی کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت نے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر دیا گیا،

نیشنل ایکشن پلان کے بعد آج ہماری زندگیاں نارمل ہوئی ہیں، امن قائم کرنے میں پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی موجود تھے۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر عدالتی حکم کی تعمیل کی، وزیراعظم نے آئین و قانون کی حکمرانی کو نافذ کر کے دکھایا ہے جو ہمارے منشور کا حصہ ہے، یہ وہ احترام ہے جو پی ٹی آئی کی حکومت اپنے اداروں کا کرتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پر پاکستان کے ہر شہری کا دل رنجیدہ ہے، سانحہ اے پی ایس کے وقت مسلم لیگ (ن) برسراقتدار تھی، ہمارے لئے بہت آسان تھا کہ ہم انہیں مورد الزام ٹھہرا کر بات ختم کر دیتے لیکن ہم اپنی ذات سے بڑھ کر پاکستان کی قومی وحدت کو دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پر ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے متحد ہو کر نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا، اس نیشنل ایکشن پلان کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس ناکامی نائن الیون واقعہ میں بھی ہوئی، سات بمبار وائٹ ہائوس کے سامنے ہوٹل میں تین مہینے تک رہے جس کا کسی کو پتہ نہیں چلا۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس میں انٹیلی جنس ناکامی کے بعد جو اقدامات اٹھائے گئے اس کے تحت پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کر دیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے بعد آج ہماری زندگیاں نارمل ہوئی ہیں، اس کے لئے پاک فوج اور سکیورٹی اداروں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، پارلیمان نے اس معاملے پر قومی اتحاد تشکیل دیا، آج بھی ہم اسی نیشنل ایکشن پلان کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تین سال پاکستان کی تاریخ کے پرامن ترین سال ہیں، ہم نے کورونا وائرس کی وباکا مقابلہ کیا اور معاشی چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ، انٹیلی جنس اداروں، پاک فوج اور آئی ایس آئی کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے ملک کی سیاسی قیادت کے دور اندیشانہ فیصلوں پر شاندار طریقے سے عمل درآمد کیا۔

چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس وقت افغانستان کے اندر جو صورتحال درپیش ہے اگر کسی دوسرے ملک کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کاحکم ہے کہ سانحہ اے پی ایس میں جن لوگوں کی اخلاقی ذمہ داریاں بنتی تھیں وہ متعین کی جائیں، چار ہفتے میں سپریم کورٹ کے احکامات پر پیشرفت رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کریں گے، اس میں انتظامیہ، عدلیہ اور باقی اداروں سمیت تمام اداروں نے اپنا اپنا کام کرنا ہے۔ واضح رہے کہ سانحہ اے پی ایس میں بچوں سمیت 147 ہلاکتیں ہوئیں اور 125 زخمی ہوئے، اساتذہ کے ورثاکو معاوضہ دیا گیا، پرنسپل کو ستارہ جرات اور تمغہ شجاعت سے نوازا گیا،

معاوضے میں فرق کے بارے میں ہائی کورٹ میں کیس 12 مارچ 2021ءکو نمٹایا گیا،اس پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ آرمی پبلک سکول اینڈ کالج کے واقعہ میں ملوث دہشت گردوں اور مجرموں کے خلاف پاک فوج کی جانب سے فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ دہشت گردوں کے ٹرائل کی صورتحال یوں رہی، 6 دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی گئی،

دہشت گرد حضرت علی، عبدالسلام، سبیل اور مجیب کو 2 دسمبر 2015ءکو پھانسی دی گئی جبکہ دہشت گرد رضوان کو 24 مئی 2017ءکو پھانسی دی گئی، اس کے علاوہ دہشت گرد عتیق کو سزائے موت سنائی گئی جس کی نظرثانی کی درخواست اگست 2016ءسے سپریم کورٹ میں ہے۔ اے پی ایس سانحہ میں شہید اور زخمی ہونے والوں کو دیئے جانے والے معاوضہ کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے شہداءکے ورثاکو 277.8 ملین روپے، زخمیوں کو 3.675 ملین روپے (مجموعی طور پر 281.475 روپے) دیئے گئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے شہداکے ورثاکو 286 ملین روپے، زخمی افراد کو 123.8 ملین روپے (مجموعی طور پر 409.8 ملین روپے) دیے گئے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے شہداءکے ورثاءکو 6.57 ملین روپے، زخمیوں کو 55.08 ملین روپے (مجموعی طور پر 61.65 ملین روپے)، پاکستان آرمی کی جانب سے 575.755 ملین روپے شہداکے ورثاکو دیئے گئے، 153.575 ملین روپے زخمیوں کو ادا کئے گئے، مجموعی طور پر 729.33 ملین روپے ادا کئے گئے۔ ہیڈ کوارٹر 11 کور کی جانب سے شہداکے ورثاکو61.152 ملین روپے ،

زخمیوں کو 1.199 ملین روپے معاوضہ دیا گیا۔ مجموعی طور پر شہداکے ورثاکو 1207.277 ملین روپے اور زخمیوں کو 337.329 ملین روپے معاوضہ ادا کیا گیا، معاوضے کی مجموعی رقم 1544.606 ملین روپے ہے۔ اس کے علاوہ سانحہ اے پی ایس سے متاثرہ ہر خاندان کے تین افراد کو عمرہ پیکیج دیا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں