نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز قائم کئے ہیں ، چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پہلی بار ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا ہے جن کو کوئی چھو نہیں سکتا تھا، نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز بھی قائم کئے ہیں ، اس اقدام کے باعث نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کررہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کی مجموعی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں اکتوبر 2017 سے 31 اگست 2021 کے دوران پہلی بار ان افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا گیا جن کو کوئی چھو نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے کہاکہ نیب منی لانڈرنگ ،جعلی اکائونٹس،اختیارات کے ناجائز استعمال ، آمدنی سے زائد اثاثے، عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی، ہائوسنگ سوسائٹیز اور مضاربہ جیسے میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ 179 میگاکرپشن کیسز میں سے 66 میگاکرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے جبکہ 93 میگاکرپشن کیسز متعلقہ احتساب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی سے ناانصافی اور غربت پھیلتی ہے جبکہ دنیا بھر میں اس سے معاشرے کی سماجی و معاشی ترقی متاثر ہوتی ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن کے تحت پاکستان کافوکل ادارہ ہے جو کہ ’’احتساب سب کیلئے ‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو کرپشن فری بنانے کیلئے بدعنوانی کے ناسور کے خاتمہ کیلئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو سارک اینٹی کرپشن کا پہلا چیئرمین منتخب کیاگیا ۔ نیب نے پاکستان میں جاری سی پیک منصوبوں کی نگرانی کے لئے چین کےساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ نیب نے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر انکوائریوں اور انویسٹی گیشن میں بہتر ی لانے کے لئے اور سینئر سپر وائزری کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔

نیب نے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے جس میں ڈیجیٹل فرانزک ، سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ کے تجزیے کی سہولت موجود ہے ، ان اقدامات سے نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے جامع معیاری مقداری نظام وضع کیا ہے۔

انفورسمنٹ حکمت عملی کے تناظر میں چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کی قیادت میں نیب نے مقدمات کو نمٹانے کے لئے 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جن میں شکایات کی جانچ پڑتال کے لئے 2ماہ ، انکوائری کے لئے 2 ماہ اور انویسٹی گیشن کے لئے 4 ماہ کا عرصہ مقرر کیاگیا ہے۔ نیب نے تمام علاقائی بیوروز میں وٹنس ہینڈلنگ سیلز بھی قائم کئے ہیں ۔ اس اقدام کے باعث نیب ٹھوس دستاویزی شواہد کی بنیاد پر عدالتوں میں اپنے مقدمات کی بھرپور پیروی کررہا ہے۔

نیب مقدمات میں سزائوں کی مجموعی شرح 66 فیصد ہے۔ چیئرمین نیب نےتمام نیب افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کو کرپشن فری بنانے میں اپنی کوششیں دو گنا کریں۔ انہوں نے کہاکہ نیب کے تمام افسران بد عنوانی کے خاتمہ کو قومی فرض سمجھ کر عزم، میرٹ، محنت اور شفافیت کے ذریعے اداکریں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان، عالمی اقتصادی فورم، گلوبل پیس کینیڈا، پلڈاٹ اور مشال پاکستان جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے نیب کی انسداد بدعنوانی کی کوششوں کو سراہا ہے ۔ گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59 فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں