نیب نےادارے کومذاق بنایا ہوا ہے : سندھ ہائی کورٹ

رسائی نیوزکراچی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں جسٹس عمر سیال پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو سکھر میں ترقیاتی منصوبوں کرپشن اور اسٹنٹ کمشنر کے خلاف نیب انکوائری سے متعلق سماعت ہوئی جس میں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ نیب کے مقامی پراسیکیوٹرز کو کیسز کے بارے میں کچھ پتا ہی نہیں، نیب پراسیکیوٹر محض یہ بول دیتے ہیں کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، سپریم کورٹ کی جانب حکم امتناع ختم کرنے کے لیے نیب نے کیا اقدامات کیے اس کا کسی کو پتا نہیں ہوتا، نیب 3،3 سال انکوائریاں کرتا ہے اور چوتھے سال کہتا ہے کہ ملزم مطلوب ہی نہیں۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو زیر التوا انکوائریاں جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی، چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ریماکس دیے کہ نیب کے تفتیشی افسران کوئی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں، عدالت نے اسٹسنٹ کمشنر عبدالجبار کے خلاف انکوائری ختم کرنے کی رپورٹ منظور کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں