نیب لاہور کا اپنے ڈی جی کا دفاع : جعلی ڈگری معاملہ

رسائی نیوز لاہور: نیب ذرائع کے مطابق ان کے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم مردِ مومن ہیں یہی وجہ ہے کہ ڈی جی نیب لاہور پٹواری مافیا کے نشانے پر آچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ جو بکا نہیں، جھکا نہیں اسے توڑنے کے لئے نت نئی سازشوں کا جال بُننا شروع کر دیا گیا ہے اور ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی شخصیت کو متنازع بنانے کیلئے ان کی اصل ڈگری کی رنگین کاپی میں ازخود فونٹ کے ردوبدل کے ذریعے تبدیلی کی گئی اور اس جعلی کاپی کو میڈیا میں وائرل کیا گیا۔

نیب کا کہنا ہے کہ ڈی جی نیب کو الخیر یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اصل ڈگری “ایریل” فونٹ میں ہے جس کی کلر کاپی کو دانستہ طور پر “کیلیبری” فونٹ میں تبدیل کیا گیا، کیلیبری فونٹ 2003 میں متعارف کروایا گیا لیکن اس وقت ان کی ڈگری تصدیق کے مراحل سے گزر چکی تھی تاہم یہ بات عیاں ہے کہ ایک کرپٹ مافیا ان کی شخصیت کو متنازع بنانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ یہ وہی مافیا ہے جس نے ایون فیلڈ فلیٹس کے معاہدے میں بھی ردوبدل کرنے کی سازش کی لیکن ان کی یہ سازش ناکام رہی۔

اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کا مبینہ جعلی ڈگری سے متعلق کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔

یاد رہے گزشتہ سال 26 اکتوبرکو ڈی جی نیب لاہورشہزاد سلیم کی تعیناتی مبینہ جعلی ڈگری پر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں