نیب علیمہ خان کیخلاف اربوں کی جائیداد کی تحقیقات کرے، نواز شریف

رسائی نیوز لاہور : احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ملک کو اندھیروں سے نکالا، فارن ایکس چینج کو بڑھایا، بجلی کے منصوبوں میں 160 ارب روپے کی بچت کی، دنیا نے ہماری معیشت کو مثبت کہا لیکن افسوس ہمارے کاموں کے نتیجے میں ہمیں جیل بھیجا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف کو آشیانہ کرپشن کیس میں گرفتارکرنے کی کیا تُک بنتی تھی، شاباش دینے کے بجائے شہباز شریف کو جیل میں ڈال دیا گیا، حالانکہ بجلی کے منصوبوں میں بچت کے پیچھے ان کی انتھک محنت تھی، ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام مطلب ہے کہ اس شخص پر کوئی اور الزام نہیں ملا۔

نواز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت میں عوام کے لیے دال چنا چاول سب کچھ سستا تھا لیکن اب برا حال ہے، ہم نے چین کے ساتھ مل کر جے ایف 17 تھنڈر تیار کیا، کیا اس کا انعام یہ ہے کہ ہم جیلوں کا منہ دیکھیں، جو منصوبے ہم نے لگائے یہ حکومت انہیں کھولنے کیلئے تیار نہیں، موٹروے کا نام پی ٹی آئی موٹروے رکھ دیں لیکن اسے کھولیں توسہی، کیا سزا سننے کے بعد لندن سے واپس آنے والا این آر او کرسکتا ہے، پھر آپ کہتے ہیں میں بولتا نہیں اور اگر چپ ہوں تو کہا جاتا ہے کہ میں نے سمجھوتا کرلیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ بہتان تراشی والی سیاست میری فطرت ہی نہیں، میں گالم گلوچ والی سیاست نہیں کرتا، نیب مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے خلاف تو چھان بین کرتا ہے، اسے علیمہ خان کے خلاف بھی تحقیقات کرنی چاہئیں کہ انہوں نے جائیداد کیسے بنائی، ان کے پاس دبئی میں اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے آئی اور اس کا منی ٹریل کیا ہے، ان کے پاس تو کوئی ذرائع آمدن بھی نہیں، وہ شوکت خانم اسپتال کے بورڈ کی ممبر بھی ہیں، انہوں نے جائیداد چھپانے پر جرمانہ ادا کیا تو کیا یہ این آر او نہیں، قوم جاننا چاہتی ہے کہ علیمہ خان کی جائیداد کے پیچھے کون ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں