نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشر ق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے علماء اور مشائخ سے رابطوں اور ملاقاتوں کا آغاز کر دیا

اسلام آباد۔: وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایات پر ملک بھر میں محرم الحرام میں امن و امان کے قیام، بین المسالک و بین المذاہب رواداری اور علماء و مشائخ کے مسائل کے حل کیلئے نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشر ق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے رابطوں اور ملاقاتوں کا آغاز کر دیا۔ ملک کے مختلف شہروں میں علماء و مشائخ اور ذمہ داران سے ملاقات، پاکستان علماء کونسل اور متحدہ علماء بورڈ کے تعاون سے پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کی توثیق کے ساتھ مکمل عملدر آمد کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ علماء و مشائخ نے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کو ملک بھر میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے ویژن کی مکمل تائید و حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فیصل آباد ، لاہور ، اسلام آباد ، راولپنڈی، کراچی ، پشاور ، کوئٹہ ،آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے ملاقاتوں کے بعد جاری ایک بیان میں حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان دشمن قوتوں نے وطن عزیز پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے فرقہ وارانہ تشدد اور پاک فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جسے علماء و مشائخ اور پاکستان کی عوام نے ہمیشہ ناکام بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر ملک کے ہزار وں علماء و مشائخ ، مفتیان اکرام اور مسلم اور غیر مسلم قائدین کے دستخط ہیں۔ پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل کروایا جائے گا۔ کسی فرد، گروہ یا جماعت کو مقدسات کی توہین نہیں کرنے دی جائے گی، توہین و تکفیر کا سلسلہ اب ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی واضح ہدایات ہیں کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کو آئین پاکستان کے تحت جو حقوق دیئے گئے ہیں ان کا ہر سطح پر ریاست تحفظ کرے گی۔ گذشتہ سات ماہ میں ملک میں کوئی مذہبی قتل یا فساد نہیں ہوا ہے ۔

ہمیں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی سوچ و فکر کو ختم کرنے کیلئے ہر سطح پر کوشش کرنی ہے۔نوجوان نسل کو اسلام کی حقیقی تعلیمات پہنچانی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اسلامک فوبیا اور ناموس رسالت ، عقیدہ ختم نبو ت ؐکے معاملہ پر ہر سطح پر مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے ، کسی کونظریہ پاکستان اور اسلام کی اساس پر حملہ آور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے بعد بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے حوالہ سے کام کرنے والی تمام این جی اوز کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔ہم چاہتے ہیں کہ امن ، رواداری ، محبت کا فروغ ہو اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ ختم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں