نتھیا گلی گورنر ہاؤس کے اطراف خاردار باڑ،عوام کو شکایت

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے نتھیا گلی میں قائم گورنر ہاؤس کی عمارت کے اطراف خار دار باڑ لگادیے جانے سے ایک قدرتی ٹریل پر چلنے کا راستہ بھی بند ہوگیا جس کے باعث مقامی افراد اور سیاح اس گزرگاہ سے استفادہ کرنے سے محروم ہوگئے ہیں۔ مذکورہ باڑ گورنر ہاؤس کی عمارت سے خاصا آگے جاکر پی اے ایف بیس کے نزدیک واقع گرین اسپاٹ روڈ تک لگادی گئی ہے اور وہ اس راستے سے بھی گزرتے ہوئے اسے بند کرچکی ہے جسے مقامی افراد اور سیاح آگے جانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ چوں کہ باڑ کی وجہ سے اب سیاح اور دیگر افراد نہ ہی گورنر ہاؤس کے زیادہ نزدیک جاسکتے ہیں اور نہ ہی پہلے کی طرح اس قدرتی گزرگاہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے وہ اس صورتحال پر خاصے ناخوش ہیں اور کچھ کی جانب سے وزیر اعظم پورٹل پر اس کی شکایت بھی کی گئی ہے۔سطح سمندر سے 7 ہزار922 فٹ کی بلندی پر واقع اس مقام یہ گورنر ہاؤس سن 1923 میں تعمیر ہوا تھا اور اس کے احاطے کا کل رقبہ کل 76 کنال ہے۔

رپورٹر ہٰذا نے جب متعلقہ حکام سے باڑ لگائے جانے کی وجہ دریافت کی تو نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ یہ فیصلہ سیکورٹی خدشات کے بنیاد پر کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ جہاں بھی باڑ لگائی جا رہی ہے وہ گورنر ہاؤس کا اپنا علاقہ ہے جسے اب کوارڈن آف کیا جا رہا ہے نہ کہ کسی اضافی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ باڑ لگائے جانے سے جو قدرتی ٹریل بند ہوئی ہے وہ کوئی آفیشل راستہ نہیں تھا بلکہ ایک چھوٹی سی پگڈنڈی سی بنی ہوئی تھی جس سے وہاں سے گزر کر قریبی گاؤں میں جانے کے لیے مقامی افراد کو پہلے روکا نہیں جاتا تھا اور اس راستے پر سیاح بھی گھوم پھر سکتے تھے۔ اب چوں کہ وہ کوئی باقائدہ راستہ نہیں تھا اور گورنر ہاؤس کی حدود کا ہی ایک حصہ تھا اس لیے اسے اور چند دیگر ایسی پگڈنڈیوں کو سیکورٹی کے پیش نظر بند کردیا گیا ہے۔

گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بھی ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مزید واضح کیا کہ نزدیکی آبادیوں میں جانے کے لیے ایک باقائدہ راستہ علاقے میں موجود ہے جسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے چوں کہ گورنر ہاؤس کی حدود سے گزرنے والا وہ راستہ کھلا تھا اس وجہ سے لوگ اسے ایک شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے لیکن اب انہیں نزدیکی آبادیوں میں جانے کے لیے تھوڑا گھوم کر وہ باقائدہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نتھیا گلی کے دورے کے موقع پر گورنر ہاؤس میں قیام کیا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم نے 25 اگست 2019 کو اپنے ایک ٹویٹ میں گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھولے جانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا اس ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ‘نوآبادیات کی یہ نشانیاں جن کی دیکھ بھال کیلئے ٹیکس کے پیسوں سے سالانہ کروڑوں کے اخراجات اٹھتے، اب حکومت کیلئے آمدن کا ذریعہ بنیں گے’۔

حکام کے مطابق ایسا نہیں تھا کہ گورنر ہاؤس کو عام پبلک کے دوروں کے لیے کھول دیا گیا ہو بلکہ حکومت کا منصوبہ یہ تھا کہ اس عمارت رہائش کے مقاصد کے لیے سیاحوں کو کرایے پر دیا جائے لیکن کرایے کی مد میں کثیر رقم طے کیے جانے کے باعث عوام نے اس جانب کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں