مضرصحت پانی پر سپریم کورٹ نےا یک کمپنی کا پلانٹ بندکر دیا

رسائی نیوزنمائندہ خصوصی لاہور: چیف جسٹس ثاقب نثار کی سر براہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں زیرزمین پانی کے استعمال کے کیس کی سماعت کی۔ پانی ،مشروبات بنانے والی گیارہ کمپنیوں کے مالکان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت میں سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ناقص پانی کی فروخت پرمقدمات کیوں درج نہیں کرائے گئے- جس پر ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے جواب دیا کہ نوٹس بھجوائے گئے مگرانتظامیہ نے وصول کرنے سے انکار کیا۔آڈیٹرجنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیڑھ لیٹرپانی کی بوتل پرپیکنگ سمیت آٹھ روپے 79 پیسےلاگت آتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، عدالت سخت کاروائی کرے گی، جب تک بڑے آدمی پر ہاتھ نہیں ڈالاجائے گا وہ ٹھیک کام نہیں کرے گا،ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے بدتمیزی کرنے پر کمپنی کے مالک پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے باپ کے بیٹے گھرپرہونگے، گرفتارکرلیں اورمقدمہ درج کریں۔ معافی مانگنے پرسپریم کورٹ نے گرفتار کرنے سے روک دیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ صاف پانی فروخت کرنے والی کمپنیاں قابل تحسین ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے غیرمعیاری پانی کی رپورٹ آنے پرکمپنی بند کرنےکا حکم دیتے ہوئے پانی فروخت کرنے والی تمام کمپنیوں کو10دن میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کی،ساتھ ہی چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ تمام کمپنیاں مل بیٹھ کرمعاملات حل کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں