مزارات پر چڑھائی جانے والی چادروں کے بارے میں شرعی احکام

سوال: بزرگانِ دین کے مزارات پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ، جن پر کلمۂ طیبہ، چار وںقل ، آیۃ الکرسی اور قرآنی آیات پرنٹ کی جاتی ہیں ، چادر کی تیاری سے لے کر فروخت ہونے تک ان کے آداب کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا ۔ یہ مزارات پر چڑھانے کے بعد زائرین میں تقسیم کردی جاتی ہیں، بعض زائرین یہ چادر اپنے کاندھوں پرشال کی طرح اوڑھ لیتے ہیں۔ان ہی چادروں کو قبرستان میں دھول مٹی میں عام لوگوں کی قبروں پر بھی ڈالاجاتا ہے ، اِس سب کا شرعی حکم کیا ہے ؟(ملک عبدالوحید ، سیکریٹری ، بورڈ آف ریونیو ،لاہور، پنجاب )

جواب: صالحین اور اولیائے کرام کی قبور پر چادر ڈالناجائزہے ،کعبۃ اللہ کو غلاف پہنانا اس کے جواز کے لیے کافی ہے ، ظاہرہے کہ یہ بھی تکریم کی ایک علامت ہے ۔بزرگانِ دین کے مزارات پر چادریں اس لیے ڈالی جاتی ہیں کہ عوام کی نگاہ میں اُن قبور کی تعظیم ہواور زائرین ادب سے حاضر ہوں ،علامہ ابن عابدین شامی ؒنے لکھا ہے : ترجمہ: ’’بعض فقہائے کرام نے صالحین اوراولیاء کی قبورپر چادریں ڈالنے اور عمامے رکھنے کو مکروہ کہاہے ، ’’فَتَاوَی الحُجّۃ ‘‘ میں کہاگیا: ’’اور قبروں پر چادریں ڈالنا مکروہ ہے ‘‘،لیکن اب ہم کہتے ہیں: جب (قبورپر چادریں ڈالنے کا) مقصدعام لوگوں کی نظر میں قبروں کی تعظیم ہو ،تاکہ وہ صاحبِ قبر کو( معمولی اور) حقیرنہ سمجھیں اور (ان کے مقام سے) غافل زائرین کوادب اور خشوع کی طرف مائل کرنا ہو ،تویہ جائز ہے ،کیونکہ اعمال کامدار نیتوں پر ہے ،اگرچہ (اپنی اصل کے اعتبار سے) یہ بدعت ہے (کیونکہ یہ سنّت سے ثابت نہیں) ،یہ ایساہی ہے جس طرح فقہاء نے کہاہے : (بیت اللہ کا) طواف کرنے کے بعد ادباً الٹے پاؤں واپس لوٹے ،حتیٰ کہ بیت اللہ کی تعظیم کرتے ہوئے مسجدالحرام سے نکلے ۔

’’منہاج السالکین ‘‘ میں کہا: ’’اس کی بابت نہ کوئی سنّت مروی ہے اور نہ کسی صحابی ؓکا اَثر بیان کیاگیا ہے ،البتہ ہمارے بعض اصحاب نے یہ شِعار اختیار کیا ہے ، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد6، ص:363)‘‘۔یعنی صالحین کی قبور پر چادر ڈالنا جواز کے درجے میں ہے ، سنّت ومستحب نہیں ہے۔علامہ ابن عابدین شامی نے یہ مسئلہ ’’کَشْفُ النُّوْر‘‘ اور’’ اَلْعُقُودُالدَّرِیَّۃ فِی تَنْقِیْح الْحَامِدِیَّۃ ‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے ۔

علامہ غلام رسول سعیدی ؒ لکھتے ہیں: ’’اولیاء اللہ اورعلمائے کِبار کے مزارات پر اُن کی تعظیم کے نقطۂ نظر سے چادر چڑھانا جائز ہے ،علامہ ابن عابدین شامی کی مذکورہ عبارت ذکرکرنے کے بعد علامہ غلام رسول سعیدیؒ لکھتے ہیں:’’علامہ نابلسی ،علامہ اسماعیل حقی، علامہ شامی اور علامہ رافعی نے مزارات پر چادر چڑھانے کو جائز قرار دیاہے، لیکن اس میں اِفراط اور بے اعتدالی کرنا صحیح نہیں ہے ، جس طرح اوباش لڑکے باجوں ،تاشوں کے ساتھ ناچتے گاتے چادر کا جلوس لے کر مزارات کی طرف جاتے ہیں۔ البتہ ادب اورتعظیم کے ساتھ نعت خوانی کرتے ہوئے چادر چڑھانا جائز ہے ،البتہ ضرورت سے زیادہ چادریں چڑھائی جائیں یا اوباشوں کے طریقے پر ڈھول بجاتے ہوئے چادریں چڑھائی جائیں ،یہ دونوں صورتیں اِسراف اورگناہ ہیں ۔جب تعظیم کے لیے مزار پر چادر موجود ہو تو مزید چادروں کے بجائے وہ کپڑا غریبوں پر صدقہ کرکے اس کا ثواب صاحبِ مزار کو پہنچادیں‘‘۔(شرح صحیح مسلم،جلد 2،ص:816)اِسی طرح بعض لوگ حضور غوث الاعظم ؒیا حضرت داتا صاحب ؒکے مزارات پر چادر چڑھانے کے لیے چندے مانگتے ہیں اور اس کے لیے ڈھولک بجاتے ہوئے بازاروں میں گھومتے ہیں ،یہ کوئی شرعی ضرورت نہیں ہے،اس لیے یہ شِعار بھی جائز نہیں ہے ۔

جن چادروں پر قرآنی آیات یا کلمۂ طیبہ لکھاہو،لکھے ہوئے حصے کو بے وضو چھونا جائز نہیں ، چادر تیار کرنے والے ، فروخت کرنے والے ، خریدنے اور پھر مزارات پر چڑھانے والے غرض سب کا ان مُقدّس کلمات کے لکھے ہوئے حصے کو بے وضو ہاتھ لگانا ،اٹھانا جائز نہیں ہے ،کیونکہ قرآنی آیات کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :لَا یَمَسُّہٗ اِلّا الْمُطَہَّرُوْنَoترجمہ:’’اس (کتاب ) کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں‘‘۔ (سورۂ واقعہ:79)اِسی طرح جس پریس میں قرآن کریم کی طباعت ، جزءبندی اور جلد بندی ہورہی ہو ،وہاں بھی کارکنان اور کاریگروں کو باوضو ہوکر کام کرنا چاہیے ۔

علامہ علاء الدین کاسانی حنفیؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ہماری دلیل قرآن مجید کی آیت :ترجمہ:’’اس (کتاب ) کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، (سورۂ واقعہ: 79) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: غیر طاہر قرآن کو نہ چھوئے ‘‘۔(سُنن ترمذی: 4853) اس لیے کہ قرآن کی تعظیم واجب ہے ، بے وضو شخص کااپنے ہاتھوں سے قرآن کریم کو چھوناتعظیم کا شِعار نہیں ہے ‘‘۔ مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اور جن درہم پر قرآن مجید کی آیات لکھی ہوں (کیونکہ ماضی میں سونے چاندی کے سکوں پر اللہ ورسولﷺ کانام یاکوئی آیت لکھنے کا رواج تھا)اُنہیں بھی بے وضو چھونا جائز نہیں ہے اور تفسیر کی کتابوں کو بے وضو چھونا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ قرآن مجید کو چھونے والا ہوجائے گا ،رہا فقہ کی کتابوں کو بے وضو چھونا تواس میں کوئی حرج نہیں ہے اور مستحب یہ ہے کہ ایسانہ کرے‘‘۔(بدائع الصنائع ، جلد1،ص:34)

لہٰذا چادر پرقرآنی آیا ت لکھنا مکروہ ہے ،قبر پر قرآن مجید کی آیات یا اشعارلکھنا یا مبالغہ آرائی پر مبنی القاب لکھنا مکروہ ہے، علامہ ابن عابدین شامی ؒلکھتے ہیں: ترجمہ:’’ یہاں تک کہ قبر پر قرآن مجید (کی آیات) لکھنا یا اَشعار یا (صاحبِ قبر کی) تعریف میں مبالغہ آرائی پر مبنی القاب لکھنا مکروہ ہے‘‘۔(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ، جلد3،ص:135)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں