‘مرد’ کو افضل بنایا گیا، بس بات ختم، نور بخاری

مذہب کی خاطر شوبز کی دنیا کو خیرباد کہنے والی اداکارہ نور بخاری نے کہا ہے کہ خدا نے ‘مرد’ کو افضل بنا کر تخلیق کیا اور اس معاملے پر بحث فضول ہے۔ نور بخاری نے حال ہی میں انسٹاگرام اسٹوری میں صدف کنول اور شہروز سبزواری کی جانب سے دیے گئے بیانات کی ایک خبر کا لنک شیئر کرتے ہوئے اس پر اپنا رد عمل دیا اور ‘مرد’ کو افضل قرار دیا۔ نور بخاری نے اسٹوری میں شہروز سبزواری کی خبر کا لنک شیئر کیا، جس میں اداکار نے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ صدف کنول نے دین اسلام کے دائرے میں رہ کر شوہر کی اطاعت کی بات کی اور ان کی مخالفت کرنے والے افراد بے شرمی عام کرنے کے خواہاں ہیں۔ شہروز سبزواری نے اہلیہ کے بیان پر لوگوں کے ہنگامے کے بعد ایک پروگرام میں حال ہی میں صدف کنول کا ساتھ دیا تھا اور کہا تھا کہ ملک کی 90 فیصد خواتین ان کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں عورت مارچ میں غلط نعرے لگائے گئے اور آزادی مانگی گئی مگر وہ اس معاملے پر خاموش رہے۔
شہروز سبزواری کے مطابق صدف کنول کے بیان کی مخالفت کرنے والے مذہبی احکامات کے خلاف ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا تھا کہ کیا عورت کی تذلیل کرنا ہی فیمنزم ہے؟ شہروز سبزواری کے بیان پر نور بخاری نے اپنا رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ ‘مرد’ کو افضل بناکر تخلیق کیا گیا ہے اور اس معاملے پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اپنی اسٹوری میں صدف کنول کے بیان کی جانب اشارہ دیتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے صرف یہ بتایا تھا کہ دین اسلام کی تعلیمات کیا ہیں مگر بدقسمتی سے دین سے دوری کے باعث ہم ان کی باتوں سے انکار کر رہے ہیں۔ نور بخاری نے لکھا کہ دین سے دوری اور جدیدیت کے تقاضوں کی وجہ سے ہم مذہبی تعلیمات کو ماننے سے انکار کر رہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ‘مرد’ کو افضل بنائے جانے کے معاملے پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اپنی ایک اور اسٹوری میں قرآن کریم کی ایک آیت کا ترجمہ لکھا جس میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ ور بخاری نے اپنی ایک اور اسٹوری میں تنقید کرنے والے افراد کو ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا غصہ کسی اور جگہ جاکر نکالیں۔ سابق اداکارہ نے تنقید کرنے والوں کے لیے لکھا کہ ‘ان کے اکاؤنٹ پر ان کی مرضی چلے گی’، اس لیے وہ اپنا غصہ کسی دوسری جگہ جاکر نکالیں۔ نور بخاری سے قبل بھی بعض شخصیات اور عام لوگوں نے صدف کنول کے بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور زیادہ تر لوگوں نے اداکارہ کی حمایت کی تھی۔

صدف کنول نے کچھ دن قبل ایک پروگرام میں شوہر کی اطاعت کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستانی سماجی روایات اور ثقافت یہ ہیں کہ ایک خاتون کو شادی کرنی ہوتی ہے، ان کا شوہر ہوتا ہے اور بیوی ہونے کے ناتے عورت کو شوہر کے کپڑے بھی استری کرنے ہوتے ہیں تو ان کے جوتے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ صدف کنول نے فیمنزم اور عورت مارچ کے معاملے پر بھی محتاط انداز میں گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر بحث نہیں کریں گی لیکن وہ اتنا کہنا چاہتی ہیں کہ ایک بیوی کو اپنے شوہر کی تمام ضروریات اور چیزوں کا علم ہونا چاہیے اور یہ لازمی نہیں ہے کہ میاں بھی اہلیہ کی ضروریات سے متعلق معلومات رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں