محلے میں بچوں کو سمجھانے کا کلچر ختم ہوگیا:کنیز فاطمہ

لاہور:- چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کنیز فاطمہ نے کہا کہ پہلے محلے میں بچوں کو سمجھانے والے کوئی بزرگ ہوتے تھے لیکن اب یہ کلچر نہیں بلکہ سمجھانے والے کو برا سمجھا جاتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتھارٹی کے زیراہتمام مشاورتی اجلاس میں کیا ۔اجلاس میں خواتین پر تشدد کی روک تھام کیلئے نوجوان نسل کی گھر اور سکول دونوں جگہوں پر مؤثر تربیت پر زور دیا گیا ۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر سماجی بہبود و بیت المال سید یاور عباس بخاری نے کی جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجواناں عثمان ڈار مہمان خصوصی تھے ۔ چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کنیز فاطمہ، ایم پی اے سعدیہ سہیل رانا، عظمیٰ کاردار اوردیگر افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راولپنڈی، لاہور، گجرات، جہلم، سیالکوٹ اور قصور میں عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے حوالے سے نوجوانوں کو سفیر مقرر کیا گیا اور انہیں جنسی تشدد کے خاتمے ، عورتوں کے حقوق کی تشہیر اور سماجی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی فراہمی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں