مجھے دو بچوں کی فیس 20 ہزار روہے بھرنی پڑتی ہے ۔۔ سکول بند تو پھر فیس کس بات کی؟ پریشان والدین کی دُکھی داستان

تعلیم حاصل کرنا ہمارا لازمی فریضہ تو ضرور ہے، مگر آج کے دور میں جہاں تعلیم کے مقصد کو پیسوں میں ناپ تول کرکے روندا جا رہا ہے وہیں بیچارے پریشان حال والدین بھی کورونا کی ستم ظریفی پر رو رہے رہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھیں لکھیں، کچھ بنیں، اچھا نام کمائیں، ملک کے وفادار شہری بنیں، لیکن جس طرح کورونا لاک ڈاؤن کے اعث سکولوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے کہ نہ تو آن لائن کلاسز ہو رہی ہیں ارو نہ ہی طبعی کلاسز بحال ہیں، اس اثناء میں بھی سکون والے اپنی چاندی کرنے سے باز نہیں آ رہے۔ ایک ایسے والد کی باتیں ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں جن کے پاس کمائی کا ذریعہ صرف ایک میڈیکل سٹور ہے جس کو بے شک کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کی جانب سے بند کرنے کے احکامات نہیں تھے، البتہ کھاؤ پیو پولیس والوں اور کچھ ایسے لوگوں نے کاروبار میں رکاوٹیں ضرور ڈالیں جو رشوت خوریسے کبھی باذ نہ آئیں گے اور رہی سہی کسر چوروں نے دکان لوٹ کر پوری کردی۔ بہرحال والد بچوں کے اسکولوں کی فیسوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ: میرے دو بچے ایک کلاس 3 اور دوسرا کلاس 4 میں پڑھتا ہے، دونوں او لیول اسکول میں پڑھتے ہیں، 2 ماہ سے سکول کا تدریسی عمل نہیں چلا اور نہ کوئی آن لائن کلاس ہوئی، اب اگست کی 20 تاریخ سے سکول والوں نے پڑھائی کا نوٹیفیکیشن دیا ہے، مگراس دوران جولائی کے پورے ماہ کی فیس بھی ادا کروائی گئی اور اب اگست کا مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی سکول والوں نے فون کرکر کے پریشان کردیا، فیس نہیں دیں گے تو بچوں کا نام کاٹ دیا جائے گا، انہیں نکال دیا جائے گا، صرف ایک ماہ کی فیس میں نے 17 ہزار روپے دو بچوں کی ادا کی اور پھر جولائی کی فیس کے ساتھ لیٹ فیس بھی لگا دی گئی اور اس کا چارج بھی ادا کرنا پڑا جس کے بعد مجھے دو ماہ کی بچوں کی فیس 40 ہزار روپے ادا کرنی پڑی، میں بچوں کو لائق بنانا چاہتا ہوں، اس لئے اتنے مہنگے سکول میں داخل کروایا ہوا ہے، تاکہ بچے کچھ اچھا سیکھیں، اچھا پڑھیں، لیکن سکول والے بالکل انتظامیہ خراب ہے، کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ کاروبار کورونا کی وجہ سے ٹھپ پڑے ہیں، کوئی کیسے فیس ادا کرے گا، میں نے بھی لوگوں سے ادھار لے لے کر بچوں کی فیس پوری کی ہے۔ کیا پڑھائی صرف نوٹوں کا کھیل بن کر رہ گئی ہے۔ ایسا کیسے ممکن ہوگا کہ بچے پاکستان کا نام روشن کریں گے؟ میں نے کبھی بچوں کی فیس 5 تاریخ سے زیادہ تاخیر کی لیکن ایک مہینہ مجھے دیر ہوگئی تو سکول والوں نے اپنی اور میری عزت کے وہ قصیدے سنائے کہ میرے اوسان خطا ہوئے کہ یہ لوگ کیسے بچوں کو اعلیٰ معیار رکھنے والا انسان بنا سکتے ہیں جبکہ فیس کے معاملے یہ لوگ والدین کو بچوں کے سامنے زلیل کر رہے ہیں؟ کیا یہی سیکھیں گے بچے اسکول جا کر۔” یہ صرف ایک والد کی کہانی نہیں لاکھوں والدین کی داستان ہے جو اپنے بچوں کو نجی اداروں میں پڑھاتے ہیں، یہ صرف اسکولوں کا ہی حال نہیں بلکہ جامعات کا بھی حال ہے جہاں ایک ایک کورس کے حساب سے ہزاروں پیسے لئے جا رہے ہیں لیکن آن لائن کلاسز یا طبعی کلاسز کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ایسے کیسے نسل آگے بڑھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں