قومی ثقافتی ”لوک میلہ“ تقسیم ایوارڈکی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا

اسلام آباد۔: قومی ثقافتی ادارہ لوک ورثہ کے زیر اہتمام 7روزہ ”قومی ثقافتی لوک میلہ اتوارکو تقسیمِ ایوارڈ کی تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ لوک میلہ کی تقسیمِ ایوارڈ کی تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہر دستکاروں اور فنکاروں کو لاکھوں روپوں کے نقدکیش انعامات سے نوازا گیا جبکہ تمام صوبائی کلچرل ڈیپارنمنٹ کے نمائندگان کو شیلڈبھی دی گئیں۔ ایوارڈ کی تقسیم کی تقریب شام اتوار کی شام لوک ورثہ اوپن ائیرتھیٹر میں منعقد کی گئی جس میں تمام صوبوں کے کلچرل ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان کے علاوہ ملک بھر سے آئے ہوئے دستکاروں اور فنکاروں اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

لو ک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طلحہ علی خان کشواہا نے میلہ فوکل پرسن ڈائریکٹرمیوزیم انوارالحق نے دستکاروں اور فنکاروں میں ایوارڈز تقسیم کئے۔جن ماہرہنرمندوں کو کیش ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیااُن میں صوبہ پنجاب سے عبدل رحمن کیمل سکن ورک، امیربخش،بلاک پرنٹنگ،محمد رمضان، کھسہ میکر، نیاز احمد پاٹری میکرکو لوک ورثہ کی جانب سے جبکہ،فوزیہ ناہید، گڑیاسازی،ثریا عبداللہ چنری (ٹائی اینڈ ڈائی)کنیز فاطمہ،باسکٹ سازی اور صدف نثار موتی کاری کوخواتین کی سماجی تنظیم پودا کی جانب سے ایوارڈ دیئے گئے۔

صوبہ خیبرپختونخواہ سے تعلق رکھنے والے دستکاروں میں سے محمد رستم، سٹون کارونگ، محمد کاشف چارسدہ چپل، سید احمد شاہ ابدالی، لکڑی کا کام کو لوک ورثہ اور نسیم اختر،جستی ورک کی دستکارہ کو پودا کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ لوک فنکاروں میں ظفرعلی،فوک سنگر و رباب پلیئر اور عبدل مجید،طبلہ پلیئر کو لوک ورثہ کی جانب سے ایوار ملا۔

صوبہ بلوچستان کے دستکاروں میں سے فاطمہ مینگل،بلوچی ایمبرائیڈری(قلات)اور روزی خان،بلوچی چپل بنانے کے ماہر دستکار کو لوک ورثہ جبکہ شاہدہ افضال بلوچی کشیدہ کاری اورحسنہ بی بی بلوچی ایمبرئیڈری کو پودا کی جانب سے ایوارڈدیا گیا ہے۔بلوچستان کے لوک فنکاروں میں سے محمد علی بروہی، بروہی فنکار، شاحان،دھبورہ پلیئر، شاہ ولی، ڈھولک پلیئر، نورولی،اتن فوک ڈانس گروپ اور غلام محمد سرائبی چاپ ڈانس گروپ کو لوک ورثہ نے ایوار ڈ دیے۔

صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے دستکاروں میں سے بارادی وگھیو،لیکر ورک،خان چند، لیدر ورک، کرشن کمار،سندھی ٹوپی میکر اور شاہد علی حسین،کھیس بنائی کو لوک ورثہ کی جانب سے ایوار ملے۔ سندھی لوک فنکاروں میں فرح لاشاری،لوک گلوکار، غلام عباس، ڈھولک پلیئر،غلام ارشد،بینجو پلیئر، آغا خان چھپری فوک ڈانس اور سائیں داد، مٹکا ڈانس گروپ کو لوک ورثہ نے ایوارڈ دیے۔

اسی طرح گلگت بلتستا ن کے دستکاروں میں سے مس صدیقہ،پٹویارن میکر، مس شہزادی،ایمبرائیڈری کو پودا کی جانب سے ایوارڈ ملے اور لوک فنکاروں میں سے عابد خان دمال پلیئر،جمیل کریم، سرنائی پلیئر اور شہباز خان،ڈاڈنگ پلیئر کو لوک ورثہ نے ایوار ڈ دیے۔

آزاد جموں و کشمیر کے دستکاروں میں سے قاضی رزاق،گبہ میکر، شیخ محمد یوسف،ایمبرائیڈری اور عاشق بٹ،لوک گلوکارکو لوک ورثہ کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ کی تقریب کے دوران حافظہ آباد سے آئے ہوئے معروف فنکارشوکت ڈھولی گروپ نے عمدہ فن کا مظاہرہ کیا اس کے علاوہ جاوید نیازی،بابرنیازی اور حسنین عباس نے لوک گیت بھی پیش کئے جبکہ لاہور کے بلیو سیکس بینڈ نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں