قران پاک کے سات آسمان

رب ِکائنات اپنی عظیم کتاب کی سورہ الشوری آیت 29میں فرماتے ہیں:’’اس کی نشانیوں میں سے ہے زمین اور آسمانوں کی پیدائش اور جاندار مخلوقات جو اس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں۔وہ جب چاہے انھیں جمع کر سکتا ہے۔‘‘ یہ آیت دو بڑے سائنسی انکشافات ہمارے سامنے لاتی ہے۔اول یہ کہ ہماری کائنات واحد دنیا نہیں، اللہ تعالی نے دیگر کائناتیں بھی تخلیق کر رکھی ہیں۔دوسرا انکشاف یہ کہ ان کائناتوں میں بھی جاندار موجود ہیں۔گویا زمین کے علاوہ دیگر کائناتوں میں بھی اللہ پاک کے تخلیق کردہ جاندار موجود ہیں۔ قران پاک کی دیگر آیات میں آسمانوں کی تعداد سات بتائی گئی ہے۔مفسرین کی اکثریت کے نزدیک آسمانوں سے مراد کائناتیں ہیں۔

پُراسرار جہاز
سوال یہ ہے کہ کیا جدید سائنس بھی قرانی نظریات کو درست قرار دیتی ہے؟یہ جاننے سے قبل ایک انوکھا واقعہ پیش ہے جس نے آج بھی سائنس دانوں کو متحیر کر رکھا ہے۔یہ 19اکتوبر2017ء کی رات ہے۔ امریکی ریاست ہوائی کے ایک جزیرے پر بنی رصد گاہ میں فلکیات داں طاقتور دوربینوں کے ذریعے خلا کا جائزہ لے رہے تھے۔یہ رصد گاہ یونیورسٹی آف ہوائی کی ملکیت ہے۔اچانک رابرٹ ویرک نامی ماہر نے آسمان پر اڑتی ہوئی ایک چمک دار شے دیکھی۔وہ لمبوتری سی شے بہ سرعت زمین سے دور ہو رہی تھی۔اس کی رفتار اتنی تیز تھی کہ رابرٹ تصویر بھی نہ کھینچ سکا۔

رصد گاہ کے ماہرین نے اس چمکتی شے کو ’’امواموا‘‘(Oumuamua)کا نام دیا۔ہوائی کی مقامی زبان میں اس کے معنی ہیں:اسکاؤٹ۔ان کا خیال تھا کہ یہ بین الفلکیاتی(interstellar)یعنی ستاروں کے درمیان اڑتا کوئی سیارچہ (Asteroid)تھا۔بعد ازاں انکشاف ہوا کہ یہ ہمارے نظام شمسی میں داخل ہونے والا پہلا بین الفلکیاتی سیارچہ تھا۔یہ تب زمین سے تین کروڑ تیس لاکھ کلومیٹر دور تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ فلکیات داں ابھی تک قطیعت سے نہیں بتا سکے کہ امواموا کیا شے تھی۔وجہ یہ کہ سیارچے چٹانیں رکھتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی روشنی نہیں پھوٹتی۔چونکہ وہ خوب چمک رہا تھا۔اس لیے بعض ماہرین اس کو دم دار ستارہ(Comet) سمجھے۔مگر یہ خلائی اجسام لمبی دم رکھتے ہیں جو اس میں عنقا تھی۔جیسے جیسے سائنس دانوں نے زمین کے قریب آنے والے خلائی مہمان پہ تحقیق کی،وہ اتنا ہی زیادہ پُراسرار ہو گیا۔

وہ خلائی مخلوق کا تھا؟

پروفیسر ایوی لویب (Avi Loeb)امریکا کی ممتاز ہارورڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہر فلکیات ہیں۔جب انھیں امواموا کی بابت علم ہوا تو وہ بھی اس میں دلچسپی لینے لگے۔انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ خلائی مہمان کی مختلف خصوصیات کا جائزہ لیا۔

اس تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ پروفیسر ایوی لویب نے اموامواکو کوئی سیارچہ یا دم دار ستارہ نہیں ایک خلائی جہاز قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ خلائی جہاز ایسی مخلوق کا تھا جو وسیع کائنات کے کسی اور سیارے یا ستارے میں قیام پذیر ہے۔انھوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ یہ خلائی جہاز ستاروں کی روشنی(دھوپ)کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے۔

پروفیسر ایوی لویب کی تحقیق نے مغربی سائنس کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی۔بعض سائنس دانوں نے ان سے اتفاق کیا۔دیگر کا کہنا تھا کہ پروفیسرکوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لا سکے۔مگر ان کی تحقیق نے بہرحال قران پاک کے ایک نظریے پہ مہر تصدیق ثبت کر دی۔یہی کہ کائنات میں زمین کے علاوہ دیگر سیاروں یا ستاروں پر بھی جاندار موجود ہیں۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ سائنس نے اب آ کر جو سچائی جانی،وہ چودہ سو سال قبل ہی اللہ تعالی قران پاک میں بیان فرما چکے۔

’’بگ بینگ‘‘

انسان کو کائنات کے اسرار جانتے ہوئے صرف ایک سو برس کا عرصہ ہوا ہے کہ تبھی جدید سائنس نے جنم لیا۔اس سے قبل وہ علم فلکیات کی بنیادی معلومات ہی رکھتا تھا۔بیسویں صدی میں اس نے طاقتور دوربینیں بنا لیں جن سے کائنات کی پنہائیوں میں جھانکنا ممکن ہو گیا۔رفتہ رفتہ ایسے جدید آلات وجود میں آ گئے جو جو کائنات میں بکھری غیر مرئی گیسوں،شعاعوں اور ذرات کا کھوج لگا سکتے تھے۔ انہی آلات کی مدد سے یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ کائنات میں نہ دکھائی دینے والا سیاہ مادہ (Dark matter)اور ’’سیاہ توانائی‘‘(Dark energy)پھیلے ہوئے ہیں۔حقیقتاً انسان کائنات کا صرف ’’5‘‘فیصد مادہ ہی دیکھ سکتا ہے…بقیہ پچانوے فیصد مادہ سیاہ مادے اور سیاہ توانائی پہ مشتمل ہے جو ہمیں برہنہ آنکھ سے نظر نہیں آتا۔

جدید فلکیات کے بنیادی نظریات یہ ہیں کہ ہماری کائنات ساڑھے تیرہ ارب سال پہلے وجود میں آئی۔اس سے قبل ہر قسم کا مادہ ایک نقطے میں جمع تھا۔پھر اچانک وہ پھیل اٹھا۔اسی مادے سے ستارے،سیارے وغیرہ وجود میں آئے۔اس پھیلاؤ کو ’’بگ بینگ‘‘کا نام دیا جا چکا۔قران پاک میں اللہ تعالی نے بھی فرمایا ہے کہ ہم نے کہا’’ہو جا‘‘اور کائناتوں نے جنم لے لیا۔اب ہماری کائنات مادے، شعاعوں (Radiation) اور غیر مرئی توانائی پہ مشتمل ہے۔شعاعیں یا روشنی کائنات کی بظاہر تیزترین بصری شے ہے، وہ فی سیکنڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو میل کی معین رفتار سے سفر کرتی ہے۔

’’کثیر کائنات‘‘

جدید سائنسی نظریات کی رو سے ہماری کائنات اب بھی پھیل رہی ہے۔گویا سیارے ،ستارے اور سبھی فلکیاتی اجسام ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔انسان ابھی تک ایسی طاقتور دوربین نہیں بنا پایا جو کائنات کی آخری حد تک دیکھ سکے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کوئی خلائی جہاز زمین سے روانہ ہو تو اسے آخری سرے تک پہنچتے ہوئے ’’95‘‘ارب سال لگ جائیں گے۔یہ یقیناً عقل دنگ کر دینے والا فاصلہ ہے۔اور جیسا کہ ہم نے بتایا اللہ تعالی نے دیگر کائناتیں بھی تخلیق کر رکھی ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ بیسویں صدی میں یہ سائنسی نظریہ جنم لے چکا تھا کہ ایک سے زیادہ کائناتیں موجود ہو سکتی ہیں۔اس نظریے کو ’’کثیر کائنات‘‘(Multiverse)کا نام دیا جا چکا۔ جدید سائنس کی بے پایہ ترقی کے باعث یہ نظریہ اب تحقیق و تجربات کی کسوٹی سے گذر رہا ہے۔

نظریہ کثیر کائنات پہ یقین رکھنے والے ماہرین نے اپنی تحقیق کا آغاز اس امر سے کیا کہ بگ بینگ سے پہلے مادے کی کیا حالت تھی؟آخر طویل تحقیق کے بعد انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ بگ بینگ سے قبل کسی قسم کا مادہ موجود نہیں تھا۔تب صرف توانائی (Energy)کا دور دورہ تھا۔ اس کو ہم اللہ تعالی کا نور بھی کہہ سکتے ہیں۔گویا سائنس نے یہ بھی دریافت کر لیا کہ اللہ پاک ہی کائناتوں کے خالق و مالک ہیں۔

’کائناتی پھیلاؤ‘‘نظریہ

سائنس داں کہتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے توانائی اچانک تیزی سے پھیلنے لگی۔اس پھیلاؤ کی رفتار روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تھی۔اس پھیلاؤ نے خلا(Space)کو بھی پھیلا دیا۔آخر ایک وقت ایسا آیا کہ توانائی نے مادے کو جنم دے ڈالا۔پانچ فیصد توانائی مادے میں تبدیل ہوئی جبکہ بقیہ کائنات میں پھیل گئی۔

ماہرین نے اس نظریے کو ’’کائناتی پھیلاؤ‘‘(Cosmic inflation )کا نام دیا۔اس عمل کے آخر ہی میں بگ بینگ نے جنم لیا۔یہ واضح رہے کہ توانائی کا پھیلاؤ اور بگ بینگ کا آغاز نہایت تیزی سے انجام پایا…ماہرین کی رو سے ایک سیکنڈ کے کھرب ویں حصّے میں!

جب ماہرین کو معلوم ہو گیا کہ بگ بینگ سے پہلے صرف توانائی موجود تھی تو انھوں نے اسے مرکز ِتحقیق بنا لیا۔سائنس یہ کہتی ہے کہ توانائی دکھائی نہ دے تب بھی وہ انتہائی چھوٹی سطح پر بھی کوئی نہ کوئی طبعی وجود ضرور رکھتی ہے۔بے شک وہ طبعی وجود برہنہ آنکھ سے دکھائی نہ دے تب بھی موجود ہوتا ہے۔سائنسی زبان میں ایسا وجود ’’کوانٹم‘‘ (Quantum)کہلاتا ہے۔سائنس کے مطابق کوانٹم درج ذیل تعریف رکھتا ہے:

٭اس کی خصوصیات (Properties)میں غیر یقینی حالتیں فطری طور پہ موجود ہوتی ہیں۔
٭وہ ایک ہالہ رکھتا ہے جو غیر مرئی لہریں(Waves)خارج کرتا ہے۔
٭اس ہالے کی اقدار(Values)وقت کے ساتھ ساتھ پھیل سکتی ہیں۔

جب سائنس دانوں نے نظریہ کائناتی پھیلاؤ پہ کوانٹم نظریے کا اطلاق کیا تو ایک حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔انکشاف ہوا کہ توانائی کا پھیلاؤ ہر جگہ اچانک ختم نہیں ہوتا…بلکہ وہ پھیلاؤ ایک دوسرے سے الگ تھلگ جہگوں پر بھی ختم ہو سکتا ہے۔ اور وہاں ایسے مادے جنم لیتے ہیں جو ایک دوسرے سے تعلق نہیں رکھتے۔گویا اس دریافت نے قران پاک کے اس نظریے پر بھی مہر تصدیق ثبت کر دی کہ اللہ تعالی نے ہماری کائنات کے علاوہ بھی کائناتیں تخلیق فرما رکھی ہیں۔

عام الفاظ میں اس ساری تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک کے اوپر ایک یا شانہ بشانہ مختلف کائناتیں موجود ہیں جہاں ایک دوسرے سے الگ جاندار بھی بستے ہیں۔ان کائناتوں کے درمیان لا محدود خلا موجود ہے جس میں صرف توانائی کا دور دورہ ہے۔بہرحال ان کائناتوں میں کیسی مخلوق آباد ہے اور وہاں کیا ہو رہا ہے، اس بابت صرف مالکِ خلق وسماں ہی جانتے ہیں۔

آسمانوں کی تشریح

درج بالا حقائق کی روشنی میں یہ عین ممکن ہے کہ اکتوبر 2017ء کی رات ہوائی یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے واقعی کسی خلائی مخلوق کا جہاز دیکھا ہو۔شاید وہ جہاز کائنات کی سیر یا کھوج میں نکلا ہو ۔یہ کوئی سائنس فلشن نہیں،سائنسی نظریات یہ خیال جنم دے چکے کہ ہماری کائنات میں کہیں نہ کہیں کسی قسم کی مخلوق موجود ہو سکتی ہے۔اور قران پاک کی آیات میں بھی یہ شہادت موجود ہے جو چودہ سو سال قبل ہی دی جا چکی۔امید ہے،آنے والے برسوں میں سائنس داں مذید ٹھوس ثبوت سامنے لے آئیں گے۔

قران پاک کی سورہ البقرہ آیت29، سورہ اسرا آیت44،سورہ ال مومنون آیت86، سورہ نوح آیت15 اور سورہ الملک آیت 3میں سات آسمانوں(سماوات)کا تذکرہ آیا ہے۔مفسرین اور علمائے کرام نے ان آیات کی دو مختلف انداز میں تفسیر کی ہے۔اول یہ کہ ان میں سبع(سات)سے مراد کئی آسمان یا دنیائیں ہیں۔دوم یہ کہ آیات میں سات آسمانوں کا تذکرہ ہے۔

جدید مفسرین کے نزدیک پہلے آسمان سے مراد ہماری کائنات ہے جس میں تمام کہکشائیں،ستارے،سیارے وغیرہ شامل ہیں۔جبکہ بقیہ آسمانوں یا دنیاؤں کو انسان دریافت نہیں کر سکا۔وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کی ہیئت و ساخت کس نوعیت کی ہے۔بعض مفسرین نے زمین کو چھوڑ کر ساتوں آسمانوں کی تشریح کچھ یوں بیان کی ہے:

٭پہلا آسمان پانی سے بنا ہے۔اس میں حضرت آدمؑ رہائش پذیر ہیں۔اسی مقام پر بیشتر عام فرشتے بھی قیام رکھتے ہیں۔ایک روایت کی رو سے اس آسمان پہ اسرا کے دوران نبی کریمﷺ کی ملاقات حبیب نامی فرشتے سے ہوئی تھی۔٭دوسرا آسمان یا دنیا سفید موتیوں سے بنی ہے۔اس جگہ حضرت عیسیؑ اور حضرت یحییؑ رہتے ہیں۔٭تیسرا آسمان چمکیلے معدن سے بنایا گیا۔اس دنیا میں حضرت یوسفؑ اور موت کے فرشتے ،عزرائیل قیام پذیر ہیں۔

٭قدرت الہی نے چوتھا آسمان سفید سونے سے تخلیق فرمایا۔اس مقام پہ حضرت ادریسؑ تشریف فرما ہیں۔٭پانچواں آسمان چاندی سے بنا ہے۔اس دنیا میں حضرت ہارونؑ کی رہائش ہے۔٭چھٹا آسمان سونے یا یاقوت احمر سے بنایا گیا۔اس جگہ حضرت موسیؑ قیام رکھتے ہیں۔٭ساتواں اور آخری آسمان نور الہی سے تخلیق ہوا۔اسی دنیامیں سدرۃ المنتہی واقع ہے جس کے آگے کوئی ذی حس نہیں جا سکتا۔اس مقام پہ حضرت ابراہیم علیہ السلام رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں