قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی، 8 اکتوبر 2005 کے بعد پاکستانی عوام کا جذبہ ایثار دیدنی تھا،وفاقی وزیر منصوبہ بندیٍ ترقی و اصلاحات اسد عمر کا این ڈی ایم اے کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی، 8 اکتوبر 2005 کے بعد پاکستانی عوام کا جذبہ ایثار دیدنی تھا، ہمیں حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کے عمل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات کو شامل کرنا ہو گا۔ جمعہ کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اسلام آباد میں آفات سے ”محفوظ پاکستان مضبوط پاکستان” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے ہر سال 8 اکتوبر نیشنل ریزیلیئنس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد پاکستان میں تمام قدرتی آفات کے متاثرین بالخصوص 8 اکتوبر 2005کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اورعوام میں آفات سے نمٹنے کے حوالے سے آگاہی اور شعور اجاگر کرنا ہے۔

اس سال این ڈی ایم اے کی طرف سے یہ دن ہمارا عزم آفات سے محفو ظ پاکستان، مضبوط پاکستان کے سلوگن کے ساتھ منایا جارہا۔ اس سلسلے میں این ڈی ایم اے نییو این ڈی پی اور اے ڈی پی سی کے تعاون سے اسلام آباد میںایک روزہ سیمینار کااہتمام کیا جس کا مقصد آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین و مقررین کوایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔سیمینار کے دوران آفات سے نمٹنے کے حوالے سے عوامی حلقوں اور میڈیا کے کردار کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

سیمینار کے افتتاحی سیشن میں لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز ستی چئیرمین این ڈی ایم اے نے تمام شر کا کو خوش آمدید کہتے ہوئے نیشنل ریزیلیئنس ڈے کی اہمیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ سیمینار کے حوالے سے بات چیت کرنے سے پہلے انہوں نے جمعرات کو ہرنائی، بلوچستان میں آنے والے 5.9 شدت کے زلزلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم غم کی اس گھڑی میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس زلزلے سے متاثر ہوئے اورجن کے پیارے ان سے بچھڑ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرین کی امداد اور ریسکیو کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ چئیرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ آفات و حادثات بالخصوص 8 اکتوبر2005 کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ کورونا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے نہ صرف ناقابل تلافی سماجی اور معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ معمولات زندگی بھی شدید متاثر ہوئے۔

پہلے سیشن کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسد عمر نے کہا کہ آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے 8 اکتوبر 2005 کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر پاکستانی عوام کا جذبہ ایثار دیدنی تھا جنہوں نے بلا تفریق تمام مثاثرین کو اپنا بہن بھائی سمجھتے ہوئے ان کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں حکومتی سطح پر منصوبہ بندی کے عمل میں آفات سے نمٹنے کے حوالے سے اقدامات کو شامل کرنا ہو گا،ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات یہاں ختم نہیں ہوں گے بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہمیں اس صورتحال سے نمٹنے کے لیےموثر تیاری کی اشد ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیئے ہمیں این ڈی آر ایم ایف، صوبائی اور ضلعی ڈیزاسڑ مینجمنٹ اتھارٹیز کو بھی مستحکم کرنا ہو گا تا کہ این ڈی ایم اے کے ساتھ ملکر آفات سے نمٹنے کے لیے موثر تیاری کی جا سکے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر جاوید جبارسابقہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستانی قوم کے عزم و استقلال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان روز اول سے ایک مستحکم ریاست کے طور پر ابھرا ہے۔وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سید فخر امام نے سیمینار میں خطاب کرتے کہا کہ ہمیں آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت اور موئثر اقدامات کرنا ہوں گے تا کہ آفات سے پہلے ان کی تیاری ممکن بنائی جا سکے۔

اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان مشیر صحت نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آفات سے پہلے ان سے نمٹنے کی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے شعبہ صحت کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے تا کہ آفات اور وبا کی صورت حال سے موئثر انداز میں نبردآزما ہو ا جا سکے۔

سیمینار کے اختتام پر چئیرمین این ڈی ایم اے نے تقریب میں شرکت کرنے پرمہمانان خصوصی اورمقررین کا شکریہ اداجنہوں سے آفات سے نمٹنے کے لائحہ عمل کے حوالے سے اپنی قیمتی آرا و تجاویز پیش کیں۔

سیمینار میں سینیٹر جاوید جبارسابقہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات،اور اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر جیولین ہرنیس، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ڈی پی آئی ہما چغتائی، میجر جنرل عامر اکرام ، علی توقیر شیخ، وائس چانسلر این ای ڈی کراچی ڈاکٹر سروش ہشمت لودہی، ڈاکٹر فرخ سپارکو، پروفیسر ڈاکٹر احمد علی گل یو ایم ٹی لاہور، ڈاکٹر شہزاد علی خان ڈین و وائس چانسلر ہیلتھ سروسز ایکڈمی اور ڈاکٹر محمد عمر وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی بطور مقرر شامل ہوئے۔ علاوہ ازیں سیمینا رمیں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں