قانون کی بالادستی ، قانون میں مساوات اور احتساب سے شنگھائی تعاون تنظیم ممالک کی طویل مدتی پائیدار ترقی، شرح نمو، یقینی بنائی جا سکتی ہے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف فروغ نسیم کا ایس سی اوممالک کے وزرا انصاف کےجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔: وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے کہا ہے کہ قانون کی بالادستی ، قانون میں سب کیلئے مساوات اور احتساب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی طویل مدتی پائیدار ترقی، شرح نمو، استحکام اور ترقی یقینی بنائی جا سکتی ہے،پاکستان 2025 تک ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔ ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او )کے رکن ممالک کے وزرا انصاف کے 8ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 20 سال مکمل ہونے پر شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرا انصاف کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فورم رکن ممالک کو مشترکہ اقدار کے فروغ، مفادات اور مواقع کیلئے پائیدار شراکت داری اور خوشحالی کے مواقع فراہم کرتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم میں اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ سازی کے باعث اس فورم کو اقوام عالم میں منفرد مقام حاصل ہے، پاکستان اس فورم کا ممبر بننے کے بعد سے قانون وانصاف میں تعاون کے فروغ کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کیلئے اس فورم کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، ہم قانون کی بالادستی اور کرپشن کی روک تھام اور میوچل لیگ اسسٹنٹس کے امور کے فروغ کیلئے مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان قانونی نظام میں بہتری کیلئے کوئی باہمی مفاہمت نہیں ہے، پاکستان میوچل لیگل اسسٹنٹس کی فراہمی اور انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کی بہتری کیلئے ضابطہ فوجداری میں قانونی معاونت اور قانونی تعلقات سے متعلق ایس سی او کنونشن سمیت آرگنائزیشن ٹریٹی میں بھی بہتری اور فروغ کیلئے تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان نے پسماندہ طبقات کو انصاف تک رسائی کیلئے قانونی اور مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ منظور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث عالمی سطح پر کئی چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، پاکستانی عدالتوں میں ملک بھر میں معززججز ، وکلا، عملے اور عملے کے تحفظ کیلئے فوری بنیادوں پر مقدمات کو نمٹانے کا اقدام کیا گیا ہے تاہم اس وقت ملک میں بعض ضلعی عدالتیں اور ٹربیونلز مکمل طور پر فعال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیر ملکی کرنسی سونا، چاندی،قیمتی پتھروں، لائیو سٹاک اور بعض اشیا خوراک سمیت دیگر چیزوں کی سمگلنگ روکنے کیلئے کووڈ۔19 (سمگلنگ کی روک تھام) آرڈیننس منظور کیا ہے، دنیا کو وبا سے پیدا ہونے والے بحران سے موثر طور پر نمٹنے کیلئے شراکت داری کو فروغ دینے ، قانونی فریم ورک اور حکمت عملیاں وضع کرنے اور 2015 میں دوشنبے میں ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیان وزرا نصاف کے درمیان تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ میں وزارت قانون و انصاف کا اہم کردار ہے، عدلیہ انصاف کی فراہمی میں خود مختاری کا مظاہرہ کرکے بدعنوانی کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، کرپشن سے بچائو کیلئے باہمی اعتماد اور وسیع تعاون کی ضرورت ہے، رکن ممالک اپنے فوجداری نظام انصاف میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق اپنے طریقہ کار سے آگاہ کر سکتے ہیں کیونکہ بدعنوانی انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی ، قانون میں سب کیلئے مساوات اور احتساب سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کی طویل مدتی پائیدار ترقی، شرح نمو، استحکام اور ترقی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2025 تک ایس سی او ترقیاتی حکمت عملی کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ روابط کو فروغ دے کر علاقائی روابط کے استحکام اور باہمی مفاد پر مبنی رابطوں کو مستحکم کیا ہے، ملکی قوانین میں بہتری لائی گئی ہے، نئی ٹیکنالوجیز کا استعمال شروع کیا گیا ہے اور کرپشن کےخاتمہ کیلئے دیگر رکن ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے، ضابطہ فوجداری میں قانونی معاونت اور قانونی تعلقات سے متعلق ایس سی او کنونشن کے مسودہ کو مزید بہتر بنا کر شہریوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کیلئے ایس سی او فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے قانون سازی پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے اہداف پاکستان کی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہداف سے مکمل ہم آہنگ ہیں جن میں امن و استحکام اور ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، پاکستان کے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات ہیں، ہمارے چیلنجز اور اہداف ایک دوسرے سے جڑے ہیں، رابطوں اور عوام کی سطح پر روابط کے فروغ کے ذریعے علاقائی تعاون میں استحکام اور دوستانہ تعلقات کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرا انصاف کے آئندہ اجلاس کا پاکستان میں انعقاد خوش آئند ہے، ہم تمام رکن ممالک کے وزرا انصاف اور ماہرین کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خطہ میں جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں، عالمی سیاسی صورتحا ل بھی تبدیل ہو رہی ہے، ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے شراکت داروں سے مل کر امن، ترقی اور خوشحالی کے اہداف کے حصول کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں