قائداعظم اور مسلم قومیت کا تصور

محمداشفاق انجم
بابائے قوم کی سالگرہ ہو یا برسی پوری قوم 73 سالوں سے روائتی جوش و خروش کے ساتھ مناتی آرہی ہے اُن کے کارناموں کا ذکر بھی روایتی انداز میں کیاجاتا رہا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اُن کی تعلیمات ان کے دئیے ہوئے زریں اصول ایمان‘ اتحاد‘ تنظیم کو پس پشت ڈال دیا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری نوجوان نسل برصغیرکے کروڑوں مسلمانوں کی تحریک آزادی ان کی عظیم قربانیوں ہجرت کے دوران شہداء کے خون اور بابائے قوم کی ولولہ انگیز قیادت کی وجہ سے سکھ کاسانس لے رہی ہے مگر یہ نوجوان نسل پاکستان کو صرف ایک ملک کے طور پر جانتی ہے اس کی نظریاتی اساس سے آگاہ نہیں ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ہم میں بسااوقات مہاجر‘ سندھی‘ بلوچی‘ پشتون‘ پنجابی‘ سرائیکی کے نعرے لگتے ہیں‘ جبکہ مسلم لیگ نے قائداعظم کی قیادت میں اس نعرے پر ملک حاصل کیا لے کے رہیں گے پاکستان‘ بن کے رہے گا پاکستان‘ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ یہی وہ فرق تھا جو مسلم لیگ اور کانگریس میں نمایاں تھا مسلم لیگ ایک الگ وطن چاہتی تھی جہاں اسلامی نظام نافذ ہو لیکن مولانا ابو الکلام آزاد اور جمعیت علمائے ہندصرف زبانی طور پر اسلام کی خوبیاں بیان کرتے رہے اور ہندوماحول کو آخر تک نہ چھوڑا مولانا آزاد نے پاکستان بننے کے بعد برملا کہا کہ جب پاکستان ایک الگ ملک بن گیا ہے تو اب اس کی حفاظت مسلمانوں پر فرض ہے اُن کو چاہئے کہ وہ اس نئی مملکت کو طاقتور بنائیں مگر مستقبل میں ایسا نہیں ہوسکے گا پاکستان فرقہ واریت کی لپیٹ میں رہے گا‘ صوبائی اکائیاں اپنے اغراض و مقاصد کو پس پشت نہیں ڈالیں گی‘ مگر قائداعظم محمدعلی جناح سے جب بھی پوچھا جاتا تو وہ ہمیشہ کہتے کہ پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بنا ہے‘ مسلمانوں کے جو علاقے دیسی ریاستوں کے فراڈ کے نام پر باقی ہندوستان میں رہ گئے ہیں وہاں مسلمانوں کا جینا حرام ہوجائے گا‘ یہی کچھ آج ہے‘ ہندوستان میں ریاستی دہشت گردی مذہبی انتہا پسندی کا بازار گرم ہے‘ سیکولرازم کے نام پر 73 سالوں سے بھارت میں فراڈ کا پرچار کیاجارہا ہے‘ آج جب اخبارات میں ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی حالت زار کو پرھتے ہیں تو ہمارا کلیجہ پھٹ جاتا ہے جبکہ بابائے قوم سے جب بھی پاکستان میں نظام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے برملا کہا یہاں وہی نظام ہوگا جو حضور خاتم النبین نے مدینہ منورہ میں قائم کیا تھا یہا ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے دین کے مطابق عبادت کی آزادی ہوگی‘ کیونکہ دین اسلام میں کسی پر جبرنہیں ہے پاکستان کے پرچم میں سفیدپٹی اقلیتوں کو ظاہرکرتی ہے‘ 71 سال بعد ہم نے فاٹا کو پاکستان کا حصہ بنایا اور انہیں حقوق دئیے آج بھی دیورینٹ لائن کی بنیاد پر پشتونستان کا مطالبہ کبھی کبھی کیا جاسکتا ہے‘ ہوسکتا ہے کہ طالبان کے آنے سے یہ مطالبہ ہمیشہ کے لئے سردخانے میں چلاجائے‘ گلگت بلتستان کو ہم نے صوبہ بنادیا وہ اپنے آپ کو پاکستانی کہنے پر فخرمحسوس کرتے ہیں مگر آج تک مکمل آئینی اختیارات سے محروم کیوں ہیں‘ جب اُن کی یہ محرومی حدسے بڑھ جائے گی تو ہم کیسے اُن پر پاکستانیت کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کریں گے جبکہ گلگت بلتستان کی عوام نے بے سروسامانی کے عالم میں ڈوگروں کو ڈنڈوں اور پتھروں سے شکست دے کر آزادی حاصل کی اور اپنے علاقے کو پلیٹ میں سجا کر پاکستان کو پیش کیا‘ کیا وجہ ہے کہ آئینی طور پر گلگت بلتستان کو ہم پاکستانی بنانے کے لئے تیار نہیں‘ کیا یہ سی پیک کو ناکام بنانے کی بین الاقوامی اور اندرونی ایجنٹوں کی سازش کیوں نہیں‘ یقینا بابائے قوم کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی کہ کشمیرپاکستان کا علاقہ ہونے کے باوجود اب تک عالمی سازشوں کی وجہ سے پاکستان کو نہیں مل رہا ہے اور وہاں کے محب وطن لوگوں کی خواہشات کا خون کیا جارہا ہے جسکی تازہ مثال گزشتہ دنوں سیدعلی گیلانی کی موت اور اس کے جسدخاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹنا ہے جس پر ان کے خاندان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اور ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا‘ ہمارے حکمرانوں نے صرف بیانات دینے پر اکتفاء کیا‘ہمیں چاہئے کہ ہم کشمیر پر نڈرپالیسی اپنائیں کیونکہ قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قراردیا تھا‘ ہمیں چاہئے کہ ہم تمام پاکستانیوں کو پاکستانیت کی اکائی میں ڈالیں اور پورے عوام کی خواہشات کا احترام کریں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں