عمران خان کے سلیکٹرز سے تعلقات خراب کیوں ہوئے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ہمیشہ سے مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ سیاست میں غیر سیاسی لوگوں کو لانے کی کوشش کرتی ہے اور عمران خان بھی اسی وجہ سے سیاست میں آئے حالانکہ یہ کوشش جنرل ضیاء الحق کے دور سے جاری تھی لیکن اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان اپنی مرضی کا امپائر رکھنا چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے موجودہ امپائرز سے معاملات خراب ہو چکے ہیں جنکا کوئی نہ کوئی نتیجہ تو ضرور سامنے آئے گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ویسے تو ہمارا قومی کھیل ’’ہاکی‘‘ ہے مگر اس کا حال قوم سے زیادہ مختلف نہیں۔ کرکٹ ہمارا جنون بھی ہے اور غرور بھی، ورنہ شاید عمران خان نہ سیاست میں اتے اور نہ ہی وزیراعظم بن پاتے۔ ہمارے یہاں پچھلے پچاس برسوں میں جو حکمران آئے، انہیں عمران جیسا کرکٹ کے لیجنڈ کا خطاب نہیں ملا مگر ان کو کرکٹ کا شوق بھی رہا اور کسی نہ کسی سطح پر کھیلی بھی! چاہے وہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں، نواز شریف ہوں مگر جو سیاست جنرل ضیاء الحق نے کھیلی خاص طور پر ’’کرکٹ ڈپلومیسی‘‘ کے نام پر بھارت سے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ عمران کو بھی اس وقت سیاست میں لانا چاہتے تھے جب وہ اپنے کھیل کی بلندیوں پر تھے۔ پہلی بار 1988 میں جب محمد خان جونیجو کی حکومت برطرف کی گئی تو ضیاء کے چھوٹے بیٹے انوار الحق نے عمران کو فون کرکے عبوری کابینہ میں وزارت کی پیشکش کی۔ اس وقت عمران برطانیہ میں کائونٹی کھیل رہے تھے چنانچہ تب انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ یہ میرا کام نہیں، نہ مجھے سیاست کا شوق ہے۔

مظہر عباس بتاتے ہیں کہ ایک بار بھارت کے انتہا پسندوں نے پاکستانی ٹیم کے دورئہ بھارت سے پہلے پچ اکھاڑ دی اور بال ٹھاکرے نے دھمکی دی کہ ٹیم کو بھارت کی سرزمین پر قدم نہیں رکھنے دیا جائے گا۔ تب اٹل بہاری واجپائی بھارت کے وزیراعظم تھے اور نواز شریف پاکستان کے! پاکستان میں اور بھارت میں بھی بحث چل رہی تھی کہ ہم وہاں جائیں گے کہ نہیں۔ مظہر کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے مشاہد حسین سید، جو اس وقت وزیر کھیل بھی تھے، کوفون کیا اور پوچھا۔ ’’سید صاحب! ٹیم جارہی ہے یا نہیں؟‘‘ انہوں نے جب یہ کہا ’’جارہی ہے اور ہم امن کا پیغام دے رہے ہیں‘‘ تو میں نے فون رکھا اور عمران خان جو ان دنوں کراچی آئے ہوئے تھے، بات کی اور ان کا ردعمل لیا۔ انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ پھر کیا تھا یہاں میں نے اسٹوری بھیجی، وہاں فوراً واجپائی کا خیر مقدمی ردعمل آگیا اور انہوں نے بھارتی انتہا پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’کرکٹ اور سیاست کو الگ رکھو۔‘‘

مظہر کہتے ہیں کہ میں نے مشاہد صاحب کو بتایا تو انہوں نے کہاکہ فیصلہ اسی شام ہوا مگر تمہیں میں نے میٹنگ سے پہلے خبر دے دی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عمران بھارت میں بھی اتنے ہی مقبول تھے جتنے پاکستان میں۔ اسی مقبولیت کو دیکھ کر ہمارے کچھ ’’بھائی لوگوں‘‘ نے اس پر نظریں جما لیں کہ اسے سیاست میں لانا ہے۔ہمارے اداروں کا ہمیشہ سے مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ سیاست میں غیر سیاسی لوگوں کو لانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے تجربے کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کاروباری لوگوں کو آگے لایا جاتا ہے۔ میاں صاحب سیاست میں جنرل جیلانی کی وجہ سے لائے گئے اور بڑے میاں صاحب سے کہا گیا بھٹو نے آپ کی انڈسٹری قومیا لی تھی، ہم آپ کو وہ واپس کرتے ہیں۔ آپ ان دونوں بچوں نواز شریف اور شہباز شریف کو سیاسی طور پر ہمارے حوالے کردیں۔ پھر جو ہوا، وہ تاریخ ہے۔

مظہر عباس کا کہنا ہے کہ عمران خان نے غصہ میں اور ردعمل کے طور پر سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا، جب 1995 میں پی ٹی وی نے انہیں شوکت خانم کینسر اسپتال کیلئے فنڈ جمع کرنے کی اجازت نہ دی۔ عمران کی پارٹی میں 1996 میں زیادہ تر غیر سیاسی لوگ تھے بعد میں یہ پارٹی ملک کی بڑی جماعت بھی بنی اور اس کو 2011 کے بعد کچھ سپورٹ بھی ملی جو 2018کے الیکشن کے بعد تک جاری رہی۔
بقول مظہر عباس، اب خان صاحب سیاست کے بڑے کھلاڑیوں میں سے ہیں مگر ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ٹیم اپنی ہی سلیکٹ کرتے ہیں اور کرکٹ کے مقابلے میں سیاست کے امپائر بھی میاں صاحب کی طرح اپنے ہی چاہتے ہیں۔ سیاسی میدان میں اس وقت کپتان کا مقابلہ نواز شریف سے یے۔ خان صاحب کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ کا سامنا ہے۔ اب بجائے اس کے کہ وہ اس کا مقابلہ کرتے، انہوں نے ’’امپائر‘‘ پر سوال اٹھا دیئے ہیں۔ لہذا اس تنازع کی گرمی اب کچھ لوگوں کو دسمبر جیسے سرد موسم میں بھی محسوس ہونے جا رہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے اب ہوتا ہے کیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں