عدنان سمیع خان کو بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز دیا گیا

پاکستانی شہریت چھوڑ کر بھارتی قومیت اختیار کرنے والے گلوکار و موسیقار عدنان سمیع خان کو بھارتی حکومت نے اعلیٰ ترین سول ایوارڈز میں سے ایک ’پدما شری‘ سے نواز دیا۔ حکومتی نشریاتی ادارے ’پریس انفارمیشن‘ (پی آئی بی) انڈیا کے مطابق بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے 8 نومبر کو صدارتی محل میں ہونے والی تقریب میں مجموعی طور پر 73 شخصیات کا اعلیٰ ایوارڈز سے نوازا۔ بھارتی صدر نے 4 شخصیات کو دوسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پدما وبھوشن‘ 8 افراد کو تیسرے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پدما بھشن‘ اور 61 شخصیات کو چوتھے اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پدما شری‘ سے نوازا۔ صدر رام ناتھ کووند نے جن 61 شخصیات کو چوتھے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’پدما شری‘ سے نوازا ان میں گلوکار و موسیقار عدنان سمیع خان بھی شامل تھے۔ بھارتی صدر نے مجموعی طور پر 30 ‘پدما شری‘ ایوارڈ فنون لطیفہ کی شخصیات کو دیے اور ایوارڈز حاصل کرنے والوں میں اداکارہ کنگنا رناوٹ، فلم ساز کرن جوہر اور پروڈیوسر ایکتا کپور بھی شامل ہیں۔ بھارتی صدر نے فنون لطیفہ کے علاوہ میڈیسن، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیے۔

ایوارڈز تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی شرکت کی جب کہ تقریب میں گلوکار عدنان سمیع خان کی اہلیہ بھی دکھائی دیں۔ تقریب میں عدنان سمیع خان نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا، جس پر سنہری رنگ کی کڑاہی تھی۔ انہیں موسیقی کی دنیا میں خدمات سر انجام دینے پر اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عدنان سمیع خان کو ’پدما شری‘ دینے کا اعلان 26 جنوری 2020 کو کیا گیا تھا اور انہیں گزشتہ برس نومبر میں ایوارڈ دیا جانا تھا مگر کورونا کی وبا کے باعث تقریب کو ملتوی کردیا گیا تھا۔ ’پدما شری‘ ایوارڈ ایک طرح پاکستانی حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ایوارڈ ’تمغہ امتیاز‘ کی طرح کا ایوارڈ ہے اور ہر سال فنون لطیفہ کی 2 سے 3 درجن شخصیات کو دیا جاتا ہے۔

بھارت کے کئی سینیئرز گلوکاروں، موسیقاروں و اداکاروں کو بھی تاحال ’پدما شری‘ ایوارڈ نہیں مل سکا، تاہم عدنان سمیع خان کو بھارتی شہریت ملنے کے 5 سال بعد ہی اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ عدنان سمیع خان کو بھارتی حکومت نے یکم جنوری 2016 میں شہریت دی تھی، وہ شوبز میں کام کرنے کے سلسلے میں ابتدائی طور پر 2001 میں پاکستان سے بھارت ویزا پر منتقل ہوئے تھے۔ بھارت میں رہنے اور کام کرنے کے دوران ان کے ویزا کی مدت بار بار بڑھائی گئی تھی جب کہ 2016 میں انہیں شہریت دی گئی، جس کے بعد انہوں نے پاکستانی شہریت چھوڑ دی تھی۔ پاکستانی شہریت چھوڑنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا اور انہیں ’غدار‘ تک کہا گیا مگر ساتھ ہی ان پر بھارت میں بھی الزامات لگائے گئے اور وہاں کے لوگ انہیں پاکستانی ایجنٹ قرار دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال انہیں’پدما شری‘ ایوارڈ دینے کے اعلان کے بعد ہی مختلف سیاست دانوں اور اداکاروں نے ان سمیت بھارتی حکومت پر بھی تنقید کی تھی۔

عدنان سمیع خان نے تین شادیاں کیں، انہوں نے پہلی شادی پاکستانی اداکارہ زیبا بختیار سے 1993 میں کی، جوڑے کو ایک بیٹا اذان سمیع خان بھی ہے اور بعد ازاں ان دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔ عدنان سمیع خان نے دوسری شادی 2001 میں عرب خاتون صباح گلادری سے کی، جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور طلاق پر ختم ہوئی۔ بعد ازاں عدنان سمیع خان نے تیسری شادی 2010 میں جرمن نژاد رویا علی خان سے کی جن سے انہیں مئی 2017 میں ایک بیٹی ہوئی اور اب وہ اہل خانہ کے ہمراہ ممبئی میں مقیم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں