طرزِ اقبالؔ میں شاعری کرنا

علامہ اقبالؔ اس لحاظ سے کامیاب شاعر ہیں کہ اُن کے اسلوب میں شعر کہنے والے بہت ہوئے اور اَب تک ہمارے بعض معاصرین اپنی سی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ جملہ کسی کڑے نقاد کو جملہ معترضہ معلوم ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ جناب یہ کون سا کمال ہے کہ تقلیدِ محض کی راہ ہموار ہوئی تو آپ نے انھیں کامیاب قرار دے دیا۔ بات یہ ہے کہ جب کوئی شاعر یا نثرنگار اپنے عہد اور مابعد کے اہل قلم کو مرعوب ومتأثر کرتا ہے تو ہمہ شما اس کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرسکتا ہے، مگر کسی کا صاحبِ اسلوب ہونا بہرحال غیرمعمولی معاملہ ہے جسے نظراَنداز نہیں کیا جاسکتا۔ عہدِجدید میں علامہ اقبال کے رنگ میں شعر کہہ کر کامیاب ومقبول ہونے والے زندہ شعراء میں سرِفہرست ہیں، ہمارے فیس بک دوست، مشّاق سخنور، محترم سرفراز بزمیؔ فلاحی، (مقیم سوائی، مادھوپور، راجستھان، ہندوستان) جن کا ذکر خیر ماقبل زباں فہمی نمبر 74بعنوان ’’علامہ اقبال اور دیگر شعراء سے سہواً منسوب اور جعلی کلام ‘‘، مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس، مؤرخہ 29 نومبر 2020ء میں ہوچکا ہے۔ [https://www.express.pk/story/2110358/1/]

مذکورِ بالا کالم سے کچھ اقتباس یہاں بھی بربِنائے ضرورت نقل کرنا پڑے گا۔ ویسے آپ انھیں سرفراز بزمی اور سرفراز فلاحی کے نام سے فیس بک پر تلاش کرسکتے ہیں۔ سرفراز بزمی فلاحی کی ولادت، علامہ اقبال کی وفات کے تقریباً گیارہ برس بعد20 فروری 1949 ء کو ہوئی۔ موصوف درس تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ اُن کا یہ قطعہ گزشتہ کچھ عرصے سے، علامہ اقبال سے غلط منسوب کرتے ہوئے بہت نقل ہورہا ہے:

اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا، نعرہ تکبیر بھی فتنہ

(انتخاب قطعات و رباعیات، مرتبہ غوث شریف عارف۔ راجستھان اردو اکادمی، جے پور، مارچ 1993)

انھی سرفرازبزمی نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش (9نومبر ) کی مناسبت سے نظم ’’اقبال نامہ‘‘ کہی ہے، جو بظاہر بچوں کے لیے ہے، مگر اس کی زبان بہرحال بڑوں ہی کے لیے قابل فہم ہے۔ اس نظم میں اُنھوں نے کلامِ اقبال ؔ میں مستعمل اسماء و علائم کا استعمال بھی بہت چابک دستی سے کیا ہے۔ ماضی میں رنگِ اقبالؔ کی (شعوری یا غیرشعوری) کامیاب پیروی کرنے والے شعرائے کرام میں ایک نام، علامہ سیمابؔ اکبرآبادی (جانشین ِ داغؔ دہلوی) کے شاگرد، ابوالاسرارظہوراحمدصدیقی المتخلص بہ رمزیؔ اِٹاوی (یکم دسمبر 1912ء بمقام اِٹاوَہ تا 5اپریل 2002ء بمقام جودھ پور) کا ہے، جن کا مجموعہ کلام ’’صحرا میں بھٹکتا چاند‘‘ کے عنوان سے راجستھان اردو اکیڈمی نے شایع کیا۔ وہ بھی راجستھان کے شہر جودھ پور کے باسی تھے۔ یہ بات یقیناً حیرت انگیز ہے کہ موصوف اتنے بڑے شاعر کے ارشدتلامذہ میں شامل ہونے کے باوجود، اقبالؔ سے زیادہ مرعوب ومتأثر ہوئے، ہرچندکہ بعض دیگر اساتذہ کا رنگ بھی اُن کے یہاں ملتا ہے۔ اُن کانمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں جو مجھے شاعر موصوف کے پوتے ، ممتاز ہندوستانی شاعروصحافی جناب ایم آئی ظاہر نے واٹس ایپ پر ارسال کیا:

اگر ہے شاعرِفطرت ، شعور پیدا کر
مذاقِ کور میں انجم کا نور پیدا کر
نیا مذاق، نیا سوزوساز پیدا کر
ضمیرِ شعر میں روحِ گداز پیدا کر

٭ ٭ ٭

خطِ تقدیر گر چاہوں، مٹادوں سجدۂ دَر سے
مگر دل کانپتا ہے یوں خدا سے شوخیاں کرتے

٭٭٭

گوارا نہیں مجھ کو طرزِگدائی
مِرے کام کی کیا تِری مومیائی
لگے ٹھیسہرگز نہ خودداریوں کو
سلامت رہے میری بے دست وپائی

رمزیؔ اِٹاوی صاحب نے علامہ اقبال ؔ کی وفات پر اُن کا مرثیہ لکھا تھا۔ اُن کی نظم ’’سرودِ رضواں۔ علامہ اقبال کا بہشت میں استقبال‘‘ یوں شروع ہوتی ہے:

وہ دردمندِ رسولِ حجاز(ﷺ) آتا ہے
فنا کی راہ سے مستِ نیاز آتا ہے

برسبیل ِتذکرہ اپنے قارئین کی اطلاع کے لیے عرض کردوں کہ علامہ اقبال کی وفات پر اُنھیں نظم ونثر میں خراج تحسین پیش کرنے والوں میں سیمابؔ اکبر آبادی، اکبرؔ الہٰ آبادی، جوشؔ ملیح آبادی، منشی درگا سہائے سرُور ؔجہاں آبادی، تلوک چند محرومؔ، جاں نثار اختر، فیض احمد فیضؔ، محمد دین تاثیرؔ، حفیظ ؔہوشیارپوری، احمد ندیم ؔقاسمی، جگن ناتھ آزادؔ، احسان دانش، شکیلؔ بدایونی، سکندر علی وجدؔ، علی اختر، ماہرالقادری، مخدوم محی الدین اور منوہر لال ہادیؔ سمیت متعدد مشاہیرِادب شامل تھے۔ بہت سے دیگر شعراء کی طرح، سیال کوٹ ہی کے ایک وکیل وشاعر، صادق حسین صادقؔ کاظمی (یکم اکتوبر 1898ء کو موضع کھادرپاڑا، مقبوضہ کشمیر تا 4مئی 1989ء، اسلام آباد، پاکستان) کے کلام پر بھی رنگ ِ اقبالؔ کی چھاپ اس قدر نمایاں ہوئی کہ اُن کا یہ شعر لوگوں نے علامہ اقبال سے منسوب کردیا اور بارہا تردیدبالتحقیق کے باوجود، یہ غلط انتساب دُہرایا جاتا ہے:

تندیٔ بادِمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لیے

رنگِ سخن اقبالؔ جیسا ہو تو کسی بھی عام قاری ہی کو نہیں، اچھے خاصے ذی علم اہل قلم کو بھی دھوکا ہوسکتا ہے۔ اقبالؔ سے منسوب بہت سے کلام کے متعلق تحقیق ہوچکی ہے۔ ان اشعار میں شامل یہ نمونہ کلام علامہ اقبالؔ نہیں، بلکہ ایک فراموش کردہ، مستند سخنور، اقبال احمدسہیل ؔ اعظم گڑھی [1884-1955]کا ہے:

وہ روئیں جو مُنکر ہوں حیاتِ شُہَداء کے
ہم زندہ وجاوید کا ماتم نہیں کرتے

یہ شعر سہیلؔ صاحب کی نظم ’فلسفہ شہادت ‘ (مشمولہ کلیات سہیل ؔ اعظم گڑھی مرتبہ عارف رفیع، بمبئی، ہندوستان: اپریل 1988ء) میں شامل ہے۔ ضمنی، مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ اقبالؔ سہیل اعظم گڑھی نے رنگِ شبلیؔ میں بھی اس قدر کمال پیدا کیا کہ خود علامہ شبلی نعمانی کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اسی طرح یہ دو شعر کچھ عرصے سے انٹرنیٹ اور واٹس ایپ پر صحیح غلط کی بحث سے قطع نظر، خوب نقل ہورہے ہیں:

لکھنا نہیں آتا تو مِری جان پڑھا کر
ہوجائے گی مشکل تِری آسان، پڑھا کر
آجائے گا آصفؔ تجھے جینے کا قرینہ
تو سیدِکونین(ﷺ) کے فرمان پڑھا کر

]شاعر: محمد آصف رازؔ۔پ:10مارچ 1951، سرگودھا[ (تحقیق فرہاد احمد فگار)

نعیم صدیقی (اصل نام فضل الرحمن: 1916-2002) اقبالؔ کے اسلامی رنگ ِ سخن کے شیدائی تھے اور قدرتی طور پر اُن کے بعض کلام پر اپنے ممدوح کی چھاپ نظر آتی ہے۔ اس کی مثالیں اُن کے مجموعہ کلام ’’شعلہ خیال‘‘ میں موجود ہیں۔ تعجب ہے کہ وِکی پیڈیا آزاد دائرہ معارف اسلامیہ میں اُن کی اس اہم کتاب کا نام سرے سے درج نہیں کیا گیا۔ انٹرنیٹ پر موجود، اُن کی یہ غزل ملاحظہ کیجئے، شاید میری بات کی تصدیق ہوجائے:

غزل ازنعیم صدیقی
اے عشقِ جنوں پرور! پھر سوئے حرا لے چل
اس خاکِ پریشاں کے ذروں کو اُڑا لے چل

سید محمد جعفری نے شعوری طور پر اقبالؔ کے کلام سے متعدد بار اکتساب کیا ہے۔ شاید وہ طنزومزاح گو شعراء میں اس بابت اولیت کے حامل ہیں۔ شاید اس لیے کہا کہ یہ ہیچ مَدآں اس طرح کے اُمُور میں کوئی کتابی یا دیگر مواد منضبط نہیں کرسکتا۔ اُن کا ’’ترانۂ دِلّی‘‘ بطور خاص قابل ِذکر ہے جو اُنھوں نے علامہ کے ترانہ ہندی وترانہ ملّی کی تضمین اور تحریف کرتے ہوئے ’’اُن کی رُوحِ پُرفتوح سے بہ صد معذرت‘‘ لکھا۔ اس ترانے کا اختتام یوں ہوتا ہے:

اقبالؔ کا ترانہ کہتا ہے جعفریؔ سے
اب تک ہے شہرِ دلّی، افسانہ خواں ہمارا

حیدرآباد، دکن (ہندوستان) کے اپنے وقت میں ممتاز شاعر اخترالزماں ناصرؔ نے 1946 میں علامہ اقبالؔ کے مشہور ’ترانہ مِلّی‘ کی بہت اچھی تضمین و تحریف کی تھی۔ ملاحظہ فرمائیں:

کٹیا نہیں میسر، ہندوستاںہمارا
ہم گھاٹ کے نہ گھر کے، سارا جہاں ہمارا
فاقوں کے سائے میں ہم پَل کر جواں ہوئے ہیں
ڈھانچہ ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا
مغرب کی وادیوں میں ڈوبی اذاں ہماری
تنکے سے رُک رہا ہے ، سیل ِ رواں ہمارا
اقبال ؔ کا ترانہ بے وقت کی اذاں ہے
ٹُوٹے بھی تو غلط ہے خواب ِ گراں ہمارا

(اقتباس از اخترالزماں ناصرؔ۔ میں اور میرے استاد، تحریر: حمایت علی شاعر۔ مشمولہ کھِلتے کنول سے لوگ از حمایت علی شاعرؔ۔ مارچ سن دوہزار)۔ حمایت صاحب کے ہم وطن، اردو کے نامور ڈرامانگارخواجہ معین الدین نے اپنے مقبول اسٹیج ڈرامے ’تعلیم بالغاں‘ کے لیے ’ترانہ ملی‘ کی تحریف کچھ اس طرح کی تھی:

چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
رہنے کو گھر نہیں ہے، سارا جہاں ہمارا
فاقوں کے سائے میں ہم پَل کر جواں ہوئے ہیں

(یہ مصرع یادداشت سے لکھ رہا ہوں، اگر درست ہے تو اول الذکر کی نقل ہے۔ س ا ص)

اَن پڑھ ہے اور جاہل، ہر نوجواں ہمارا

(زباں فہمی نمبر 46 بعنوان ’’گیرو، گیروا، تحریف گوئی‘‘، مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس، مؤرخہ اٹھارہ فروری سن دوہزار سترہ)

سید محمدجعفریؔ نے صرف بیس پچیس سال کی عمر میں ایسا شاہکار کلام، اردو اَدب کو دیا کہ اسلوب اور اثر دونوں اعتبار سے بے مثل ہے۔ اُس عہد شباب میں کہی گئی اُن کی نظم ’’الیکشن کا ساقی نامہ‘‘ میرحسنؔ کی مثنوی’سحرالبیان‘ اور علامہ اقبال کی مشہور اردونظم ’ساقی نامہ ‘ کی بحر میں ہے۔ اس نظم کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

اُٹھا نغمہ جمہور کے ساز سے
’’لڑادے ممولے کو شہباز سے‘‘
زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے
ہو پھر پارٹی بازیوں کی وہ جنگ
کہ حیرت میں ہو شیشہ بازِ فرنگ

٭٭٭

’’شرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا‘‘
وہی پہلی گڑبڑ مَچا ساقیا!

سید محمد جعفری کی نظم ’’وزیروں کی نماز‘‘ میں بھی رنگِ اقبالؔ بہت نمایاں ہے، جو بظاہر علامہ کی مشہور نظم ’’شکوہ‘‘ کی تحریف یعنیParodyمعلوم ہوتی ہے۔

پہلی صف میں وہ کھڑے تھے کہ جو تھے بندہ نواز+سلسلہ بھی تھا صفوں اور قطاروں کا دراز
قربِ حکام کے جویا تھے بہم جنگ طراز + آگیا عین لڑائی میں مگر وقت ِنماز
ایسی گڑبڑ ہوئی برپا کہ سبھی ایک ہوئے

’’بندہ وصاحب ومحتاج وغنی ایک ہوئے‘‘

مؤناتھ بھنجن، یوپی سے تعلق رکھنے والے مزاحیہ شاعر رحمت اللہ اچانکؔ نے چھٹے کُل ہند مشاعرے (بہ سلسلہ یوم جمہوریہ ہند۔ زیراہتمام انجمن محبان اردوہند۔ بمقام قطر۔ سن دوہزار بارہ) میں علامہ اقبال ؔ کی مشہور نظم ’دعا‘ ( ؎ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری) کی منظوم تحریف [Parody]یوں پیش کی:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی سیٹھ کی صورت ہو خدایا میری
ہو میرا کام امیروں کی حمایت کرنا
دردمندوں کی، ضعیفوں کی مرمت کرنا
بھائی بھائی میں لڑانے کا ہنر دے مجھ کو
لیڈروں کی طرح ، پتھر کا جگر دے مجھ کو
لہلہاتے ہوئے کھیتوں کو جلا کر رکھ دوں
آگ نفرت کی جہاں چاہوں لگاکر رکھ دوں
ہو میرے کام سے بدنام محلے والے
رات دن دیں مجھے دُشنام محلے والے
ہو میرے نام سے منسوب ’’حوالہ‘‘ یارب
منتری بن کے کروں، میں بھی گھوٹالہ یارب

یہ کلام شعری اعتبار سے عمدہ ہے اور اس میں کوئی سقم معلوم نہیں ہوتا، مگر اس کا دوسرا مصرع یا تو چربہ ہے ، مستعار ہے یا محض اتفاقاً توارد۔ یہ مصرع مدتوں پہلے کے نامور مزاح گو مجید ؔ لاہوری کی تخلیق ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر کا پہلا مصرع تو جوں کا توں، مجید لاہوری کا ہے، دوسرا بھی قدرے فرق سے انہی کا لیا گیا ہے۔ مجید ؔ لاہوری کے مجموعہ کلام نمک دان میں ایک پوری نظم بعنوان ’امیر بچے کی دعا‘ شامل ہے جو درحقیقت علامہ اقبال کی دعا کی تحریف ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی سیٹھ کی صورت ہو خدایا میری
لیاری کوارٹر میں مِرے دم سے اندھیرا ہوجائے
میرے چیمبر میں اُجالا ہی اجالا ہوجائے
ہو مِرے دم سے یونہی میرے کلب کی زینت
جس طرح چاند سے ہوتی ہے شب کی زینت
زندگی ہو مِری قارون کی صورت یارب
نیشنل بینک سے ہو مجھ کو محبت یارب
ہو میرا کام امیروں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے، غریبوں سے عداوت کرنا
میرے اللہ ! بھلائی سے بچانا مجھ کو
جو بُری راہ ہو ، بس اُس پہ چلانا مجھ کو

(زباں فہمی نمبر 46 بعنوان ’’گیرو، گیروا، تحریف گوئی‘‘، مطبوعہ روزنامہ ایکسپریس، مؤرخہ اٹھارہ فروری سن دوہزار سترہ)
اقبالؔ نے اشتراکیت اور اشتمالیت کے متعلق بہت کچھ کہا اور حسرتؔ موہانی کے برعکس وہ اس تغیر کے حامی نہ تھے۔ علامہ کے ہم خیال، ایک مستند شاعر رمزؔ کسمری (1903ء تا 1978ء ) نے اپنی نظم ’’اشتراکی‘‘ (تحریر:1949ء بمقام پٹنہ، ہندوستان) میں انھی جیسا انداز اختیارکیا:

جو خیال مُلحدانہ، تو مذاق سُوقیانہ
جو نِگاہ غاصبانہ، تو مزاج حاسدانہ
یہ جو اِشتراکیوں کا ہے شعار عامیانہ
تو نہ چل سکے گا اس پر کبھی چاردن زمانہ

(مجموعہ کلام ’’جرس‘‘، مرتبہ فرزند، سید مظفر حسین رزمیؔ)

اقبالؔ کے خوشہ چیں، خاطرؔ غزنوی جیسے منفرد، کثیرلسانی علم کے حامل سخنور نے ’’برہمن زادہ رمزآشنا کے حضور‘‘ کہہ کر اُنھیں خراج تحسین پیش کیا۔ اس کا ایک شعر ہے:

تِری نوا میں تھیں ذوقِِ خودی کی تنویریں
تِری صدا میں تھا حُسن ِ طلب کلیمانہ
(مجموعہ کلام ’’خواب دَرخواب‘‘)
ہمارے بزرگ معاصر پروفیسر محمد رئیس علوی کی ایک نظم ’’آدمِ نو‘‘ میں رنگِ اقبالؔ محسوس ہوتا ہے:
وہ اِک بگوُلہ جو بے تاب تھا، ٹھہر نہ سکا
تھی رہ گزارِ تمنائے زیست افسردہ
خرابِ وقت، خراب جہاں، خراب حیات
جنوں کے دش ، ہوائے خرد کے طوفاں میں
اُٹھائے ہاتھ میں قندیل ِ آبروئے کُہَن
بھٹک رہا ہے میانِ سراب و چشمہ ٔ ناب

(مجموعہ کلام ’’صدا اُبھرتی ہے‘‘)

اقبالؔ کے فلسفہ خودی کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا گیا اور لکھا گیا۔ بعض شعرائے کرام نے اس کی شعوری تقلید بھی کی۔ ڈھاکا، بنگلہ دیش میں مقیم میرے بزرگ معاصر اور فیس بک دوست، محترم احمدالیاس (پ 1934ء) نے اسکول کے دورِ طالب علمی میں شعرگوئی کا آغاز کیا تو علامہ اقبال کا فلسفہ خود ی پیش نظر تھا، لہٰذا اسی بابت طبع آزمائی سے ابتداء کی۔ فرماتے ہیں: ’’اسلامیہ ہائی اسکول کے سالانہ مشاعرے میں میری ملاقات علامہ جمیل ؔمظہری سے ہوئی جو مشاعرے کی صدارت فرما رہے تھے۔ یہ مشاعرہ 1952 میں منعقد ہوا تھا۔ اسکول کے طالب علموں کی جب باری آئی تو میں نے اپنی پہلی غزل پڑھی جس کا ایک شعر تھا:

خودی رہی جو سلامت تو کہہ سکوں گا کبھی
خدا ہے میرے لیے، میں نہیں خدا کے لیے
یہ شعر سُن کر جمیلؔ صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اساتذہ کے کلاموں کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کروں‘‘۔
اپنے عہد میں خاصے معروف، طنزومزاح گو شاعر میرزا محمودؔ سرحدی ]’’اکبر ؔ سرحد‘‘[(1913ء تا 1967ء) نے بھی گویا طنزاً کہا تھا:

ہم نے اقبالؔ کا کہا مانا
اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں
ہم خودی کو بلند کرتے رہے

مگر یہ تضمین ہے نا تحریف، فقط طنز ہے۔ ہمارے لڑکپن کی بات ہے کہ ایک دن ہم سے دوسال بڑی بہن (ہومیوڈاکٹر فرحت صدیقی )نے فی البدیہ شعر کہہ دیا:

خودی کو کر بلند اِتنا کہ خود K2 پہ جا پہنچے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا اُترے گا تو کیسے
اب معلوم نہیں کیسے یہ منفرد اور خود رَو قسم کی تحریف مشہور بھی ہوگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں