بھارتی آرمی چیف کو سوچ سمجھ کر بولنے کی ضرورت ہے:ڈاکڑ فیصل

رسائی نیوزنمائندہ خصوصی اسلام آباد:ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ طاہر داوڑ کے حوالے سے افغانستان نے کوئی معلومات نہیں دی، اس حوالے سے پاکستان میں تحقیقات جاری ہیں۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے بیان کے بعد ریکارڈ کی تصحیح کے لیے ٹویٹ کیے، پاکستان نے القاعدہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کیا۔ افغان طالبان سے امریکا کے براہ راست روابط سے آگاہ ہیں، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اجمل قصاب کے ڈومیسائل کا معاملہ میڈیا پر دیکھا ہے، بھارتی آرمی چیف کے بیان پر اتنا کہتے ہیں کہ سوچ کر بولنے کی ضرورت ہے تاہم ایسا بھارت کی طرف سے نظر نہیں آرہا، بھارت نے پاکستان کو انڈین اوشین نیول سمپوزیم میں جان بوجھ کر شرکت کی دعوت نہیں دی تاہم پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی سمیت تمام اہم معاملات پر مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے بیان کو مسترد کرتا ہے، بھارت اپنے داخلی مسائل میں پاکستان کا نام لیکر الیکشن میں فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے جب کہ کرتار پور پر اچھی خبر جلد سنائیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کرتے ہیں جب کہ یمن ثالثی کا معاملہ انتہائی حساس ہے تاہم اس پر پیش رفت ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں