طالبان بد لحاظ ہو گئے، پاک افغان سرحد بند کر دی

پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر خار دار تار لگانے کا منصوبہ مکمل کیے جانے کے بعد افغان طالبان نے چمن بارڈر پر سپین بولدک کے مقام پر پاک افغان سرحد کو ہر طرح کی تجارتی آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ جب تک پاکستان افغان پناہ گزینوں کو آمدورفت کی اجازت نہیں دے گا، پاک افغان سرحد ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ یاد رہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے پیش نظر پاکستان نے پہلے ہی افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا ہے تاکہ وہاں سے افغان مہاجرین کی آڑ میں افغان طالبان واپس پاکستان میں داخل نہ ہو پائیں۔ اب افغان طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس تمام مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، یہ سرحد بند رہے گی۔ اس حوالے سے افغان طالبان کے قندھار کے کمشنر حاجی وفا کی جانب سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا ہے جس میں پک افغان سرحد کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔ پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد پاکستان اور افغانستان آنے جانے والے تمام افراد کے لیے بند کی جاتی ہے۔ سرحدی بندش کے حوالے سے طالبان کی جانب سے مذید کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان ان افغان پناہ گزینوں کے لیے سرحد نہیں کھول دیتا جن کے پاس مہاجر کارڈ یا سفری اجازت نامہ موجود ہو تب تک سرحد کو نہیں کھولا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صبح سے شام تک بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین سرحد پر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب پاکستان کی جانب جانے والا راستہ کھولا جاتا ہے تاکہ وہ پاکستان جا سکیں۔‘

یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد کچھ عرصے سے لوگوں کے آمدو رفت کے لیے بند ہے اور صرف ٹرکوں کے ذریعے تجارتی سامان کی ترسیل کی اجازت ہے۔ روزانہ چمن اور سپین بولدک کے درمیان سرحد صرف چند گھنٹوں کے لیے عام لوگوں کی آمدو رفت کے لیے کھولی جاتی ہے۔ لیکن افغان طالبان نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان مہاجرین کی آمد و رفت کے لئے پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر کھولا جائے ورنہ سپین بولدک میں ویش کے مقام پر پاک افغان بارڈر تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور تجاری سامان کے لیے بند رہے گا۔ اس معاملے پر افغان طالبان کے افغانستان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ سرحد اب بند ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغان طالبان نے کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے سرحد مکمل کھول دی جائے کیونکہ اب سرحد صرف تین گھنٹوں کے لیے کھولی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں افغان عوام انتظار کرتے رہتے ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر علاج کی غرض سے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جب تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے تو اس میں اکثر لوگوں کو واپس کر دیا جاتا ہے کہ انکے کارڈ صحیح نہیں ہیں اور کاغذات مکمل نہیں۔ اس لیے اب مجبوراً طالبان نے یہ سرحد مکمل طور پر بند کر دی ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

طالبان نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ جب پاکستان کی جانب سے سرحد مکمل طور پر کھول دی جائے گی تو افغان طالبان بھی اپنی سرحد کھولنے کا اعلان کر دیں گے۔ کوئٹہ کے سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں اور وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان ویش منڈی طورخم کی طرح ایک اہم گزرگاہ ہے۔ طورخم کی طرح یہاں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان روزانہ لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کراچی سے افغانستان کے لیے گاڑیاں اور دوسرے غیر ملکی اشیا آتی ہیں، ان کو بارڈر کراس کروانے کے بعد ویش منڈی میں رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منڈی کے باعث بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے روزانہ سینکڑوں پاکستانی تاجر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی بھی آمد و رفت ہوتی ہے اور اسکے بند ہونے صرف پاکستانی تاجروں کو ہی نہیں بلکہ افغان تاجروں کو بھی نقصان ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں