شنگھائی میں پاکستانی آموں کی نمائش، قونصل جنرل حسین حیدر کا دورہ

پاکستانی آم ، جو کبھی بہت سے چینی لوگوں کے لیے نایاب تھا ، اب چین کے دریا یانگسی کے ڈیلٹائی خطے کے انضمام میں ترقی کے ساتھ چین کی صارف منڈی میں پہنچنے کے لئے بے تاب ہے۔شنگھائی میں پاکستانی قونصل جنرل حسین حیدر نے رواں ہفتے میں پاکستانی آم کی مقبولیت میں اضافے کے لئے شنگھائی کے مرکزی کاروباری ضلع ہانگ چھیا کا خصوصی دورہ کیا جسے دریائے یانگسی کے ڈیلٹاکا دل کہا جاتا ہے۔حسین حیدر نے کہا کہ پاکستان میں اعلی معیار کا آم پیدا ہوتا ہے جو 100 سے زائد ممالک اور علاقوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔منفرد معیار کی مٹی، درجہ حرارت اور آم اگانے کی ایک طویل تاریخ نے پاکستانی آم کے ذائقے اور خوشبو کو منفرد بنا دیا ہے۔ پاکستان میں اسے “پھلوں کا بادشاہ” سمجھا جاتا ہے۔ہانگ چھیاو امپورٹ کموڈیٹیزنمائش وتجارت مرکز میں ایک خصوصی پروموشن سیشن کا انعقاد کرتے ہوئے حسین حیدر نے کہا کہ آم صرف ایک پھل نہیں بلکہ پاکستان کی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ گرمیوں کے موسم میں جب لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملتے ہیں تو وہ انہیں آم کا تحفہ دیتے ہیں۔ پاکستانی آم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید میٹھا کرے گا اور چینی صارف مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کرے گا۔ایک مقامی صارف وانگ جوآن نے شنگھائی کے ہمسائیہ صوبے جیانگسو میں اپنے خاندان کے لئے چونسہ آم کا فوری آن لائن آرڈر دیتے ہوئے کہا کہ چونسہ آم انتہائی میٹھا اور منفرد خوشبو کاحامل ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میرے خاندان کے افراد بھی اسے کھائیں۔حسین حیدر نے بتایا کہ چونسہ آم پاکستان میں پائی جانے والی اس پھل کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ مشہور ہے،جو باقی اقسام کے مقابلے میں زیادہ خوشبودار، زیادہ میٹھا،پتلے چھلکے کے ساتھ سائز میں چھوٹا ہوتا ہے۔تاہم ، نقل و حمل کی دشواریوں کی وجہ سے ، پاکستانی آم اب بھی دریائے یانگسی کے ڈیلٹا کے علاقے کے رہائشیوں کے لئے ایک نئی چیز ہے۔حسین حیدر نے بتایا کہ آم کے پکنے کا موسم جون سے اگست تک ہوتا ہے ، اس لئے پاکستانی آموں کی ہر سال نومبر میں چائنہ انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (سی آئی آئی ای) کے 6 روزہ ایونٹ میں نمائش کرنا مشکل ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہانگ چھیاو امپورٹ کموڈیٹیزنمائش وتجارت مرکز کے تعاون سے ایکسپو کے “6 +365 دن” کے غیر محدودمدت کی نمائش اور تجارتی ڈسپلے کی سہولت سے پاکستانی آم سی آئی آئی ای کی اس خصوصیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ہانگ چھیاو امپورٹ کموڈیٹیزنمائش وتجارت مرکزسے منسلک ژو جنگ نے کہا کہ شنگھائی اور جیانگسو کے قریبی شہر سوزہو میں بیک وقت پروموشن سیشن منعقد کرنے سے پاکستانی آم علاقے کے گھرانوں تک اپنے سفر میں تیزی لائیں گے۔چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 2021 میں 70 سال ہوگئے ہیں۔ یہ خصوصی پروموشن سیشن شنگھائی میں پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے شنگھائی میونسپل حکومت ، شہر کے کاروباری اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی جانے والی تقریبات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ژو جنگ نے کہا کہ ہانگ چھیاو امپورٹ کموڈیٹیزنمائش وتجارت مرکز بھی اس حوالے سے بھرپور سرگرمیوں کا انعقاد کرے گاجن میں بزنس ڈاکنگ ، ٹرائل ٹیسٹنگ سیشن ، لائیو اسٹریمنگ پروموشن سیشن اور ثقافتی پروموشن شامل ہیں ،ان سرگرمیوں سے چین میں پاکستانی آم کی فروخت میں اضافہ ہوگا۔شنگھائی اور ہمسائیہ جیانگ سو ، ژی جیانگ اور آنہوئی پر مشتمل دریائے یانگسی کے ڈیلٹاکے خطے کو طویل عرصے سے چین کے معاشی طور پر فعال ، کھلے اور جدید علاقوں میں سے ایک خیال کیا جاتا ہے۔فروری 2021 میں ، ہانگ چھیاو انٹرنیشنل اوپن حب کی تعمیر کا مجموعی منصوبہ جاری کیا گیا ، جس سے یہ علاقہ ایک بار پھر کھلے پن اور انضمام کے حوالے سے چین کی شناخت بن گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں